چمکی بخار کا قہر: مظفر پور کیجریوال اسپتال میں اب بھی بیہوشی کا شکا ر ہیںبچے

Share Article

 

تین سال کا امن کمار اپنی آنکھیں کھول چکا ہے۔ اب اس کے جسم میں طاقت واپس آنے لگی ہے۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ کواسپتال کے بستر کے پیچھے لے جاتا ہے اور پوری طاقت سے بستر میں لگے راڈ کو پکڑ کرہلانے کی کوشش کرتا ہے.۔ اس کی اس حرکت سے اس کی ماں پونم دیوی کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ اب اس کا بیٹا امن پہلے کی طرح چلنے پھرنے اوردوڑنے کے قابل جلد ہی ہو جائے گا۔

Image result for Muzaffarpur Kejriwal hospital muzaffarpur

بی بی گنج کے قریب میاں پکڑی کی رہنے والی پونم دیوی 3 دن پہلے امن کو لے کر مظفر پور کے کیجریوال اسپتال میں پہنچی تھی۔ اس وقت امن کی حالت بہت نازک تھی۔ ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ اسے چمکی بخار ہو گیا ہے۔ اب پونم کو اس بات کی تسلی ہے کہ وہ بہت جلد اپنے بیٹے کو لے کر کے گھر واپس جا سکے گی لیکن امن کے اگلے والے بیڈ پر لیٹا ہوا 2 سال کا من من اب بھی سست پڑا ہوا ہے حالانکہ اس نے بھی اپنی آنکھیں کھول لی ہیں۔ ابھی اس کے جسم میں طاقت نہیں ہے۔ دربھنگہ کی رہنے والی من من کی پھوپھی الکا سنگھ بتاتی ہے کہ صبح 7 بجے سے اسے اچانک بخار آنا شروع ہو گیا اور اس کا پورا جسم اکڑنے لگا۔ وہ بے تحاشہ اپنے ہاتھوں سے اپنے جسم کو نوچے جا رہا تھا۔ پہلے تو اسے قریبی ڈاکٹر کے پاس لے گئے پھر وہاں سے بھاگتے ہوئے کیجریوال اسپتال پہنچے۔ اس کی حالت میں بہتری آ رہی ہے۔

Image result for Muzaffarpur Kejriwal hospital muzaffarpur

چار سال کی سمیہ بھی من من کے آنے کے کچھ دیر بعد ہی یہاں پہنچی۔ اس کی بہن وحیدہ خاتون بتاتی ہے کہسمیہ کی طبیعت اچانک خراب ہونے سے تیز بخار آیا اور پھر وہ بیہوش ہو گئی۔ اس کے بعد اسے لے کر کے یہاں پہنچی۔ اب بھی وہ بیہوشی کی حالت میں ہے اور ڈاکٹر پوری کوشش کر رہے ہیں کہ اس کوواپس ہوش آ جائے۔ وہ مسلسل اس کے جسم پر گیلے کپڑے رکھ رہی ہے۔ رگھوناتھ پور کی رہنے والی نیہا کماری کو بخار ہونے پر اس کے چچا راجندر مہتو براہ راست اسی اسپتال میں لے کر آے جبکہ اس کے گھر والے اغل بغل کے ڈاکٹر سے علاج کرانے پر تلے ہوئے تھے لیکن اس نے سن رکھا تھا کہ ایک عجیب طرح کا بخار بچوں کو اپنی زد میں لے رہا ہے۔ اس لئے اس نے رسک لینے کے لئے نہیں سوچا۔ اس کی یہ سمجھ کارگر ثابت ہوئی ۔ نیہا اب بھی بیہوش ہے لیکن ڈاکٹروں کو پوری امید ہے کہ وہ نیہا کو صحت مند کر دیں گے۔ اسی طرح شیکھر بھی بیہوش پڑا ہوا ہے اور اس کی ماں رنکی دیوی ڈاکٹروں کے کہے مطابق مسلسل اس کے ہاتھ پاؤں کو بھیگے ہوئے کپڑے سے صاف کر رہی ہے۔ فیاض علی بھی ابھی بیہوش ہے حالانکہ اس کی ماں بتاتی ہے کہ بیچ بیچ میں ہوش میں آتا ہے اور پانی پینے کے بعد پھر بے ہوش ہو جاتا ہے۔ گزشتہ 3 دنوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ قبول کرتی ہے کہ پہلے کے مقابلے میں اس کی حالت میں اب کچھ بہتری آئی ہے۔ پہلے توآنکھ ہی نہیں کھول رہاتھا۔ اب کم از کم درمیان میں آنکھیں کھول رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *