ایم ودود ساجد
پچھلےچند ہفتوںسے کہیں سے بھی کوئی اچھی خبر نہیں آئی، ہر طرف بے چینی ہے اور کسی گوشہ سے صدائے امن نہیں گونجتی۔ ہندوستان میںرونما ہونے والے متعدد واقعات کی خبریں ذہن و دل کو پریشان کئے ہوئے تھیں کہ ہمارے پڑوسی ملک پاکستان سے بھی ایک انتہائی بری خبر آگئی۔ جس طرح شمالی ہندوستان میں اتر پردیش کا کوئی ضلع شاید ہی فرقہ پرستی کی مار سے بچا ہے اسی طرح پاکستان میں بھی کراچی اور لاہور کا کوئی محلہ ایسا نہیں جہاں خاک و خون کی برسات نہ ہوئی ہو۔ لیکن پاکستان میں ہونے والی طبقاتی قتل و غارت گری کا ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات اور واقعات سے کوئی موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان ایک الگ ملک ہے، یہ ایک حقیقت ہے۔ ہندوستان کی ہمیشہ یہی خواہش رہی ہے کہ وہ پھولے پھلے اور آگے بڑھے، کچھ عاقبت نااندیش حکمرانوں کی نیت میں اگر فتور رہا ہو تو ان کا ہمیں دفاع نہیں کرنا ہے لیکن ایک ذمہ دارملک ہونے کے ناطے ہم پاکستان کو پھلتے پھولتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ میں نے اپنی کم و بیش دو دہائیوں پر محیط صحافتی زندگی میں پاکستان کے اندرونی حالات پر بصد ذوق و شوق ایک دوبار سے زائد کبھی نہیں لکھا۔ لیکن بلوچستان کی راجدھانی کوئٹہ میںاسی مہینہ رونما ہونے والے اس شرمناک واقعہ نے مجبور کر دیا جس میں کم و بیش60 افراد کی جان گئی ہے۔ پاکستان میںمسلمان ہی مسلمان ہیں، دوسری اقوام کی حیثیت تو مٹھی بھر بھی نہیں ہے۔ ہندو ہیں مگر بہت کم، سکھ اور عیسائی تو بہت ہی کم ہیں، وہاں مسلمان ہی سب کچھ ہیں، استثنائی واقعات کو چھوڑ دیں تو ہر سطح پر مسلمان ہی موجود ہیں۔ ہاں پچھلے دنوں پاکستان کے چیف جسٹس کے طور پر(ہنگامی طور پر ہی سہی) ایک ہندو جسٹس کی تقرری ہوئی تھی جو پاکستان جیسے ملک کے ماحول میں کچھ کم بات نہیں ہے۔اس محاذ پر وہاں ہندوؤں اور عیسائیوں کو محروم نہیں رکھا گیا ہے۔ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں ہندو شہری ممبران بھی ہیں اور وزیر بھی ہیں ۔ لیکن جس ملک میں نوے فی صد سے زیادہ اسلام اور پیغمبر اسلامؐ کے نام لیوا ہوں وہاں ایک دوسرے کے خون سے اپنی مسلکی، طبقاتی، علاقائی اور لسانی عصبیت کی پیاس بجھانا، اللہ کے گھروں میں سربسجود بندگان خدا کو بم سے اڑانا اور یہی نہیںبمباری کے واقعات میں ہلاک ہوجانے والے اپنے اعزا کی لاشوں کو تدفین کے لئے لے جانے والے ’’جلوس‘‘ پر بموں اور گولیوں کی برسات کر دینا آخر کون سا ااسلام ہے؟
پچھلے دنوںکوئٹہ کے میزان چوک میں جو کچھ ہوا وہ کوئی نیا نہیں ہے، مذہبی جلسے جلوسوں پر اس سے پہلے بھی بم پھینکے جاتے رہے ہیں۔ فرزندان توحید اپنوں کے ہی ہاتھوں پہلے بھی مارے جاتے رہے ہیں، حکومت اور انتظامیہ ان واقعات کا الزام شدت پسند عناصر پر دھرتی رہی ہے لیکن مذکورہ واقعہ اپنی نوعیت اور اپنے عواقب و عوامل کے اعتبار سے منفرد بھی ہے اور انتہائی بھیانک اور تشویشناک بھی۔ ان عواقب و عوامل کا تصور کرکے دنیا کے ہرمسلمان کو فکر ہونا لازمی ہے۔شاید یوم القدس یا رمضان کے آخری جمعہ کو فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت میں دنیا بھر میں منعقد کئے جانے والے اس عالمی مظاہرہ کی روایت سے کوئی مسلمان ہوگا جو واقف نہ ہو۔بلاشبہ اس مظاہرہ کی داغ بیل ایران کے روحانی وانقلابی رہ نما آیت اللہ خمینی کی اپیل کے بعد 70کی دہائی کے اواخر میںپڑی لیکن اب اس مظاہرہ میں شیعہ سنی سبھی شریک ہوتے ہیں۔اس لئے کہ یہ عالمی مظاہرہ خانماں برباد فلسطینیوں سے اظہار یک جہتی کے طور پر منعقد کیا جاتا ہے کسی مسلکی گروہ کے بانی یا پیشوا کے حکم کی اتباع کے طور پر نہیں۔لہذا رمضان کے آخری جمعہ کو کوئٹہ کے میزان چوک میں جس جلوس پر حملہ ہوا وہ شیعہ یاسنی جلوس نہیں تھا بلکہ وہ ان مسلمانوں کا جلوس تھا جو مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یک جہتی اور ظالم اسرائیل سے اظہار بیزاری کے لئے جمع ہوئے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس حملہ کو شیعہ جلوس پر حملہ کیوں قرار دیا جارہا ہے؟کم از کم میرے لئے یہ بالکل نئی اصطلاح ہے کہ یوم القدس کے جلوس کو شیعہ جلوس کہا جائے۔ اس حملہ کو شیعہ جلوس پر حملہ قرار دینے والے بھی پاکستانی حکام اور وزرا ہی ہیں۔ آخر اس نئی اصطلاح کو گڑھنے اوراس کورائج کرنے  کے پس پشت کون ہے؟کیا وہی صہیونی طاقتیں تو نہیں جو ساری دنیا میں مسلمانوں کے اندر گھس پیٹھ کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔اس پر پاکستانی مسلمانوں کو غور کرنا چاہئے اور کوئی ایسی نئی حماقت نہیں کرنی چاہئے جس سے وہاں کے مختلف متصادم مسلکی طبقات کے درمیان اور زیادہ گہری نفرت انگیز خلیج بڑھ جائے۔
پاکستان میں جلوس محمدی پر بھی اس طرح کے حملے ہوتے رہے ہیں۔آخر یہ کیسی حیوانیت ہے کہ تاجدار مدینہؐ کا ذکر خیر ہو رہا ہو اور کوئی وہاں بم پھینک دے، نماز ہو رہی ہو اور کوئی خود کو دھماکہ سے اڑا لے؟ پاکستان میں ایک سے زائدبار اسی حیوانیت کا مظاہرہ کیا گیا اور ذکر رسولؐ کی محفل سجانے کے لئے جو فرزندان توحید اللہ کے آگے سربہ سجود تھے ان کو خاک و خون میں غلطاں کر دیا گیا۔ ذکر رسول کی ایک محفل پر شرمناک حملہ کے بعدمہاجر قومی موومنٹ یا متحدہ قومی موومنٹ کے خود ساختہ جلاوطن لیڈر الطاف حسین نے لندن سے ایک بیان جاری کرکے کہاتھا کہ ’’یہ واقعہ ان عناصر کی کرتوت ہے جو ذکر مصطفی سے کوئی سروکار نہیں رکھتے اور جو ایسی محفلوں کے انعقاد کو شرک و بدعت قرار دیتے ہیں اور جنھوں نے ’’اہل سنت‘‘ کے خلاف اسلام سے خارج ہونے کا فتویٰ جاری کر رکھا ہے۔‘‘ ایسے الزامات پڑھ اور سن کر افسوس ہوتا ہے کہ جو نظریہ عظیم ہندوستان ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی عظیم مسلم آبادی کی تقسیم کا سبب بنا وہ پاکستانی مسلمانوں کو متحد نہ رکھ سکا اور لوگ ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن گئے۔ یہ وہ ملک ہے جو اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کی سرخروئی کے لئے قائم ہوا تھا لیکن جہاں آج اسلام کی پامالی اور مسلمانوں کی بے وقعتی ہو رہی ہے۔ دکھ یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایک ہی خدا کے پیروکاروں،ایک ہی رسول کے عاشقوں اور ایک ہی قرآن کے ماننے والوں کے درمیان ہو رہا ہے۔ جو ملک پورے عالم اسلام کے لئے ایک عظیم مثال بن سکتا تھا وہ اپنی طبقاتی کشمکش کے سبب عالم اسلام کی رسوائی کا سبب بنا ہوا ہے۔
