بی جے پی کا مغربی بنگال میں تشددوالے علاقوں میں دوبارہ الیکشن کرانے کا مطالبہ

Share Article

piyush-goyal

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے وفد نے پیر کو مغربی بنگال میں انتخابی تشدد والے علاقوں میں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی، پارٹی نے اوڈیشہ، مغربی بنگال، کرناٹک، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں منصفانہ ووٹوں کی گنتی کے لئے خاص سپروائزر مقرر کرنے پر زور بھی دیا ہے۔
الیکشن کمیشن سے ملاقات کے بعد بی جے پی کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر پیوش گوئل نے کہا کہ وفد نے الیکشن کمیشن کو مغربی بنگال میں بی جے پی کارکنوں پر ہوئے تشدد کی تفصیلی معلومات دی۔ انہوں نے بتایا کہ مغربی بنگال میں انتخابات کے ہر مرحلے میں تشدد ہوا اور اس سے ہر جگہ پولنگ متاثر ہوئی ہے۔ ایسے میں وفد نے تشدد والے علاقوں میں دوسرا مرحلہ کرائے جانے کی اپنی مانگ کو دہرایا۔ اس دوران بی جے پی نے ایسے حلقوں کی فہرست بھی کمیشن کو سونپی۔ اس کے علاوہ بی جے پی امیدواروں اور ایجنٹوں پر خاص طور پر مغربی بنگال میں مبینہ جھوٹے کیسوں کے ہٹانے کے ساتھ ہی پارٹی کے امیدواروں اور کارکنوں کو مل رہی دھمکیوں پر سخت کارروائی کی مانگ بھی کی۔
گوئل نے کہا کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی بار بار عوام کو یہ دھمکی دے رہی ہیں کہ وہ انتخابات کے بعد سبق سکھائیں گی۔ ممتا کی کھلی اس دھمکی سے مغربی بنگال کے ساتوں مرحلے کے انتخابات میں زبردست طریقے سے تشدد ہوا اور اب اس کی وجہ سے ووٹوں کی گنتی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ وفد نے اس کے لئے اسٹرانگ روم پر مرکزی مسلح افواج کی تعیناتی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ضابطہ اخلاق نافذ رہنے تک مرکزی مسلح افواج کو مغربی بنگال میں ہی رہنے پر زور دیا تاکہ لوگوں کو اس بات پر یقین کیا جا سکے کہ انتخابات کے دوران یہاں تک کہ اگر تشدد ہوا، لیکن اب ووٹوں کی گنتی کے وقت ایسی حالت پیدا نہیں ہو گی۔ اس کے علاوہ گوئل نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے کمیشن سے اوڈیشہ، مغربی بنگال، کرناٹک، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ پانچوں ریاستوں کے لئے دہلی سے خصوصی مبصر مقرر کرنے کی بھی بات کہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *