کیا کنگنا رنوت میڈیا کو گالیاں دے کر اور حب الوطنی کی نظمیں پڑھ کر اپنی دکان چلانا چاہتی ہیں؟

Share Article

 

بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رنوت اور صحافیوں کے درمیان تنازعہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ بلکہ ان جھگڑے نے اور بھی زیادہ آگ پکڑ لی ہے۔ یہ کنٹروورسي اس قدر بڑھ گئی ہے کہ انٹرٹینمنٹ گلڈ آف انڈیا نے کنگنا رنوت کے غلط رویے اور بات چیت کے سبب انہیں بین کر دیا۔ جسے لے کر پہلے تو کنگنا کی بہن رنگولی نے غدار، ننگی ایسے کئی قابل اعتراض لفظ استعمال کرکے میڈيا کو بھلابرا کہا۔

#KanganaRanaut ABUSING Indian Media For Her Recent Fight With Journalist Controversy! 😱😡😳

Viral Bollywood यांनी वर पोस्ट केले बुधवार, १० जुलै, २०१९

اب ایسے میں رنگولی کے بعد میڈم کنگنا نے سوشل میڈیا پر ایسا ویڈیو کا شیئرکیا ہے، جسے دیکھ کر تو ہنسی اور غصہ دونوں آ جائے گا۔ اس کے بعد، کنگنا کو ہو کیا گیا ہے؟ جس میڈيا کی وجہ سے انہوں نے کامیابی کی سیڑھیاں چڑھي ابھی انہی میڈيا والوں کو پانی پی پی کر کوس رہی ہے۔ میڈيا نے کنگنا کی ان حرکتوں کی وجہ سے معافی مانگنے کو کہا تھا۔ ابھی الٹے کنگنا نے معافی باجي یہ ویڈیو جاری کیا ہے۔ وہ صحافیوں کو ہی ‘غدار بلکہ ‘دوغلی باتیں کرنے والا اور ‘چند روپیوں میں فروخت ہونے والا، سڑے ہوئے صحافی ‘بتایا ہے۔ اس کے علاوہ کنگنا رنوت نے اپنے ویڈیو میں کسی جرنلسٹ کا نام نہ لیتے ہوئے ان پر بہت سنگین الزام بھی لگائے ہیں۔

Image result for kangana ranaut vs media

ویڈیوز دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ، کنگنا میڈيا پر بہت ہی زیادہ بھڑکی ہوئی ہیں۔ جس میڈيا کی وجہ سے آج وہ ٹاپ اداکارائیں بنی ہوئی ہیں۔ (جیسا کہ کنگنا نے اپنے ویڈیو میں کہا)، آج وہ اسی میڈيا کو گالي گلوچ کرکے ان ٹچا بتا رہی ہے۔ اس ویڈیو میں کہتی ہوئی سنائی دے رہی ہے، انہیں بین سے کوئی بھی فرق نہیں پڑتا ہے۔ دیکھا جائے توکنگنا اور ان کی بہن رنگولی آئے دن کسی نہ کسی ڈائریکٹر اور ایکٹر کو سوشل سائٹوں یا پھر میڈیا کے ذریعے نشانہ بناتی رہتی ہے۔ اب تو ان کے بیچ صحافیوں کو بھی کنگنا اور ان کی بہن رنگولی بخش نہیں رہی ہے۔ ویسے یہ هرتك روشن، عالیہ بھٹ، تاپسي پنوں،کرن جوہر اور فلم انڈسٹری کی کئی بڑی شخصیات پر ہمیشہ آپ کی کڑوی بولی اور قابل اعتراض الفاظ کا استعمال کرتی ہوئی نظر آئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *