راجا سید محمد باقر علی خاں آف پنڈراول کی قدیم کتاب’ محاکمۃ الاسلامیہ‘ کا اجراء

Share Article
book
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ایڈمنسٹریٹیو بلاک کانفرنس ہال میں ایک پروقار تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے دیگر معززین کے ہمراہ راجا سید محمد باقر علی خاں آف پنڈراول کی قدیم کتاب’ محاکمۃ الاسلامیہ‘ کا اجراء کیا۔ تقریب آل انڈیا سرسید میموریل سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقد ہوئی جس کی صدارت سوسائٹی کے صدر راجہ ایس ایم رضا علی خاں آف پنڈراول نے کی۔ پروفیسر طارق منصور نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ راجا سید محمد باقر علی خاں ، بانئ درسگاہ سرسید احمد خاں کے بے حد قریبی رفیق تھے، اور انھوں نے سرسید کی تعلیمی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وہ ایم اے او کالج کے ٹرسٹی اور مینجمنٹ کمیٹی کے رکن رہے۔ وہ سرسید کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہے اور انھوں نے کالج کے قیام سمیت سائنٹفک کمیٹی اور تعلیمی تحریک میں بنیادی رول ادا کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کا بھی کام کیا۔

پروفیسر منصور نے کہاکہ سبھی مذاہب کے پیروکاروں کو ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہئے۔ سرسید نے ہندومسلم اتحاد کی وکالت کی ، آج بھی اس کی ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے کے خیالات کو سمجھیں اور احترام کریں۔ انھوں نے کہاکہ راجا باقر علی خاں جیسے محسنین کو ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔ وائس چانسلر نے آل انڈیا سرسید میموریل سوسائٹی کو پروگرام کے انعقاد کے لئے مبارکباد پیش کی۔کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر فرحت اللہ خاں نے ایم اے او کالج کے قیام کے حالات اور علی گڑھ تحریک پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انھوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ ہمیں اپنے محسنین کو یاد کرتے رہنا چاہئے کیونکہ اس سے نہ صرف ہماری تاریخ تازہ ہوتی ہے بلکہ حوصلہ و ہمت بھی بلند ہوتا ہے۔ سوسائٹی کے نائب صدر ،کمیونٹی میڈیسن شعبہ کے چیئرمین پروفیسر علی امیر نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا۔ انھوں نے ہی ’محاکمۃ الاسلامیہ‘ کتاب کا انگریزی اور ہندی میں ترجمہ کیا ہے ۔

تقریب کی نظامت کرتے ہوئے آل انڈیا سرسید میموریل سوسائٹی کے جنرل سکریٹری مسٹر سید حیدر علی خاں اسد نے بتایا کہ ’محاکمۃ الاسلامیہ‘ کی پہلی اشاعت ۱۸۸۵ ء میں خود راجا باقر علی خاں کے زمانے میں ہوئی تھی۔ بعد میں جب ایم اے او کالج کو یونیورسٹی بنانے کی تحریک چل رہی تھی تب ضرورت کا احساس کرتے ہوئے جناب سید محمد حسین تعلقدار ریاست ترکی پورہ باس نے اسے دوسری بار1912 میں شائع کیا۔ رسم اجراء تقریب سے پروفیسر تصدق حسین اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر پروفیسر ایم یو ربانی، مفتی زاہد علی خاں، پروفیسر سید علی ندیم ریضاوی، نواب نسیم وارث، پروفیسر نسیم احمد، پروفیسر نعیم احمد خاں، پروفیسر ایس لطیف حسین شاہ کاظمی،پروفیسر ایم محسن خاں، پروفیسر شاداب خورشید، مسٹر خورشید احمد خاں، ڈاکٹر ایم نوید خاں، ڈاکٹر راحت ابرار، اے ایم یو کورٹ ممبر نواب جاوید سعید، ڈاکٹر علی جعفر عابدی وغیرہ موجود تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *