Lecture
نئی دہلی:محفوظ الرحمن یادگار کمیٹی کی جانب سے چودہواں محفوظ الرحمن خصوصی لیکچر غالب اکیڈمی، نئی دہلی میں قومی آواز کے سابق چیف سب ایڈیٹر سینئر صحافی سیّد منصور آغا کی صدارت میں منعقد ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہ امر یقیناًقابل رشک ہے کہ مجھے محفوظ الرحمن مرحوم کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ وہ حقیقت پسند، کھرے اور سلیقہ مند انسان تھے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’انڈیا وِنس فریڈم‘ پڑھنے کے بعد میری نالج میں اضافہ ہوا اور اس بات پر انتہائی رنج ہوا کہ مولانا ابوالکلام آزاد جیسی دیدہ ور شخصیت کو ہم نے کوئی اہمیت نہیں دی۔ اس موقع پر مہمان خصوصی ممتاز صحافی عالم نقوی نے خصوصی لیکچر پیش کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے مولانا آزاد کو یکسر نظر انداز کیا ورنہ ملک تقسیم نہیں ہوتا اور دنیا کے چند ترقی یافتہ بڑے ممالک میں ہمارا شمار ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ زندگی بھر مولانا نے ہمیشہ معیاری صحافت اور شفاف لیڈرشپ ملک کو دی۔ مگر جذباتی لوگوں نے ان کی قدر نہیں کی اور ان کی بات نہیں مانی، یہی وجہ تھی کہ ملک تقسیم ہوا اور اس کا دکھ درد ہم اب تک جھیل رہے ہیں۔ عالم نقوی نے یہ بھی کہا کہ آج ملک میں ذمہ دار سمجھے جانے والے لیڈران بھی اپنے قول و عمل سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں ، جس کی وجہ سے ملک میں فرقہ پرستی روز بہ روز بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ اور سطحی بات کیا ہوسکتی ہے کہ لوگ قومی مفاد کو داؤ پر لگاکرووٹ حاصل کر نے میں لگے ہوئے ہیں۔
اس موقع پر مہمان ذی وقار مولانا محمد رحمانی مدنی نے کہا کہ مسلمان اسباب کا رونا روتے رہتے ہیں مگر اپنا رویہ اسلام کے مطابق تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محض رسم ادائیگی کے طور پر پروگرام کرنا اور سننا کافی نہیں ہے بلکہ عمل کرنا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے مولانا عبدالحمید رحمانی مرحوم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1980 میں مولانا آزاد اویکننگ سینٹر، نئی دہلی میں قائم کرکے تاریخ رقم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ آج الحمدللہ اس کی شاخیں ملک بھر میں پھیلی ہوئی ہیں اور لوگ اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔ مولانا محمد رحمانی مدنی نے کہا کہ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کے مختلف گوشوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد کی بتائے ہوئی تدابیر پر عمل کرنا شخصیت پرستی نہیں ہے بلکہ وہ ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ اسی طرح محفوظ الرحمن مرحوم نے معیار صحافت کی جو طرح ڈالی ہے وہ قابل تقلید ہے، نئی نسلوں کو ان کی حیات و خدمات سے استفادہ کرنا چاہیے۔
اس موقع پر اہم شرکاء میں جلال الدین اسلم اور پروفیسر محمد اسلم، ڈاکٹر وسیم اختر، رحمت اللہ فاروقی، ڈاکٹر عقیل احمد، حامد علی اختر، اشرف علی بستوی، زبیر خاں سعیدی، مولانا نثار احمد حسینی نقشبندی، فاروق سلیم، دانش رحمن، ڈاکٹر محمد ارشد غیاث، سیّد نیاز احمد راجہ، محمد اویس گورکھپوری، حکیم عطاء الرحمن اجملی، ندیم عارف، محمد صادق خاں اور محمد عمران قنوجی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر افروز طالب نے کی جبکہ حافظ اسرار خاں کی تلاوت قرآن پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا اور پروگرام کے درمیان میں پروفیسر محمد اسلم (صدر شعبہ علم الادویہ، جامعہ ہمدرد) کو شال اوڑھاکر تہنیت پیش کی گئی۔ تمام شرکاء کا شکریہ ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے ادا کیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here