اسلم جمشید پوری
چھ ستمبر کو جب دہلی ہا ئی کورٹ کی خصوصی جج سنگیتا ڈھینگرا سہگل نے امر سنگھ کو14 دنوں کی عدالتی تحویل میں دئے جانے کا فیصلہ سنایا تو لوگوں کو حیرانی تو ہوئی لیکن بہت زیا دہ حیرا نی نہیں ہو ئی۔ کیوں کہ کئی دن سے تحقیقات اور بحث و مبا حثے کے بعد ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ امر سنگھ کی گرفتاری ہو سکتی ہے۔ لیکن ٹھا کر امر سنگھ کے تقریباً دو دہائیوں پر مشتمل سیا سی کریئر میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ یہ پہلا مو قع تھا جب امر سنگھ مجبور و بے کس نظر آ ئے۔ ورنہ ان کی حاضر جوابی، چرب زبانی اور سیا سی پینترے بازی کے آ گے بھلا کون ٹک پاتا تھا۔ ہندو ستانی سیاست کا بے مثل بازی گر، اپنی انگلیوں پر سیاست کے عروج و زوال طے کرنے اور کروا نے وا لا ،کبھی بادشاہ سے کم نہیں رہا۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ہندو ستان میں کم لوگ ایسےKingmakerہوتے ہیں جیسا کہ امر سنگھ رہے ہیں۔ اتر پردیش کی سیاسی بساط پر کھیل خواہ حکو مت میں رہ کر ہو یاحزب اختلاف میں رہ کر،امر سنگھ ہمیشہ مرکزی حیثیت میں رہے۔ ملائم سنگھ سے دوستی اور سماج وادی پارٹی کے اہم جنرل سیکریٹری، ترجمان اور ایم پی کی حیثیت سے امر سنگھ کے آ گے بھلا کس کا طو طی بو لتا تھا؟ ملا ئم سنگھ کو اعلیٰ ذاتوں خاص کر مشرق کے ٹھا کروں کے ووٹ کا مالک بنانے میں امر سنگھ کا کردار بے حد اہم رہا ہے۔یہی نہیں امر سنگھ سماج وادی پارٹی کے Un Official Sponsored کی حیثیت سے بھی خاصے معروف رہے۔ امر سنگھ خود سیا سی ہو نے کے ساتھ ساتھBusiness Man بھی رہے ہیں۔پھر ان کاPRصنعت کاروں ،فلم ادا کاروں اور فلم سازوں سے بہت بہتر رہا ہے۔سماج وا دی پارٹی میں اسٹار ڈمStardum کاتڑکا لگانے وا لے بھی امر سنگھ ہی تھے۔وہ خواہ امیتابھ بچن ہوں، جیا بچن یا جیا پردہ ہوں،سنجے دت ہوں یا ایشوریہ را ئے یا پھر معروف صنعت کار گھرانے ریلائنس ہوں یا سہارا گروپ۔۔۔۔۔۔۔یہ سب امر سنگھ کی زبان کا جادو ہی تھا کہ سب سماج وا دی اور ملائم سنگھ کے ساتھ جڑ گئے۔ یہی نہیں ابو عاصم اعظمی اور دیگر ممبئی میں سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے کی شکل میں ہونے والی فتح نے جہاںملائم سنگھ کی مقبولیت میں اضافہ کیا۔وہیں سماج وادی پارٹی کو قومی پارٹی کا ثبات بھی عطا کیا اور کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس میں امر سنگھ کا کردار غیر معمولی رہا ہے۔ امر سنگھ صرف یو پی میں ہی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز نہیں رہے ہیں بلکہ مرکز میں بھی ہمیشہ انفرا دیت کے حامل رہے ہیں۔ سماج وا دی پا رٹی کے قومی جنرل سیکریٹری رہتے ہو ئے امر سنگھ نے اپنی صلا حیت اور اہمیت کو اس حد تک تسلیم کروا یا تھا کہ وہ نہ صرف سماج وادی پارٹی کے لیے ناگزیر ہو گئے تھے بلکہ ملائم اور امر کی دوستی مثالی بن گئی تھی۔اس کی مثال اس وقت دیکھنے کو ملی جب سماج وادی پارٹی کے سینئر سیاست داں اور فائر برانڈ مقرر، سابق وزیر اعظم خاں اور امر سنگھ میں ٹھن گئی تھی تو اعظم خاںملائم دوستی، اعظم خاں کی قابلیت، سیاسی تجربات اور مسلمانوں میں مضبوط و مستحکم شناخت بھی ملا ئم سنگھ کو اعظم خاں کی طرف سے منہ پھیرنے سے نہیں روک پائی تھی۔ یہ امر سنگھ کی محبت، پریم وانی اور جا دو بیانی کا ہی اثر تھا کہ ملائم سنگھ نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی اور اعظم خاں کے عوض امر سنگھ کو منتخب کرلیا تھا۔ لیکن ملا ئم سنگھ کو بہت جلد ہی اپنی اس بڑی غلطی کا احساس ہو گیا تھا ۔کیوں کہ انہوں نے نہ صرف اعظم خاں کے مقابلے امر سنگھ کو فو قیت دی تھی بلکہ اس کڑی میں کلیان سنگھ کو بھی گلے لگانے کی حماقت کرلی تھی۔ اعظم خاں ایک چٹان کی طرح اپنے اعتماد، ایمانداری اور سیاسی تجربے کے ساتھ صبر کا دامن تھامے اللہ کے بھرو سے بیٹھے رہے اور پھر وہی ہوا، جو اعظم خاں کے حق میں تھا۔ یعنی یکے بعد دیگرے ایسے معاملات ہو تے گئے کہ امر سنگھ کی قلعی کھلتی گئی اور وہ دن بھی آ یا جب امر ،ملائم دوستی ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گئی اور ملائم کو اپنی فاش غلطی کا احساس بھی ہو گیا۔ امر سنگھ کے سماج وادی پارٹی سے اخراج کے بعد اعظم خاں کو ملائم سنگھ اُسی عزت وقار کے ساتھ، ان کی شرائط پر پارٹی میں واپس لانے پر مجبور ہو ئے۔ دوسری طرف امر سنگھ نے بھی ملا ئم سنگھ کو اپنی طاقت اور تعلقات کا نمو نہ دکھا یا۔ امر سنگھ نے سماج وادی پارٹی کے ہیرو، ہیروئین اور اسٹار ڈم کو دور کر نے کی کوشش کی۔ امیتابھ بچن، جیا بچن اور جیا پردا نے امر سنگھ سے اپنے تعلقات پر ملائم سنگھ کو پس پشت ڈالنے میں ذرا دیر نہ کی۔ امر سنگھ نے اپنے سیا سی کریئر کو نئی سمت دینے کے لیے اپنی پارٹی ہی بنا ئی اور مشرقی اضلاع میں خاصی مضبوط پوزیشن بنالی۔ لیکن کسے خبر تھی کہ قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ وہ صیاد جو ہمیشہ دوسروں کے لیے جال بچھاتا آ یا تھا، دوسروں کے آ گے چار ہ ڈا لنا،دوسروں کو چارہ بنانا، سیاسی بادشاہ بنانا اور چٹکیوں میں تہہ و بالا کردینے وا لا بازی گر،خود اپنے دام میں گرفتار ہو گیا۔ نجانے کتنی بار صوبائی سرکار کو گرنے سے بچا نے وا لا ماسٹر مائنڈ، مرکز میں بھی سرکار کو بچانے کا معمولی سا کھیل، بڑی ہنر مندی اور چالاکی سے کھیل گیا، لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ اونٹ کبھی نہ کبھی پہاڑ کے نیچے ضرورآ تا ہے، تب اُسے علم ہو تا ہے کہ اُ س سے بڑا بھی کو ئی ہے اور پھر جب قسمت پلٹتی ہے تو جیتی ہو ئی بازی بھی شکست میں تبدیل ہو جاتی ہے۔امر سنگھ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔’نوٹ برا ئے ووٹ‘ معاملے میں تمام تراکیب اور ذہنی گھو ڑے دوڑانے اور سیا سی دائو پیچ کھیلنے کے باوجود، امر سنگھ جب خود کو پھنستا ہوا محسوس کرنے لگے تو آخری پانسے کے طور پر انہوں نے انسانی ہمدردی کا مہرہ چلا اور اپنے دو نوں گردوں کے تبدیل ہو نے کی بات کہی۔ لیکن شاید فیصلہ پہلے ہی لکھا جاچکا تھا۔جج نے امر سنگھ اور ان کے وکیل کی دلیل مسترد کرتے ہو ئے امر سنگھ اور دو بی جے پی کے سابق ایم پی کو 14 دن کی عدالتی تحویل میں دیتے ہوئے تہاڑ جیل بھیجنے کا حکم صادر فرمایا اور پھر پولیس انتظا میہ نے سخت پہرے کے درمیان امر سنگھ کو تہاڑ جیل میں دوسرے وی آئی پی حضرات کی طرح میڈیکل کرا کے بیرک نمبر3 کے وارڈ میں پہنچا دیا ۔ امر سنگھ، ان کے بہی خواہ اور پولیس انتظامیہ کو بھی شاید یہ امید تھی کہ امر سنگھ کے جیل جانے پر عوا می سطح پر بڑا احتجاج ہو گا اور مزا حمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ شاید اب عوام سب کچھ سمجھنے لگے ہیں یا پھر عوام کو یقین ہو گیا تھا کہNote For Vote کے معاملے میں امر سنگھ قصور وار ہیں۔
امر سنگھ جیل تو چلے گئے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ایک بڑا راز بھی وہ اپنے سینے میں دفنائے لے گئے۔ جیل کے لئے پولیس کے ہمراہ جاتے ہو ئے ان کی ویران آ نکھوں میں متعدد راز غو طہ زن تھے۔ امر سنگھ بخو بی جانتے ہیں کہ ان کا کردار اس پو رے کھیل میں صرفMeditarکا تھا، رو پیہ کس نے دیا۔۔۔۔۔۔کون ہے جس کے اشا رے پر امر سنگھ نے یہ بساط بچھائی؟ کیا وہ کانگریس کا بہت بڑا شخص ہے کہ امر سنگھ ان کا نام لے کر کوئی مصیبت مول لینا نہیں چاہتے تھے۔۔۔۔۔یا پھر امر سنگھ نے خود کی گرفتاری کو بھی اپنے سیا سی کیرئر کے گرتے گرا ف کے لیے ’سنجیو نی بوٹی‘ سمجھا ہے اور کچھ دن جیل میں رہنے سے انہیں یقین ہو کہ عوام میں ہمدردی کی ایک لہر، انہیں رہا ئی کے بعد زیا دہ مقبول بنا سکتی ہے اور پھر مناسب وقت آ نے پر اس راز کو دنیا کے سامنے لا ئیں گے؟ کچھ بھی ہو، امر سنگھ ایسے کھلاڑی تو بالکل نہیں کہ اتنی آسانی سے شکست تسلیم کرلیں ۔ضرور کوئی ایسا معاملہ ہے جو مستقبل کے شکم میں محفوظ ہے۔ رہا ئی کے بعد امر سنگھ کون سی چال چلتے ہیں؟کون سا گل کھلاتے ہیں؟یا کس بڑے راز یا اسکینڈل کا پردہ فاش کرتے ہیں ؟یہ تو وقت ہی بتا ئے گا، ہو سکتا ہے، وقت ان پر پھر مہر بان ہو جائے مگر وہ جو کہتے ہیں نا کہ عزت کا شیشہ بڑا نازک ہو تا ہے،ایک بار بال آ جائے تو پھر بال ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ ویسے for Vote  Note کا یہ معاملہ ابھی اور طویل ہونے اور اس کا دائرہ وسیع ہو نے کا امکان لگتا ہے۔بی جے پی اور کانگریس دو نوں اس کی آگ میں جھلس سکتے ہیں اور ہو سکتا ہے رہا ئی کے بعد امر سنگھ اس کام کو انجام دیں۔ بہر حال۔۔۔۔۔آگے آگے دیکھئے ہو تا ہے کیا؟g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here