کانگریس کیلئے آئی بہت بڑی خبر،اب بی جے پی کمل ناتھ حکومت کو نہیں دکھا سکتی آنکھ

Share Article

 

مدھیہ پردیش سے کانگریس کیلئے ایک اچھی خبر ہے۔ کانگریس نے بی جے پی کو زبردست دھچکا دیتے ہوئے ایک ہی تیر سے کئی شکار کیا ہے۔ اب مدھیہ پردیش میںکانگریس حکومت اپنے ہی دم پر واضح اکثریت میں آ گئی ہے۔ اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے لئے اب اس کوحلیف جماعتوں کے ارکان کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

اسمبلی اسپیکر نرمدا پرساد پرجاپتی نے پنا ضلع کی پوئی سیٹ سے بی جے پی کے رکن اسمبلی پرہلاد لودھی کی رکنیت کو منسوخ کر دیا ہے۔ دراصل، پرہلاد لودھی کو بھوپال کی اسپیشل کورٹ نے ایک تحصیلدار سے مارپیٹ اور بدسلوکی کے معاملے میں جمعرات کو دو سال کی سزا سنائی ہے۔عدالت کے فیصلے کی کاپی ہفتہ اسمبلی سیکریٹریٹ کو ملی۔ اس کے فوراً بعد سیکریٹریٹ سرگرم ہو گیا۔ آناً فاناً میں ہفتہ دیر شام تک لودھی کی رکنیت کو منسوخ کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ اس کی اطلاع مرکزی الیکشن کمیشن کو دے دی گئی ہے۔بی جے پی کے لیڈران مسلسل تال ٹھوک کر کہتے آ رہے ہیں، ‘نمبر ایک (نریندر مودی) اور نمبر دو (امت شاہ)’اشارہ‘کردیں تو مدھیہ پردیش کی کمل ناتھ حکومت کوایک جھٹکے میں بی جے پی اکھاڑ پھینکے گی۔ بی جے پی کے اس طرح کے دعووں کو’ٹیم کمل ناتھ‘ پہلے بھی ’زمین‘ دکھا چکی ہے۔بتادیں کہ ایوان میں بی جے پی کے دو ممبران اسمبلی کو کانگریس نے توڑ لیا تھا، دونوں ممبران اسمبلی نے کانگریس کے حق میں ووٹنگ کی تھی۔ دس دن پہلے جھابوا اسمبلی سیٹ کے لئے ضمنی انتخابات کا نتیجہ آیا ہے۔ ضمنی انتخابات میں بی جے پی اس سیٹ کو 27 ہزار کے تقریباً بڑے فرق سے ہاری ہے۔ اب لودھی کی رکنیت جانے کے بعد نمبروں میں بی جے پی اور پیچھے ہو گئی ہے۔

مدھیہ پردیش اسمبلی میں کل 230 نشستیں ہیں۔ اکثریت کے لئے 116 کی تعداد ضروری ہے۔ سال 2018 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے 114 سیٹیں حاصل کی تھیں۔ بی جے پی 109 سیٹیں پاکر محض سات سیٹوں سے چوتھی بار مدھیہ پردیش میں حکومت بنانے سے دور رہ گئی تھی۔ بی ایس پی کو دو، ایس پی کو ایک اور آزاد اسمبلی ارکان کے کھاتہ میں چار سیٹیں گئی تھیں۔ ان ساتوں (بی ایس پی، ایس پی اور آزاد اسمبلی ارکان) نے کانگریس کی حمایت کی تھی اور 121 کا اعدادوشمار لے کر کمل ناتھ نے حکومت بنائی۔

پرہلاد لودھی کی رکنیت ختم ہونے کے بعد مدھیہ پردیش اسمبلی میں ارکان کی تعدادکم ہو کر 229 رہ گئی ہے۔ کل 229 کے مطابق واضح اکثریت کے لئے کل 115 کی تعداد ضروری ہے اور اب کانگریس ارکان اسمبلی کی تعداد 115 ہوگئی ہے۔واضح اکثریت کے لئے دو رکن کم ہونے کی وجہ سے کمل ناتھ حکومت کو گزشتہ دس ساڑھے دس مہینوں میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حمایت دینے والی پارٹی کے رکن اسمبلی اور آزادرکن اسمبلی حکومت کو آنکھیں دکھاتے آ رہے تھے۔ ان کی نہ ماننے یا سننے پر حمایت واپسی کا خطرہ منڈلا رہا تھا، لہٰذا نہ چاہتے ہوئے بھی کمل ناتھ خاموشی سے سب کچھ سہ رہے تھے۔

رکنیت جانے کے بعد پرہلاد لودھی نے کہا ہے کہ اسمبلی اسپیکر نے فطری انصاف کے تحت نوٹس تک انہیں نہیں دیا۔ لودھی نے کہا کہ سازش کے تحت ان کو نااہل قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ سزا سنائے جانے کے فوراً بعد انہیں کورٹ نے ضمانت دے دی تھی۔ وہ اب اس معاملے کو لے کر ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔ لودھی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 24 ہزار ووٹوں سے کانگریس کے مکیش نائک کو انہوں ہرایا تھا اور موقع آنے پر وہ پھر سے پوئی سیٹ کو جیتیں گے یا بی جے پی جسے بھی ٹکٹ دے گی اسے جتاکر ہی دم لیں گے۔

ادھر سابق وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے سینئر ممبر اسمبلی شیوراج سنگھ چوہان نے اپنے رد عمل میں کہاکہ اسمبلی اسپیکر کا فیصلہ یکطرفہ ہے۔ فیصلے کے خلاف لودھی کو ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کا حق ہے۔ اسمبلی اسپیکر ممبران اسمبلی کے سرپرست ہیں۔ان کا فیصلہ پہلی ہی نظر میں واضح کر رہا ہے کہ ایک خاص پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے لئے اس طرح کا فیصلہ لیا گیا ۔اسمبلی اسپیکر پرجاپتی نے میڈیا سے کہاکہ کارروائی قوانین کے تحت کی گئی ہے۔ دو سال کی سزا ہوتی ہے تو متعلقہ رکن اسمبلی کی رکنیت خود بخود منسوخ ہو جاتی ہے، جو بھی کچھ ہوا وہ قانون کے دائرہ میں رہ کرکیاگیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *