دہشت گرد کا بھائی تھا 10ویں پاس عادل، ایسے بنا جیش محمد کا فدائین

Share Article

 

کشمیر کے تین دہائی کی تاریخ میں پلوامہ جیسا خودکش حملہ نہیں ہوا۔ جعرات کو کشمیر کے پلوامہ میںہوئے دہشت گردانہ حملے کا مقامی خودکش یا حملہ آور کے روپ میں ایک اور خطرناک پہلو سامنے آیا۔

 

आतंकी का भाई था 10वीं पास आदिल, ऐसे बना जैश का फिदायीन

جمعرات کو دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے دہشت گرد عادل احمد ڈار نے پلوامہ کے لیش پورا گائوں سے گزر رہی سی آر پی ایف جوانوں کی بس میں دھماکہ خیز سے بھری اپنی گاڑھی ٹھوک دی اور دھماکہ میں 40ہندوستانی جوان شہید ہوگئے۔
عادل پلوامہ کے کاکاپورا گائوں کا رہنے والا تھا۔ جس جگہ پر حملہ ہوا، ڈار اس سے صرف 10کلومیٹر کی دوری پر گنڈی باغ میں رہتاتھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق 200مقامی نوجوان پچھلے سال دہشت گرد تنظیم میں شامل ہوئے لیکن دہشت گرد عادل فدائین بن کر نکلا۔ عادل دوسرا کشمیری فدائین ہے اس سے پہلے سری نگر کے آفاق شاہ نے 2000میں فوج کے 15کارپر ہیڈکوارٹر میں اسی طرح سے خود کش حملے کو انجام دیا تھا۔

 

आतंकी का भाई था 10वीं पास आदिल, ऐसे बना जैश का फिदायीन

کشمیر میںہوئے زیادہ تر فدائین حملے میں پاکستانی دہشت گرد شامل رہے ہیں۔عادل نے حملے سے پہلے ایک ویڈیو بھی ریکارڈ کیا تھا۔ 10منٹ کے اس ویڈیو کو جیش نے پلوامہ حملے کے بعد جاری کیا۔ اپریل میں جیش میں شامل ہونے والا عادل ویڈیو کلپ میںکہتا ہے، جب آپ اس ویڈیو کو دیکھ رہے ہوں گے، میں جنت میں رہوں گا… کشمیریوں تمہیں سلام کرتاہوں کہ لاکھوں لاشیں دیکھ کر بھی تمہارا دل نہیں پگھلا۔

 

आतंकी का भाई था 10वीं पास आदिल, ऐसे बना जैश का फिदायीन

ویڈیو میں عامل کہتا ہے میں نےپچھلے سال جیش فدائین جائن کیا تھا اور اب اپنے وعدے کو پورا کرنے کا وقت آگیا ہے۔وہ آگے کہتا ہے، مجھے فخر ہے… میں اسلام کاسچا داعی ہوں اور میرا نام سنہرے لفظوں میں لکھا جائے گا۔ عادل ویڈیو میں کہتا ہے کہ وہ جیش محمد کی فدائین ٹکڑی میں خاص مقصد سے ہی شامل ہوا تھا۔

 

आतंकी का भाई था 10वीं पास आदिल, ऐसे बना जैश का फिदायीन

اس نےیہ بھی کہا کہ جلد ہی بابری مسجد اور ایودھیا میں اللہ اکبر کی آواز گونجے گی۔ ویڈیو کے آخر میں ڈار نے پلوامہ آئی ئی ڈی حملے کو شروعات بتایا۔ پولیس ذرائع کے مطابق، عادل نے کلاس 10تک ہی پڑھائی کی تھی اور وہ دہشت گرد بننے سے پہلے ایک مل میں کام کیا کرتا تھا۔ جمعرات کو خود کش حملے کو انجام دینے سے پہلے وہ کسی بڑے حملے میںش امل نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ پولیس نے اس کانام “C-cageroy militantمیں رکھا تھا۔12کلاس ڈراپ آئوٹ عدال پڑوسی کی ایک مل میں کام کرتاتھا۔ پچھلے سال مارچ مہینے میں اس نے اپنا گھر چھوڑ دیا اور گھاٹی میں دہشت گردوں کی تنظیم میں شامل ہو گیا تھا۔ اس کے والد غلام حسن ڈار وینڈر ہیں۔رپورٹ کے مطابق، عادل نے 19مارچ 2018کو اپنا گھر چھوڑ دیا تھا اور اس کے بعد پھر کبھی نہیں لوٹا، کشمیر یونیورسٹی میں جیولوجی سے پوسٹ گریجویٹ کر رہا اس کا دوست سمیر احمد بھی اسی دن سے لاپتہ ہو گیا تھا۔

 

आतंकी का भाई था 10वीं पास आदिल, ऐसे बना जैश का फिदायीन

 

عادل کے پریوار نے مقامی پولیس تھانے میں گم شدگی کی رپورٹ درج کرائی لیکن ان کی تلاش کچھ دنوں بعد ہی ختم ہو گئی۔ سوشل میڈیا پرAK-47لہراتے ہوئے اسکی تصویر تیرنے لگی تھیں۔ اسے وقاص کمانڈو کا لقبدیا گیا تھا۔ڈار کے والد غلام حسن ڈار نے انڈین اکسپریس سے بات چیت میں کہا گھر چھوڑنے کے بعد وہ ہم سے صرف بار ملا تھا۔ اس کا چچا زاد بھائی بھی دہشت گرد تھا جو عادل کو تنظیم میں جوڑنے سے 11دن پہلے ہی مارا گیا تھا۔ پریوارکے مطابق 2016میں حزب المجاہدین کے دہشت گرد برہان وانی کے مارے جانےکے بعد گھاٹیمیں ہو رہے مظاہرے میں بھی عدال نے حسہ لیا تھا۔ مخالفت کے دوران اسے پیر میں گولی لگی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *