بی جے پی سے ناراضگی ،کانگریس کی جیت کا سبب بنی

Share Article
rahul and modi

2019 میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات سے پہلے ہوئے 5 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کو سیمی فائنل نام دینا صحیح نہیں ہے، کیونکہ کوئی بھی انتخاب سیمی فائنل نہیں ہوتا۔ ہر انتخاب کا ایک الگ مزاج ہوتا ہے، الگ فیصلے ہوتے ہیں اور الگ سوال ہوتے ہیں۔ شمالی ہندوستان کی تین ریاستیں جنہیں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کی شکل میں ہم جانتے ہیں، ان میں ہوئے اسمبلیوں کے انتخابات نے کچھ حالات صاف کئے ہیں اور دو بنیادی سیاسی پارٹیوں کو سبق بھی دیئے ہیں۔کچھ لیڈروں کے بڑبولے پن، کچھ لیڈروں کی انتہائی خود اعتمادی پر بھی ان انتخابات نے روک لگائے ۔
ہم سب سے پہلے بات کر رہے ہیں بی جے پی کی جس کی ان تینوں ریاستوں میں سرکار تھی۔ بی جے پی نے تینوں ریاستوں میں واپسی کے لئے بھرپور کوششیں کی۔ اس نے پوری کابینہ سمیت پارٹی کے اہم لوگوں کو ان تینوں ریاستوں کے انتخابات میں لگایا۔ بی جے پی کے چانکیہ کہے جانے والے امیت شاہ نے بہت سارا وقت ان تینوں ریاستوں میں دیا اور انہوں نے اپنی پارٹی کے کارکنوں میں خود اعتمادی جگانے کے لئے بڑی ہوشیاری کے ساتھ پارٹی کارکنوں کے دماغ میں جانگزیں کیا کہ وہ اگر محنت کریں گے تو ان کا بوتھ مینجمنٹ ہر حال میں بی جے پی کو جیت دلائے گا۔
بی جے پی کے بوتھ مینجمنٹ کے اصول نے اپوزیشن پارٹیوں، خاص طور پر کانگریس کو ڈرا بھی دیا تھا۔ ایک تو بی جے پی کی مرکز میں بھی سرکار ہے اور ریاست میں بھی، افسران ان کی مرضی کے ہیں اور پھر بوتھ مینجمنٹ جیسا بھاری بھرکم لفظ جو انتخاب جتانے کے لئے اب تک بی جے پی کے لیڈر استعمال کرتے رہے ہیں ،دہشت کے مترادف بن گیا تھا۔ ان انتخابات کی ووٹنگ کے بعد ، نتائج کے اوپر جب ہم ٹیلی ویژن پر بحث سن رہے تھے تو شاہنواز حسین بار بار کہہ رہے تھے کہ ہمارے پاس سب کچھ ہے اور ان سب کے علاوہ ایک مضبوط ہتھیار ہے اور وہ مضبوط ہتھیار شاہ کا بوتھ مینجمنٹ ہے، بوتھ کمیٹیوں کا سرگرم ہونا ہے۔

 

 

 

مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں شکست کا ایک عام سبب تلاش کیا گیا کہ یہ یہاں 15 سال کی حکومت کے خلاف لوگوں کا غصہ تھا، بے اطمینانی تھی۔ راجستھان میں کہا گیا کہ وہاں پر ایک بار کانگریس رہتی ہے تو دوسری بار بی جے پی رہتی ہے۔ وہاں کے لوگ ہر پانچ سال میں سرکار بدلتے ہیں لیکن کیا یہ صحیح وجہ ہے ؟یہ صحیح اس لئے نہیں ہے کہ جتنے بھی لوگ خاص طور پر غیر جانبدار اور ساکھ والے صحافی ان دونوں ریاستوں میں گئے، انہیں کسی بھی جگہ پر لوگ یہ شکایت کرتے ہوئے نہیں ملے کہ ہمارے پاس کھانے کا سامان نہیں ہے یا ہمیں ریاستی اسکیموں کا فائدہ نہیں مل رہا ہے یا ہمیں وزیر اعلیٰ کا چہرہ پسند نہیں ہے ۔بلکہ وہ نوٹ بندی ، جی ایس ٹی کو لے کر شکایت کرتے ملے ۔وہ یہ کہتے ملے کہ کسانوں کو ان سے کئے گئے وعدوں کے مطابق قیمت نہ ملا، کسانوں کی لاگت کم کرنے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا اور فصل کی واجب قیمت نہیں ملی اورنہ ہی اس کے لئے کوئی قانون بنا اور نہ ہی سرکار روزگاری کے خلاف کوئی بھی کام کرتی ہوئی دکھائی دی،کی شکایت کرتے ہوئے ملے۔ اگر یہ وجہ صحیح ہے تو ان وجوہات کو دور کرنے کی ذمہ داری ریاستی سرکاروں کی نہیں تھی، ان وجوہات کو دور کرنے کی ذمہ داری مرکزی سرکار کی تھی جس کے وزیر اعظم نریندر مودی ہیں۔ تینوں ریاستوں میں لوگوں نے ووٹ اینٹی انکمبنسی جیسے لفظ کی بنیاد پر نہیں دیئے۔ لوگوں میں صرف بے اطمینانی نہیں تھی ، لوگوں میں ناراضگی تھی۔ اس لئے اس بار کا ووٹ صرف بے اطمینانی سے پیدا ہونے والا ووٹ نہیں ہے ،بلکہ غصے سے پیدا ہونے والا ووٹ ہے جس نے بی جے پی کو تینوں ریاستوں سے ہٹا دیا۔

 

 

 

 

یہ شکست مرکزی سرکار سے ناراضگی کا نتیجہ تھی
بی جے پی نے چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں 15 سال کی ریاستی سرکار میں لوگوں کو مضبوط اور مدد کرنے کی کوشش۔ اس کے بعد بھی ہوئی ہار یہ بتاتی ہے کہ یہ انتخاب، مرکزی سرکار کے تئیں بنیادی طور سے بے اطمینانی کا عوامی ریفرنڈم تھا۔ لوگوں کو بی جے پی کے لیڈروں کی زبان پر کنٹرول نہ رکھنا پسند نہیں آیا۔ لوگوں کے ایشوز کو انتخاب کا مرکز نہ بنانا شروع سے ان کے ذہن میں ایک نفرت پیدا کرنے لگا تھا اور دوسری طرف جب برسراقتدار پارٹی نے ان سوالوں کو سامنے رکھا اور اس کے اوپر اپنا سارا کمپین مرکوز کر دیا، جن سوالوں کا لوگوں کی زندگی سے کوئی رشتہ نہیں تھا تب شاید لوگ مکمل مایوسی والے غصے میں چلے گئے۔ رام مندر بی جے پی کا اہم ایشو تھا۔ بی جے پی کے ماتحت آرگنائزیشن نے رام مندر کو بنانے کو لے کر ایک کمپین شروع کر دیا کہ اگر ہم جیتیں گے تو رام مندر بنے گا ۔ وشو ہندو پریشد نے آگ میں گھی کا کام کیا۔ بی جے پی اور سنگھ کے لوگوں کے بیان تیزی کے ساتھ آئے۔ اس انتخاب کو ہندو مسلم ایشوز میں یا پولرائزیشن کی کوشش میں بدل دیا گیا اور بی جے پی کو لگا کہ اگر تینوں ریاستوں میں ہماری سرکار بن جائے گی تو ہم ان ایشوز کو لے کر پورے ملک میں اپنا کمپین چلائیں گے ۔ شاید عوام نے یہ سوچا کہ اگر یہ ایشو سامنے ہیں تو پچھلے ساڑھے چار سال میں تو ہمیں کچھ ملا ہی نہیں، شاید اس بار بھی کچھ نہیں ملے۔ کہیں یہ ہمیں رام مندر کا خواب دکھا کر ہمارے درد، ہمارے آنسو، ہماری تکلیف اورہماری زندگی کی تاریکی اور نہ بڑھاتے چلے جائیں۔
دوسری طرف وزیر اعظم اور امیت شاہ نے کانگریس کی مخالفت اس طرح سے کی کہ ایسا لگا کہ کانگریس کی ہی حکومت ہے جسے بی جے پی اکھاڑنا چاہتی ہے۔ ’ایک خاندان کا اقتدار، سونیا گاندھی بیوہ ہیں‘ جیسی باتیں اشارے میں کہی گئی اور جتنا حملہ راہل گاندھی، ان کے خاندان کے اوپر حملہ کیا گیا، اس نے بھی لوگوں کو یہ بتایا کہ بی جے پی کے لیڈروں کے ذہن میں کوئی احترام ہے ہی نہیں اور اس زبان کو کہ’ ہم تو انتخاب جیت ہی رہے ہیں، ہم تو سرکار بنا ہی رہے ہیں، ہم تو ہر حالت میں اقتدار میں آئیں گے ہی آئیں گے اور ای وی ایم جب جب ہم کھولیں گے تو ووٹ بی جے پی کا نکلے گا‘۔ ان باتوں نے لوگوں کے ذہن میں اور شبہ پیدا کر دیا اور پھر بی جے پی کا لوگوں کو یہ نہ بتانا خاص طور پر وزیر اعظم اور امیت شاہ کا کہ ہماری ریاستی سرکاروں نے پچھلے پانچ سالوں یا دس سالوں یا پندرہ سالوں میں کیا کام کیا ہے، اس نے لوگوں کی تشویش کو اور بڑھا دیا۔
پتہ نہیں کیوں بی جے پی یہ مانتی ہے کہ لوگوں میں سمجھ نہیں ہے اور وہ ابھی بھی 2014 کے کمپین کو، پروپیگنڈہ کو اپنی جیت کا سبب مانتی ہے۔ وہی غلطی اس نے ان انتخابات میں کی۔ پروپیگنڈہ کا وہ فارمولہ پھر کام کرے گا اور لوگ اپنے آس پاس کی حقیقت کو، سچائی کو نہیں دیکھیں گے،یہ سب بی جے پی کے خلاف گیا۔ بی جے پی کو یہ سمجھنا چاہئے کہ کانگریس کا ناکارہ پن، کانگریس کے دس سال خاص طور پر 2014 سے پہلے کے پانچ سال میں ہوئے گھوٹالے کی جو کہانیاں آئیں، جس طریقے سے کانگریس کا چہرہ داغدار دکھائی دیا اور انتظامی ڈھانچہ چرمرا گیا، اس کا بدلا لینے کے لئے لوگوں نے نریندر مودی کو وزیراعظم بنایاتھا۔ وہ نریندر مودی سے اپنی زندگی کو بدلتا ہوا دیکھنا چاہتے تھے۔ اس لئے اچھے دن کی بات گائوں گائوں میں دوہرائی گئی تھی اور نریندر مودی کو اتنی اکثریت ملی تھی جتنی اکثریت راجیو گاندھی کے بعد کسی کو نہیں ملی ۔

 

 

 

حلف برداری تقریب:اشوک گہلوت بنے سی ایم، سچن پائلٹ ڈپٹی سی ایم

 

 

وعدوں کا بھنور
یہ سمجھنے میں خود نریندر مودی اور بی جے پی ناکام رہے۔ انہوں نے سوچا کہ یہ بی جے پی کی جیت ہے یا سنگھ کے نظریات کی جیت ہے، ایسا نہیں تھا۔ ملک کے عوام ان کے ساتھ اپنی زندگی بدلنے کے لئے ساتھ کھڑے ہوئے تھے اور پھر اس کے بعد وزیر اعظم کے پچاس وعدے، ان وعدوں سے ہر روز ایک نیا وعدہ اور ان وعدوں کے اوپر کہیں کچھ ہوتا نہ دِکھنا اور اوپر سے یہ دعویٰ کرنا کہ سارے وعدے پورے کر دیئے۔ ملک میں یہ ہوگا اور ملک میں یہ بدلائو ہو گیا، لوگوں نے اپنے آس پاس دیکھنا شروع کیا کہ ہمارے تو اچھے دن آگئے، ہماری تو زندگی بدل گئی اور پھر اچانک یہ کہنا کہ ہم نے وعدے جملے کے طورپر کہے تھے، ہم نے تو یوں ہی وعدے کئے تھے، ہمیں تھورے ہی پتہ تھا کہ سرکار آئے گی۔ لوگوں نے اپنے کو ٹھگا ہوا محسوس کیا۔ اس کا غصہ اس انتخاب میں بی جے پی کو بھگتنا پڑا۔ بی جے پی نے تینوں ریاستوں کے انتخابات میں اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو پوری طرح گھمایا ۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے سارے ملک میں جہاں جہاں انتخابات تھے، آندھرا اور تلنگانہ سمیت، انہوں نے جتنے بھاشن دیئے ،وہ بھاشن ملک کے لوگوں کو تقسیم کرنے میں اہم کوشش کے طور پر دیکھے گئے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہنومان جی کی بھی ذات بتا دی۔
سوال یہ ہے کہ آپ جو کررہے ہیں، اگر اس کے اوپر ووٹ نہیں مانگتے ہیں اور جھوٹے وعدے کے اوپر ووٹ مانگتے ہیں تو لوگ آپ کو ووٹ نہیں دیں گے۔ کسانوں کا غصہ ، نوجوانوں کا غصہ، آپ کو کہیں دکھائی نہیں دیا اور چونکہ دکھائی نہیں دیا ،اس لئے آپ نے کوئی کام بھی نہیں کیا۔ آپ نے وہ کام کئے جن کاموں کو شاید کرنا ضروری نہیں تھا اور وہ بھی کام ایسے کئے جن کا کوئی منطقی راستہ نہیں بن پایا۔ وزیر اعظم نے اچھی اچھی باتیں کی اور انہیں پورا کرنے کے لئے اپنے کسی ریاستی سرکار کو کوئی طریقہ نہیں بتایا اور اب انتخاب ختم ہو گئے ہیں ، نتیجے سامنے آگئے ہیں ، بی جے پی یہ سبق لینے کے لئے تیار ہی نہیں ہے کہ اگر ہم نے وہ کام نہیں کئے جن کاموں کا بھروسہ ہم نے ملک کے عوام کو دیا ہے تو اسکے لئے آگے آنے والے وقت میں مزید مصیبتیں کھڑی ہوں گی۔
ہو سکتا ہے کہ بی جے پی کے لیڈر یہ مانتے ہوں کہ ملک کے عوام بیوقوف ہیں جو ہمارے عظیم اہداف کو سمجھ نہیں پارہے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے تو ملک سے 2022 تک کا وقت مانگا ہے۔ وہ 2019 کی بات ہی نہیں کرتے ہیں۔ وہ تو 2022 سے 2024 تک رہنے کا دعویٰ کرتے ہیں ، ایسا خود وزیراعظم اور امیت شاہ کررہے ہیں۔ یہ جو دھارا ہے، سوچنے کا طریقہ ہے ،اس نے لوگوں کو ہلا دیا، ڈرا دیا ۔یہ میں نہیں کہتا لیکن یہ سچ ہے۔ اس لئے بی جے پی کو ایک ایسا وقت دیکھنا پڑ رہا ہے جس کی اس نے کبھی توقع ہی نہیں کی تھی۔

 

 

مایا، ممتا اور اکھلیش نے بگاڑا کانگریس کے جشن کا ماحول

 

 

 

 

وعدے کو پورا کرے کانگریس
کانگریس پارٹی اب اژدھے کی طرح سو جائے یا وہ جاگی ہی رہے گی؟ لوگوں میں اس بات کو لے کر تشویش ہے۔ راہل گاندھی اور کانگریس پارٹی بہت آسانی سے یہ سوچ سکتی ہے کہ وزیر اعظم مودی کے خلاف راہل گاندھی کے کمپین کو، کانگریس پارٹی کے ذریعہ دیئے گئے دلائل کو لوگوں نے پسند کیا اور ان کی حمایت کی۔ اگر کانگریس پارٹی اور خود صدر راہل گاندھی ایمانداری سے سوچتے ہیں تو اپنے لئے ایک ایسا راستہ اختیار کرنے جارہے ہیں جس راستے پر حتمیت نہیں بلکہ مکمل بے یقینی ہے۔ جس طرح سے کانگریس کے غصے کے خلاف نریندر مودی کو لوگوں نے 2014 میں ووٹ دیا۔ اسی طرح اس بار نریندر مودی اور بی جے پی کی یقین دہانیوں کے خلاف جو زمین پر نہیں اتار پائے یا بی جے پی کے لیڈروں کے بڑبولے پن اور انا کے خلاف لوگوں کو ایک ہتھیار چاہئے تھا اپنا غصہ اتارنے کے لئے، اگر وہاں کوئی تیسری پارٹی ہوتی تو ہو سکتا ہے کہ لوگ اسے ہی ووٹ دے دیئے ہوتے۔ لیکن ان تینوں جگہوں پر بنیادی طور پر اپوزیشن پارٹی کی شکل میں کانگریس ہی تھی اسلئے لوگوں نے کانگریس کو ہی اپنے غصے کو ظاہر کرنے کا ہتھیار بنایا اور کانگریس نے بھی ویسے ہی وعدے کئے جیسے بی جے پی نے کئے تھے اور ان کو پورا نہیں کر پائی تھی۔ کانگریس کی طرف سے کہا گیا تھا کہ کابینہ کی پہلی میٹنگ میں کسانوں کی قرض معافی کا فیصلہ ہوگا۔اگر شروع کے دس دنوں میں کسانوں کی قرض معافی نہیں ہوتی ہے تو کیا ہوگا؟حالانکہ اب کانگریس کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ دس دنوں میں ہو جائے گا۔
میں کہتا ہوںکہ ایک مہینے میں بھی آپ فیصلہ کر لیں۔ لیکن ابھی آپ کے سامنے تینوں ریاستوں کی الگ الگ اقتصادی حالت نہیں ہے جہاں آپ جیتے ہیں۔ آپ کے اقتصادی صلاح کار اہل نہیں ہیں کہ اس کا تجزیہ کرسکیں۔ بی جے پی کے اقتصادی صلاح کاروں نے تو ملک کی اقتصادیات کو ڈبو دیا۔ میں نہیں کہتا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے اقتصادیات ڈوبی یا جی ایس ٹی کی وجہ سے ڈوبی لیکن اقتصادیات ڈوبی۔ کیوں کہ آپ کے پاس اقتصادی ما ہرین نہیں ہیں جو ملک کی اقتصادی صورت حال کے ہچکولوں کا سامنا کر سکیں۔ نتیجے کے طور پر وزیراعظم کے اقتصادی صلاح کار دھیرے دھیرے استعفیٰ دے رہے ہیں۔ ریزرو بینک کے گورنر کا استعفیٰ ہو گیا ۔ابھی کچھ دنوں پہلے وزیر اعظم کے اقتصادی صلاح کار سوجیت بھلا نے استعفیٰ دے دیا ۔کانگریس کو اس صورت حال کو سنبھالنے کی جو تیاری کرنی چاہئے، ابھی لوگوں کو یقین نہیں ہے کہ کانگریس کے پاس اس صورت حال کو سنبھالنے والے لوگ ہیں۔ کیونکہ ابھی لوگ راہل گاندھی کو سن رہے ہیں لیکن ان ریاستی حکومتوں کے اگلے دو مہینے، تین مہینے کے کام کاج کو دیکھ کر لوگ اندازہ لگائیں گے کہ لوک سبھا میںکس طرح کا رخ اختیار کریں گے اور یہ مان لینا کہ جو فیصلہ اسمبلی کے انتخاب میںلوگ کریں گے وہ لوک سبھا کے انتخاب میں بھی کریں گے، مجھے لگتا ہے کہ یہ کسی حد تک صورت حال کا غلط اندازہ کرنے جیسا ہوگا۔
ابھی اگر نریندر مودی محتاط ہوجاتے ہیں تو کانگریس کے لئے تشویش کی بات ہے اور اگر نریندر مودی نہیں محتاط ہوتے ہیں تو لوگ جاننا چاہیں گے کہ کانگریس کے پاس نریندر مودی کی پالیسیوں کا متبادل کیا ہے؟ اور اگر وہ متبادل کانگریس پارٹی ملک کے لوگوں کو نہیں بتا پائی تو اس کے لئے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں کامیابی پانا آسان نہیں ہوگا۔ ویسے بھی بنگال،اترپردیش ، بہار ، مدھیہ پردیش میں کانگریس ہے لیکن اتر پردیش میں کانگریس نہیں ہے۔ اڑیسہ ، تمل ناڈو وغیرہ ریاستوں میں کانگریس کی حالت بھی خراب ہے ،خاص طور پر سمندر سے لگی ہوئی ریاست۔ ان سب میں کانگریس ہچکولے کھارہی ہے۔ کہیں پر بالکل نہیں ہے تو کہیں پر بہت کم ہے۔ راہل گاندھی اگر تنظیم کو فعال کرنے کی، چست و درست کرنے کی، اسے سرگرم کرنے کی ذمہ داری سنبھال پاتے ہیں جو کہ بہت بڑی ذمہ داری ہے تو لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو برابری کا میدان ملے گا۔ لیکن اگر راہل گاندھی نے یہ سبق نہیں لیا کہ گجرات میں ان کی ہار کے پیچھے ان کی تنظیم کی کمزوری تھی یا مدھیہ پردیش اور راجستھان میں اکثریت کے نزدیک کھسکتے ہوئے پہنچنا بھی ان کی تنظیم کی کمزوری تھی۔ اگر وہ یہ نہیں سمجھ پاتے ہیں تو پھر ان کے لئے 2019 سوالیہ نشان کی طرح رہے گا۔
مسائل بتانا نکسلواد نہیں
چھتیس گڑھ کو لے کر بی جے پی بہت پُریقین تھی لیکن چھتیس گڑھ میں بی جے پی کیوں ہاری، اس کا تجزیہ بی جے پی کبھی نہیں کرے گی۔ چھتیس گڑھ میں بی جے پی اس لئے ہاری کیونکہ اس نے وہاں کے سارے لوگوں کو نکسلوادی مان کر سلوک کرنا شروع کیا ۔ایک طرف وہاں سرکاری تشدد ہے جو سلوا جوڈوم کے نام پر ہے اور دوسری طرف نکسلوادیوں کے خلاف پولیس اور انتظامیہ کی مہم اور یہ ماننا کہ وہاں جو بھی اپنی تکلیف کے لئے آواز اٹھاتا ہے یا اپنی بھوک کے خلاف آواز اٹھاتا ہے وہ آدمی نکسلوادی ہے ۔ جو ان کی حمایت میں لکھتے ہیں جو ان کی حمایت میں دانشورانہ بھاشن کرتے ہیں ،وہ اربن نکسلواد ہے ۔ اگر بی جے پی یہ سمجھ جائے گی کہ نکسلواد انسانی مسئلہ ہے، وکاس کا مسئلہ ہے ،نہ کہ نظم و قانون کا مسئلہ ہے تو شاید زیادہ اچھا ہو،لیکن بی جے پی اسے شاید نہیں سمجھے گی۔ وہ کوشش کرے گی کہ اس مسئلے کو لے کر کہ وہ کوئی حملہ آور رخ اختیار کرے گی۔
کانگریس اس مسئلے میں بی جے پی سے زیادہ سمجھدار ہے ،ایسا میں مانتا ہوں ۔لیکن کانگریس پارٹی کے ہی چدمبرم جب وزیر داخلہ تھے تب انہوں نے نکسلوادیوں کو فوج کے ذریعہ ختم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس کو اس وقت کی فوج کے چیف آف دی آرمی اسٹاف نے منع کر دیا تھا۔ کمانڈر نے ان کو منع کر دیا تھا۔اب آنے والے انتخاب میں کیا کانگریس تمام اپوزیشن پارٹیوں کا مورچہ بنا پاتی ہے، کیا ایسا کامن مینیمم پروگرام لے آتی ہے جس میں تمام بی جے پی مخالف پارٹی شامل ہو ں اور ایمانداری کے ساتھ اپنی اپنی ریاست میں لوک سبھا کا انتخاب لڑ سکیں اور انتخاب لڑنے کے بعد اپنا لیڈر چن لیں تو بہتر ہوگا۔ اگر کانگریس ضد کرے گی کہ انتخاب سے پہلے اس کے لیڈر کو پہلے اس گٹھ بندھن کا لیڈر منظور کر لیا جائے تو شاید پریشانی ہوگی۔ دوسری طرف بی جے پی اب تک کی گئی غلطیوں کو یا مالی نظم و نسق کو سدھارنے کے لئے کی گئی نئی کوششوں کی شروعات اگر نہیں کرتی ہے تو2019 کا انتخاب اس کے لئے بھی بیداری میں خواب دیکھنے جیسا ہو جائے گا۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *