وزیر اعلیٰ منوہر لال نے بدھ کو جمنا اور مارکنڈاندی کے ساحلی علاقوں کا فضائی معائنہ کیا۔ پہاڑی علاقوں میں ہو رہی مسلسل بارش سے جمنا اور مارکنڈا ندی طغیانی پر ہیں۔ ہتھنی کنڈ بیراج سے 8 لاکھ کیوسک پانی چھوڑے جانے کے بعد جمنا کے ساحلی علاقوں میں سیلاب کے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ مارکنڈا ندی بھی خطرے کے نشان پار کر گئی ہے۔
وزیر اعلی نے کروکشیتر، جمنانگر، کرنال، پانی پت اور سونی پت میں فضائی معائنہ کیا۔ پانچ اضلاع میں سیلاب ریلیف انتظامات کی معلومات لی اور ساحلی علاقوں میں بڑھ رہے آبی سطح کو دیکھتے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کے ہدایت کی۔
جمنانگر واقع ہتھنی کنڈ بیراج سے پانی چھوڑنے کے بعد جمنا خطرے کے نشان کو پار کر چکی ہے۔ اس کے سبب جمنا کے ساحلی گاؤں میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ جمنا اور مارکنڈاندی میں پانی کی سطح بڑھنے سے ہزاروں ایکڑ فصل ڈوب چکی ہے۔
جنتا آشیر واد کے دوران وزیر اعلی منوہر لال نے منگل کی رات کروکشیتر یونیورسٹی کے انٹرنیشنل گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے۔ ٹھہرنے کے دوران وزیر اعلی نے انتظامی حکام سے رات میں ہی جمنا میں آبی سطح کی معلومات دی۔ بدھ کی صبح وزیر اعلی براہ راست ہیلی کاپٹر سے فضائی معائنہ کرنے نکل پڑے۔
قابل ذکر ہے کہ 18 اگست کوہتھنی کنڈ بیراج سے صبح 7 بجے 1 لاکھ 55 ہزار کیوسک پانی جمنا میں چھوڑا گیا۔ اس کے بعد پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ دوپہر 12 بجے یہ بڑھ کر 5.93 لاکھ کیو سک ہو گئی تھی شام 6 بجے 8.27 لاکھ کیوسک پانی جمنا میں چھوڑا گیا۔ مارکنڈا ندی میں تقریبا 45 ہزار کیوسک پانی چھوڑا جا چکا ہے۔ ا س سے اسماعیل آباد میں زبر دست تباہی ہوئی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here