نبی رحمت ؐکے یوم ولادت با سعادت کے موقعہ پررونما ہونے والے متعدد واقعات سے یہ افسوس ناک حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ پاکستانی معاشرہ ظاہری طور پردین دار ہونے کے باوجود دین سے کس قدر دور ہے۔ یہ الزام تو سطحی معلوم ہوتا ہے کہ یہ حملہ ان عناصر نے کرایا ہے جو ذکر مصطفی کو شرک و بدعت قرار دیتے ہیں۔ ناچاقی اور دشمنی کی حد تک اختلافات کا ایک سبب مسلکی نظریات ہوسکتے ہیں لیکن اللہ کے حضور جھکے ہوئے لوگوں کو دھماکوں سے اڑا دینے کے اور بھی متعدد اسباب ہیں۔ ان میں معاشرتی اور علاقائی عصبیت کو بھی دخل ہے، لسانی اور سیاسی اختلافات کو بھی دخل ہے۔ خود الطاف حسین جو ایک طویل عرصہ تک مبینہ طور پر لسانی اور علاقائی عصبیت کا شکار رہے دوسرے طبقات کے ساتھ یہی سلوک کرتے رہے۔ مارکاٹ اور قتل و غارت گری کا تلخ تجربہ ان سے زیادہ اور کس کو ہوگا؟ ان کے ذریعہ قائم کئے گئے ٹارچر سیل کی لرزہ خیز داستانیں آج بھی ’’تکبیر‘‘ جیسی میگزینوں کی فائلوں میں محفوظ ہیں۔ انہوں نے خود اپنے ان ساتھیوں کو مظالم کا نشانہ بنایا جو ان کے سیاسی اور سماجی نظریات سے سرمو بھی اختلاف رکھتے تھے۔
پوری دنیا میں حال یہ ہے کہ مسلمانوں کا ہر طبقہ آج خود کو سب سے برتر اور برحق سمجھتا ہے لیکن اسی برتری اور حقانیت کی دھجیاں بھی اڑاتا ہے۔ ہمیں یہ جائزہ ضرور لینا ہوگا کہ ہم جو کہتے ہیں اس پر عمل بھی کرتے ہیں یا نہیں؟ یا ہم جو کرتے ہیں اس کا کوئی جوڑ اسلامی تعلیمات سے ہے بھی یا نہیں! مجموعی طور پر برصغیر کے مسلمانوں کے کھاتہ میں قول و عمل کے تضاد کے سوا کچھ بھی نہیں ملتا۔ بہت سے طبقات نے ایسی رسوم ایجاد کرلی ہیں کہ جن کا اصل اسلام اور اس کی روح سے ذرہ برابر بھی ربط نہیں ہے، ایسی رسوم اور اعمال سے جہاں ہم خدا کی ناراضگی مول لیتے ہیں وہیں دوسرے فرقوں کو خود پر ہنسنے کا بھی موقع دیتے ہیں۔
مضمون کی اولین سطور میں پاکستان میں ’’مذہبی حملوں‘‘کے ساتھ ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کا بھی ذکر آگیا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ اتنے ناموافق حالات میں بھی ہندوستانی مسلمانوں کو ایسے واقعات کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور وہ اپنی مذہبی اور پرامن مسلکی شناخت باقی رکھے ہوئے ہیں۔ حالانکہ یہاں حملوں کے لئے زمین تیار کرنے کی ضرورت نہیں ہے، یہاں ان عناصر کی بھی کمی نہیں ہے جو مخصوص شہریوں کو نشانہ پر رکھتے ہیں ‘یہاں حملہ آوروں کو کہیں باہر سے امپورٹ کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے ‘گجرات میں اس کی فیکٹری بھی موجود ہے مگر اس کے باوجود خدا کا شکر ہے کہ اللہ کے گھروں میں جھکے ہوئے سر کبھی نہیں کاٹے گئے، سجدہ ریز فرزندان توحید کو بموں سے کبھی نہیں اڑایا گیا، جنازوں اور ارتھیوں کے جلوسوں پر کبھی بم نہیں پھینکے گئے۔ ہم تو ایک دوسرے کے مُردوں تک کا احترام کرتے ہیں، ہندو جنازوں کو دیکھ کر اور مسلمان ارتھیوں کو دیکھ کر اپنا سانس روک لیتے ہیں۔ ایسے ملک میں جہاں ہزاروں فسادات ہوچکے ہوں بعض استثنائی واقعات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اہمیت اس امر کی ہے کہ ہندوستانی مسلمان اپنی تعداد میں دوسروں سے کم ہونے کے باوجود پاکستان کے مسلمانوںکے مقابلہ میں لاکھوں درجے محفوظ و مامون ہیں۔ اگر وہ دھارمک جنون کی بھینٹ چڑھتے بھی ہیں تو شہید کا درجہ پاتے ہیں لیکن جن فرزندان توحید کو دوسرے فرزندان توحید نے قتل کیا ہو انہیں کون سا درجہ ملے گا؟ پاکستانی معاشرہ کو اس پر غور کرنا چاہیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here