سعودی عرب میں سب سے زیادہ پاکستانیوں کے سر قلم

Share Article

سعودی عرب کے قوانین بہت سخت ہیں،یہاں ہر سال سیکڑوں افراد کو سزائے موت دی جاتی ہے اس میں متعدد ممالک کے افراد شامل ہوتے ہیں۔عا م طور پر غیر سعودی شہری سعودی قوانین سے نابلد ہونے کی وجہ سے متعد د ایسی واردات میںملوث ہو جاتے ہیں جس کی سزا سزائے موت ہوتی ہے۔اس سال بھی سعودی حکام نے متعدد افراد کو سزائے جرم پر عمل درآمد کرتے ہوئے سر قلم کئے گئے۔سعودی عرب میں گزشتہ روز چیچہ وطنی سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور کا سر قلم کر دیا گیا۔میڈیا ذرائع کے مطابق سعودی میں اس سال اب تک ایک خاتون سمیت چھبیس پاکستانیوں کے سر قلم کئے جا چکے ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیم جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی ڈاریکٹر سارہ بلال نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے اپنی جیلوں میں قید ہزاروں پاکستانیوں میں سے دو ہزار کے لگ بھگ پاکستانیوں کی رہائی کے وعدے پر عمل نہیں کیا بلکہ ان میں سے کچھ کی سزائے موت پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس سال فروری میں پاکستان کے اعلی سطحی دورے میں وزیراعظم عمران خان کے سامنے اکیس سو سات پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا تھا۔جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے مطابق بیرون ملک جیلوں میں گیارہ ہزار کے قریب پاکستانی موجود ہیں، جن میں سات ہزار کے لگ بھگ مشرق وسطی ٰمیں قید ہیں۔

سعودی عرب یوں تو پاکستان کا بڑا اتحادی ہے لیکن اس کی جیلوں میں موجود غیر ملکیوں میں سب سے زیادہ تعداد بھی پاکستانیوں کی ہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سعودی عرب میں تین ہزار چار سو پاکستانی قید ہیں، جن میں سے اس سال اب تک ایک خاتون سمیت چھبیس افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔سر قلم کرکے سزائے موت پر عملدرآمد کا تازہ ترین واقعہ جمعرات کے روز جدہ کے شمیسی جیل میں پیش آیا جس میں چیچہ وطنی کے ایک مزدور محمد عمران کوموت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ وہ دوہزار گیارہ میں کام کی غرض سے سعودی عرب گئے تھے۔ انہیں جدہ ائیرپورٹ پر منشیات کے الزام میں پکڑا لیا گیا تھا۔ جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے مطابق ان پر چلنے والے مقدمے کی تمام تر کارروائی عربی زبان میں کی گئی، انہیں کوئی مترجم نہیں دیا گیا اور نہ ہی انہیں اپنے قانونی دفاع کے لیے کوئی سہولت فراہم کی گئی۔

قانونی ماہرین کی سعودی عرب کے عدالتی نظام پر سب سے بڑی تنقید یہ ہے کہ اس نظام کے تحت دی جانے والی سزائیں انصاف کے تقاظوں پر پورا نہیں اترتیں اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہیں۔ سعودی حکام عام طور پر موت کے گھاٹ اتارے جانے والے قیدیوں کے ورثا کو نہ سزا کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں اور نہ انہیں قیدی سے آخری ملاقات کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ سزائے موت کے بعد قیدیوں کی لاشیں بھی اکثر ورثا کے حوالے نہیں کی جاتیں بلکہ وہیں دفنا دی جاتی ہیں۔انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق یہ روش قانونی، اخلاقی اور اسلامی اقدار کے بھی منافی ہے، جسے سعودی حکومت کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *