علی گڑھ میں قدیم قبرستان میں چلی جے سی بی مشین، قبروں کو کیا گیا مسمار

Share Article

 

علی گڑھ کے تھانہ دہلی گیٹ کے تحت کھیرر وڈ پرنگلہ مہتاب میں واقع اسرائیلی برادری کے پشتینی قدیم قبرستان میں جل نگم کے ذریعہ گڈھا کھودنے کے نام پر پرانی قبروں کو مسمار کردیا گیا۔جس سے مسلمانوں میں زبردست اشتعال ہے ،مذکورہ قبرستان میں 200سال سے بھی زائد پرانی قبریں موجود ہیں مذکورہ برادری سے متعلق افراد کی تدفین کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ آج صبح جل نگم کے انجینئر اشوک اگروال کے ذریعہ قبرستان کے گیٹ کو توڑ کر جے سی بی مشین سے گڈھا کھودنا شروع کردیا جس میں ایک صدی سے بھی پرانی متعدد قبریں متاثر ہوئی ہیں۔جیسے ہی یہ اطلاع علاقہ کے لوگوں کو ہوئی دیکھتے ہی دیکھتے موقع پر بھیڑ جمع ہوگئی اور ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔اطلاع پر مونسپل کونسلر مشرف حین محضر بھی پہنچ گئے اور مقامی لوگوں کے ساتھ مذمت کرتے ہوئے کام کو رکوایا ،ہنگامہ کی اطلاع پر علاقہ پولس اور ایس ڈی ایم بھی موقع پر آگئے جہاں مقامی لوگوں کے ساتھ اسرائیلی برادری کے افراد نے بتایا کہ یہ ہمارا پشتینی قبرستان ہے اس میں بغیر اجازت یہ لوگ گڈھا کھود رہے ہیں اور قبروں کو مسمار کیا گیا ہے۔

 

 

مونسپل کونسلر مشرف حسین محضر نے جل نگم کے ذریعہ کی گئی اس کاروائی کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کاروائی نے مسلمانوں کے جذبات کو شدید مجروح کیا ہے۔ انھوں نے مذید کہا کہ آج صبح ہمارے ساتھی نعیم اسرائیلی نے بتایا تھا کہ یہاں قبرستان میں اس طرح کی جبریہ کاروائی کی جارہی ہے جس کے بعد ہم لوگ یہاں پہنچے ہیں انھوں نے کہا کہ مذکورہ قبرستان میں مسلمانوں کے جیّد علمائ￿ اکرام کی قبریں ہیں جس میں ہمارے شہر مفتی اسد اللہ صاحب کے والد اور قاضی شہر محمد اجمل کے علاوہ بڑے بڑے علمائ￿ اکرام کی قبریں موجود ہیں۔ اس طرح بلا کسی اجازت کے قبرستان کے احاطہ کو توڑ کر قبروں کی بے حرمتی کسی بھی طرح برداشت نہیں کی جائے گی۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر مسمار کی گئی قبروں کو از سرِ نو تعمیر کرایا جائے اور متعلقہ انجینئر اشوک اگروال اور جل نگم کے دیگر ملازمین کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے ،اسرائیلی سماج کے فرد محمد وسیم اسرائلی نے بتایا کہ تھانہ دہلی گیٹ میں ہم لوگوں کی جانب سے کی گئی رپورٹ پر پہنچی پولس نے فوری طور پر کام کو رکوا دیا ہے اور جانچ کرنے کی بات کہہ رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *