علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے 65ویں جلسۂ تقسیم اسنادمیں صدر جمہوریہ رام ناتھ کووندکی شرکت

Share Article
amu
علی گڑھ، 7؍مارچ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(اے ایم یو) کے 65ویں جلسۂ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کے وزیٹر صدر جمہوریۂ ہند جناب رام ناتھ کووند نے کہاکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ملک کی ترقی میں بہت اہم رول ہے اور اے ایم یو کے طلبہ نے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی خاص طور سے ایشیا اور افریقہ میں اپنی علاحدہ شناخت قائم کی ہے۔ جناب کووند نے گزشتہ سال اکتوبر میں ایتھوپیا کے اپنے دورہ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ایتھوپیا کے وزیر اعظم کی اہلیہ محترمہ رومن ٹیسفائے نے اپنا تعارف ان سے کراتے ہوئے کہاکہ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ ہیں۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ اے ایم یو کے نامور فارغین کی ایک طویل فہرست ہے، جنھوں نے سیاست، انتظامیہ، تعلیم، قانون، سائنس و ٹکنالوجی، ادب ، آرٹس اور کھیلوں میں نام پیدا کیا ہے۔ انھوں نے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت رتن یافتہ خان عبدالغفار خاں، نسل پرستی مخالف تحریک کے علمبردار ڈاکٹر یوسف محمد بادو ، سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین اسی یونیورسٹی کے طالب علم تھے ۔انھوں نے جدید سائنس میں ڈاکٹر سید ظہور قاسم، پروفیسر اے صلاح الدین اور ڈاکٹر شاہد جمیل کی خدمات کا بھی ذکر کیا۔
اے ایم یو کے 65ویں جلسۂ تقسیم اسناد میں طالبات نے طلبہ پر سبقت حاصل کی اور زیادہ تعداد میں میڈل حاصل کئے۔ مجموعی طور سے دئے گئے 218؍میڈل میں سے 122؍میڈل طالبات نے حاصل کئے اور اپنا لوہا منوایا۔ طلبہ کو 96؍میڈل ملے۔ اس موقع پر کل ملاکر 5381؍ڈگریاں تقسیم کی گئیں، جس میں 2891؍گریجویٹ، 2094؍پوسٹ گریجویٹ، 25؍ایم فِل اور 371؍پی ایچ ڈی کی ڈگری شامل تھی۔ صدر جمہوریہ جناب رام ناتھ کووند نے اپنے خطاب میں کہاکہ یہ دیکھ کر خوشی ہورہی ہے کہ خاتون طلبہ نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اوورآل ایکسیلنس کا ایوارڈ یعنی شنکر دیال شرما میڈل بھی ایک بیٹی نے حاصل کیا ہے۔ صدر جمہوریہ نے کہا’’یہاں موجود بیٹے بیٹیاں ملک کا مستقبل ہیں، یہ ملک کے بھاگیہ ودھاتا ہیں، اپنے لئے بھی اور سماج کے لئے بھی۔ یہ ملک کو نئی بلندیوں پر لے جائیں گے ‘‘۔
winner
جناب رام ناتھ کووند نے ترقی پسند خواتین عصمت چغتائی اور ممتاز جہاں کا حوالہ دیا اور امروہہ کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی خوشبو مرزا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اِسرو کے خلائی مشن ’چندرایان‘ میں اہم رول ادا کیا۔ انھوں نے کہا’چلمن سے چاند تک کا یہ سفر بہت حوصلہ بخش ہے اور ہندوستان کے خوشگوار مستقبل کا یہ اشارہ ہے، ان کے جیسے لوگ اکیسویں صدی میں خواتین کے لئے رول ماڈل ہیں‘۔ صدر جمہوریہ نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خدمات ہمارے سماج کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں اور یونیورسٹی کا سنٹر فار ایڈوانسڈ ریسرچ اِن الیکٹریفائیڈ ٹرانسپورٹیشن کارآمد ٹکنالوجیز کی تخلیق میں مددگار ثابت ہورہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے دیگر شعبوں میں بھی اس طرح کی کوششوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ سماج میں ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ علم اور اختراع کی مطابقت رہے۔
جناب رام ناتھ کووند نے کہا کہ انھیں کنووکیشن کے اِس روایتی لباس کو پہن کر فخر محسوس ہورہا ہے جو 60؍برس قدیم ہے اور جسے ہندوستان کے پہلے گورنر جنرل راج گوپالا چاریہ ، ڈاکٹر راجندر پرساد، فخرالدین علی احمد، ڈاکٹر رادھا کرشنن، ڈاکٹر ذاکر حسین، گیانی ذیل سنگھ جیسی شخصیات نے پہنا۔ انھوں نے کہا ’’ایسے تاریخی ادارے میں طلبہ طالبات کے درمیان خود کو پاکر وہ خوش قسمت محسوس کررہے ہیں۔ صدر جمہوریہ نے کہا ’’سائنس و ٹکنالوجی کے ساتھ ملک میں دانشورانہ جدید فکر بھی ضروری ہے تاکہ ہر طبقہ مساوات و بھائی چارہ کے ماحول میں آگے بڑھ سکے۔ جناب رام ناتھ کووند نے کہا کہ علم کی جستجو اور انسانی عزت و وقار کی خواہش ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور یہ دونوں مقاصد ہماری ساجھا ثقافت کے عین مرکز میں ہیں۔ صدر جمہوریہ نے کہاکہ کثرت میں وحدت اور کشادہ قلبی ہماری طاقت ہے ، ایک دوسرے کی عزت، ایک دوسرے سے سیکھنا اور ہمارے سماج میں فکر کے متبادل راستوں اور مختلف طرز زندگی کو قبول کرنا صرف نعرے نہیں ہیں بلکہ یہ ہندوستان کے لئے ایک فطری طرز معاشرت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے لئے اور ملک کی مختلف کمیونٹیز کے لئے یہ ایک سبق ہے، ہمیں اس روح کو زندہ رکھنا ہوگا ۔جناب رام ناتھ کووند نے کہا کہ ہم عالَم کاری کے دور میں جی رہے ہیں جہاں صرف ایک دوسرے کو برداشت کرنا نہیں بلکہ تنوع اور تکثیریت کا جشن منانا ہوتاہے۔ صدر جمہوریہ نے کہا ’’ایسا ہندوستان ہر ہندوستانی کو چاہے وہ مرد ہو یا خاتون، اور اس کی شناخت اور اس کا پس منظر جو بھی ہو، اس کی بھرپور صلاحیتوں کو جِلا بخشنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور ایسا ہندوستان اکیسویں صدی میں بے چین دنیا کے لئے امید کی ایک کرن ثابت ہوگا۔‘‘
اس سے قبل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ریکٹر اور اترپردیش کے گورنر جناب رام نائک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ بین الاقوامی یومِ خواتین (8؍مارچ) کے موقع پر طالبات نے شاندار تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آج دئے جارہے مجموعی میڈل میں سے 65؍فیصدمیڈل حاصل کئے ہیں۔ انھوں نے کہا ’’آج خواتین ایئرفورس اور محکمۂ دفاع سمیت زندگی کے ہر شعبہ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہیں‘‘۔
اے ایم یو کے شاندار ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے جناب رام نائک نے کہا کہ عظیم دانشور اور ماہر تعلیم سرسید احمد خاں کے ذریعہ قائم کی گئی اس یونیورسٹی کے فارغین نے ملک ہی نہیں ملک کے باہر بھی اپنی چمک بکھیری ہے۔سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین، سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری، میجر دھیان چند اور لالہ امرناتھ جیسی نامور ہستیوں کا ذکر کرتے ہوئے جناب رام نائک نے کہاکہ اے ایم یو کے طلبہ مختلف میدانوں میں ملک و قوم کی خدمت انجام دیتے آرہے ہیں ۔انھوں نے طلبہ طالبات کو محنت و لگن کے ساتھ کام کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا اور عملی زندگی میں کامیابی کے لئے مسلسل جدوجہد کرتے رہنا ناگزیر ہے۔ انھوں نے خاص طور سے ’چَریویتی چَریویتی‘ کاذکر کیا جس کا مفہوم ہوتا ہے ’چلتے رہو، چلتے رہو‘۔ جناب رام نائک نے طلبہ طالبات کو سماجی و عملی زندگی میں کامیابی کے لئے ہمیشہ مسکرانے، دوسرے کے لئے وسیع القلبی کا مظاہرہ کرنے، گھمنڈ سے دور رہنے اور ناکامیوں پر نہ گھبرانے کا مشورہ دیا۔
اے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے یونیورسٹی کی رپورٹ بھی پیش کی۔ انھوں نے کہا ’’علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، ٹائمز ہائر ایجوکیشن (یوکے) کی رینکنگ میں ہندوستانی کی چھٹی ممتاز یونیورسٹی ہے، یوایس نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ کی رینکنگ میں اے ایم یو دوسری ممتاز ہندوستانی یونیورسٹی ہے، کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگس میںیہ چھٹی ممتاز ہندوستانی یونیورسٹی ، اور سی ڈبلو ٹی ایس لیڈن (سنٹر فار سائنس اینڈ ٹکنالوجی اسٹڈیز، لیڈن یونیورسٹی، نیدرلینڈ) کی رینکنگ میں یہ چھٹی ممتاز ہندوستانی یونیورسٹی ہے۔ وائس چانسلر نے کہاکہ نیشنل انسٹی ٹیوشنل رینکنگ فریم ورک، وزارت فروغ انسانی وسائل ، حکومت ہند نے اے ایم یو کو ملک کی گیارہویں بیسٹ یونیورسٹی کا رینک دیا ہے۔ پروفیسر طارق منصور نے کہاکہ اے ایم یو نے شمسی توانائی کے پلانٹ نصب کرکے ، صاف بجلی پیدا کرکے اور قومی صحت مشن کے تحت ڈسٹرکٹ ارلی انٹروینشن سنٹر اینڈ پیڈیاٹرک کارڈیالوجی اور کیتھ لیب وغیرہ قائم کرکے نیا سنگ میل طے کیا ہے۔ یونیورسٹی میں اولمپک کے سائز کا سوئمنگ پول بھی ہے۔ طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا’’اپنی سخت محنت کے لئے آپ تعریفوں کے مستحق ہیں اور اب آپ بہتر انسان بن کر اور اپنے میدان میں ناموری حاصل کرکے اے ایم یو کی تہذیب کی نمائندگی کا فرض ادا کریں‘‘۔ انھوں نے طلبہ سے ملک و قوم کی خدمت کی اپیل کی۔ انھوں نے کہا’’ملک کی تعمیر اور تعلیمی امتیاز کے تصور کے ساتھ آپ زندگی میں آگے بڑھیں‘‘۔
اس موقع پر یونیورسٹی کی مختلف فیکلٹیوں کے ڈین صاحبان نے وائس چانسلر کے بدست اپنی اپنی فیکلٹی کے طلبہ طالبات کی ڈگریاں حاصل کیں۔5؍میڈل حاصل کرنے والے طالب علم بی ٹیک میکینیکل انجینئرنگ کے ہرش گپتا اور 4؍ میڈل حاصل کرنے والی بی یو ایم ایس کی ثنا سعود نے بھی خطاب کیا۔ امتحانات کنٹرولر مسٹر مجیب اللہ زبیری اور رجسٹرار پروفیسر جاوید اختر نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ اس موقع پر پرو چانسلر نواب ابن سعید خاں آف چھتاری اور اعزازی ٹریزرار پروفیسر حبیب الرحمٰن خاں بھی موجود تھے۔ اسی اثناء سہ پہر میں وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کی جانب سے طلبہ طالبات کے لئے عصرانہ کا اہتمام کیا گیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *