جس طرح چیزیںسامنے آرہی ہیں،ان سے یہ واضح ہوتا جارہا ہے کہ نریندر مودی سرکار نے جتنے جدید اعلانات کیے یا انھیں نافذ کرنے کی کوشش کی، وہ یا تو کم کارگر ثابت ہوئے یا ان سے کچھ بھی حاصل نہیںہوا۔ سب سے حالیہ واقعہ ریزرو بینک آف انڈیا کا ہے۔ ریزرو بینک نے کہاہے کہ نوٹ بندی کے بعد 99 فیصد کرنسی نوٹ واپس آگئے ہیں۔ اس دوران ریزرو بینک یہ کہتا رہا کہ نوٹوں کی گنتی کا کام چل رہا ہے اور اس میںوقت لگے گا۔ اب ریزرو بینک نے کہا ہے کہ 99 فیصد پرانی کرنسی بینک میںسسٹم میںواپس آگئی ہے اور باقی کی گنتی جاری ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ 100 فیصد سے زیادہ کرنسی بینکوں میں واپس آئی ہے۔ یہ بہت ہی حساس موضوع ہے۔ اس موضوع سے بہت ہی بے ڈھنگے طریقے سے نمٹاگیا۔ وزیر خزانہ اور ریزرو بینک گورنر سے ملک یہ امید کرتا ہے کہ وہ اپنا کام زیادہ ذمہ داری سے کریں گے۔ یہ ایسے موضوع نہیںہیں کہ جن پر بہت زیادہ بیان بازی کی ضرورت ہے۔ اب 98 فیصد نوٹ واپس آئے یا 99 فیصد واپس آئے، اس سے عام آدمی کی زندگی پر کیا فرق پڑتا ہے؟ اس نے اپنے نوٹ پہلے ہی بدل لیے ہیںاور زندگی نئے نئے نوٹوںکے ساتھ پہلے کی طرح چل رہی ہے۔
یہ ماہر اقتصادیات،ریزرو بینک اور وزارت خزانہ کے غور کرنے کے موضوع ہیں، نہ کہ عوامی طور پر بیان جاری کرنے کے۔ لیکن بدقسمتی سے وزیر اعظم نے لال قلعہ کی اپنی تقریر میںکہا تھا کہ تین لاکھ کروڑ روپے واپس آگئے ہیں۔ مجھے نہیںلگتا کہ یہ جو باتیںکررہے ہیں،اس کے نتیجے کو سمجھتے ہیں۔ بہرحال جیسا کہ میںنے پہلے کہا کہ اس طرح کے مائیکرواکانومک سے متعلق موضوعات پر عوامی بحث کاکوئی مطلب نہیںہے۔ اگر آپ لوگوں کوسوچھ ابھیان،ٹائلٹ کی تعمیر،اجول یوجنا کے تحت ایل پی جی کی تقسیم کے بارے میںعوامی طور پر اعلان کرتے ہیں تو اس میںکوئی برائی نہیںہے۔ اس میںبھی کوئی برائی نہیںہے، اگر وزیر اعظم پرانی اسکیموںکو نئے ناموںسے جاری کریں۔ لیکن اہم اقتصادی معاملوں جیسے مالیاتی خسارے یا ریونیو خسارے کے نکات کو عوام کو سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسا کرکے آپ یا تو ملک میںجو واقعات رونما ہورہے ہیں، ان سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں یا پھر آپ نے سوچ لیا ہے کہ عوام اچانک اتنے ہوشیا ر ہوگئے ہیںکہ وہ سنگین اقتصادی معاملوں پر بحث کرسکیں۔
یہ بے معنی محنت ہے۔ میرے حساب سے ایک مثبت خطرہ یہ ہے کہ اگر فی الحال نہیںتو آنے والے چار پانچ سال میںلوگ ہماری کرنسی میںیقین چھوڑدیں گے۔وہ دن ملک کے لیے بہت ہی افسوس ناک دن ہوگا۔ ایسا کئی افریقی ممالک میںہوچکا ہے۔ ہمارے ملک میںیہ نہیںہونا چاہیے۔یہ چیز پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی میںدیکھنے کو ملی، جہاں کانگریس صدر بھی موجود تھیں۔ کانگریس، ریزرو بینک کے گورنر کو گھیر رہی تھی کہ وہ نوٹ بندی سے متعلق اعداد و شمار جاری کرے۔ منموہن سنگھ،جو وزیر اعظم اور وزیر خزانہ رہ چکے ہیں اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے ممبر بھی تھے، انھوںنے مداخلت کی۔ انھوں نے کہا کہ ریزرو بینک کے گورنر کو ان سوالوں کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ اہم نہیں کہ سرکار کس کی ہے۔ یہ ملک ہمارا ہے۔ ہمیں ذمہ داری کے ساتھ برتاؤ کرنا چاہیے منموہن سنگھ اس بیان کی اہمیت سمجھتے تھے۔ اگر ریزرو بینک کے گورنر کو کچھ کہنا ہے تو یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ عوامی طور پر کہے۔ اس سے ملک کو نقصان ہوگا۔ ہر شخص ووٹ کے بارے میںسوچ رہا ہے۔ دو راراکین اسمبلی کے ووٹ کے لیے چھ وزیر صبح کے 4.30 بجے تک الیکشن کمشنر کو جگائے رکھتے ہیں۔ یہ لوگ ہمارے سیاسی نظام کے اعتبار کو قابل قبول سطح سے نیچے گرا رہے ہیں۔ اسے بند ہونا چاہیے۔
اسی طرح سے ڈوکلام کا معاملہ ہے۔ ہندوستان، چین اور بھوٹان کے تکون پر جون کے مہینے سے تناؤ ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اس مقام پر اس طرح کا مسئلہ پیدا ہوا۔ کسی نہ کسی طرح اس مسئلے کو سلجھالیا گیا ہے۔ کیسے؟ ہمیںمعلوم نہیں، کیونکہ ہندوستان الگ بیان دے رہا ہے،چین الگ بیان دے رہا ہے۔ میرے خیال سے جب تک دونوں ملکوںکی فوجیںایک دوسرے کے آمنے سامنے نہ ہوں، تو اپنا وقار بچانے کے لیے دونوں یہی کہیںگے کہ ان کا پلڑا بھاری رہا۔ بین الاقوامی ڈپلومیسی میںیہ جائز ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ ڈپلومیٹک راستے سے مسئلے کا حل ہوگیا۔

 

 

 

 

داخلہ سکریٹری گزشتہ دنوں ریٹائرہوگئے۔ انھوںنے ریٹائرمنٹ سے قبل ایک انٹرویو دیا۔ انھوںنے کہا کہ چنڈی گڑھ میں جو کچھ ہوا، اس کے لیے ریاستی سرکار کو قصوروار نہیں ٹھہرا سکتے۔یہ کہنے میںکوئی خامی نہیںہے،یہ عام باتیں ہیں۔ یہ باتیںاس لے ہورہی تھیںکہ ان کو الیکشن کمشنر بنائے جانے کی افواہیں پھیل رہی تھیں۔ حالانکہ ، اب انھیںہندوستان کا آڈیٹر جنرل (کیگ) مقرر کردیا گیا ہے۔ بی جے پی نے سوچا کہ اچل کمار جیوتی، جو پہلے گجرات کے چیف سکریٹری تھے، ان کے اشاروں پر کام کریں گے لیکن انھوںنے ایسا نہیںکیا۔ الیکشن کمشنر کی حیثیت سے انھوں نے دو اراکین اسمبلی کے ووٹ کو (گجرات راجیہ سبھا انتخاب کے وقت) غیر قانونی قرار دیا،جس کی وجہ سے احمد پٹیل الیکشن جیت گئے۔ اب بی جے پی اس کشمکش میںہے کہ وہ کس پر بھروسہ کرے؟ بی جے پی نے سوچا کہ جس طرح انھوںنے کارپوریٹ سیکٹر، میڈیا کو خرید لیا،ویسے ہی وہ الیکشن کمیشن اور نوکر شاہی کو بھی خرید لے گی۔ مجھے خوشی ہے کہ نوکر شاہی نے یہ اشارہ دے دیا کہ اسے خریدا نہیںجاسکتا ہے۔
یہ ملک بہت بڑا ملک ہے۔ بی جے پی کے یہ کہنے میںکوئی حرج نہیں ہے کہ 70 سال میںکانگریس نے ملک کو برباد کردیا، اسی لیے بی جے پی الگ پارٹی ہے۔ وہیںکانگریس بھی یہ کہہ سکتی ہے کہ پانچ سال میںبی جے پی نے ملک کو برباد کر دیا۔ لیکن یہ سب الیکشن کے چھ مہینے تک چلنا چاہیے،اس کے بعد آپ کو سنجیدگی سے کام کرنا چاہیے۔ ملک وہیںرہے گا، مسائل بھی وہیںرہیںگے اور ان مسائل کے حل کا طریقہ بھی وہی رہے گا۔ ہندوستان جیسے بڑے ملک میںآپ کچھ بہت زیادہ الگ نہیں کرسکتے ہیں۔ حکومت کے حساب سے ہندوستان ایک پیچیدہ ملک ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے سوچا کہ وہ تین مہینے میںپورے امریکہ کو بدل دیں گے۔ انھیں پہلے یہ سمجھ میںنہیں آیا کہ وہ بہت کچھ نہیںکرسکتے ہیں ۔ انھوںنے غیر قانونی دراندازی کے حل کے لیے دیوار بنانے کی ایک عام تجویز دی۔ ہندوستان میںاسی طرح کے کام ہورہے ہیں۔ سوچھ بھارت ایک بہت ہی آدرش خیال ہے۔ لیکن یہ ایک این جی او کا کام ہے، وزیر اعظم کا نہیں۔ انھیں ملک کو سوچھ کرنے کا کام این جی او کے حوالے کردینا چاہیے۔ سوچھ بھارت میںانھوں نے مہاتما گاندھی کو علامت کے طور پر استعمال کیا۔یہ ایک بہتر خیال تھا۔ لہٰذا یہ سنگین مسئلہہے، اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ اور جہاںتک نوٹ بندی کا سوال ہے، تو یہ اب ثابت ہوگیا ہے کہ انھوںنے (وزیر اعظم) ، وہ کام کرنے کی کوشش کی، جو وہ نہیں کرسکتے تھے۔ انھوںنے اپنے وزیر خزانہ اور دیگر متعلقہ لوگوںکو اعتماد میںلیے بغیر فیصلہ کرلیا۔ انھیں لگا کہ اس فیصلے سے وہ ہندوستان کے ’مہان رکشک‘ بن جائیںگے۔
کارپوریٹ سیکٹر سے تعلق ہونے کے ناتے میںبہت ہی ذمہ داری سے یہ بات کہوںگا کہ بلیک منی کا متبادل ملک کو کہیںبھی نہیںلے جائے گا۔ یہ ایسا مسئلہ نہیں جو آج ہی پیدا ہوا ہو۔یہ مسئلہ کسی ایک شخص کے ذریعہ پیدا نہیںکیا گیا ہے۔ بی جے پی بھی ملک کے اقتدار میںآتی جاتی رہی ہے۔ اس دوران بھی بلیک منی بنتا رہا۔ غیر ملکی کھاتوںمیںجو پیسے ہیں ، اسے لے کر وزیر اعظم یا وزیر خزانہ کے ذریعہ کچھ اعداد و شمار جاری کیے گئے۔ کہا گیا کہ اتنے لاکھ کروڑ ہیں،اسے ہم واپس لائیںگے، جو مجرم ہوںگے،ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔
سوال یہ ہے کہ ہندوستان میںکتنا پیسہ واپس آیا ہے؟ یہ پیسہ ہندوستان شاید ہی آئے کیونکہ سویس بینک کہتا ہے کہ اس کے پاس پیسہ نہیں ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ پیسہ گیا کہاں؟ ہم وہ پیسہ ہندوستان میںلانا چاہتے ہیں یا اسے کسی اور ملک میں جانے دینا چاہتے ہیں۔ ہمارا مقصد کیا ہے؟ میںنہیںسمجھتا کہ یہ سرکار کیا سوچتی ہے؟ اسے اپنا مقصد نہیںپتہ؟ لیکن ایک چیز صاف ہے کہ وہ کسی بھی طرح 2019 کا الیکشن جیتنا چاہتی ہے۔ یہ ہدف ہے اس سرکار کا۔ ٹھیک ہے ہر پانچ سال کے بعد الیکشن آتے ہیں، لیکن ایک قوم کے لیے ٹھوس کام ہوتے رہنے چاہئیں۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here