ٹھاکرتاکا استعفیٰ: چوتھے ستون پر حملہ

Share Article

سریش ترویدی
کرنٹ افیئرس کی مشہور میگزین ’اکانومک ایند پالیٹیکل ویکلی‘ کے ایڈیٹر پرنجے گُہا ٹھاکرتا نے گزشتہ دنوں اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ٹھاکرتا نہ صرف تحقیقاتی صحافت کے لیے جانے جاتے ہیں بلکہ ان کا شمار ایسے سینئر صحافیوں میںکیا جاتا ہے جو اقتصادی معاملوں کی گہر ی سمجھ رکھتے ہیں۔ ٹھاکرتا کا اکانومک اینڈ پالیٹیکل ویکلی سے استعفیٰ ان دنوں میڈیا کی دنیا میں سرخیا ں بٹوررہا ہے۔ کہا تو یہ جارہا ہے کہ ٹھاکرتا کی رخصتی کے پیچھے اکانونک اینڈ پالیٹیکل ویکلی میںچھپی ان کی وہ دورپورٹیں ہیں جو انھوں نے وزیر اعظم مودی کے قریبی سمجھے جانے والے صنعت کارگوتم اڈانی کی کمپنیوں کے کارناموں کا خلاصہ کرنے کے کے مقصد سے لکھی تھیں۔ لیکن ان رپورٹوں میںایسا کیا تھا جس کا خلاصہ ہوتے ہی کئی بڑے کارپوریٹ گھرانوں کی اقتصادی حکمرانی کی طاقت کے مرکز اچانک اتنے پریشان ہوگئے کہ وہ جمہوریت کے چوتھے ستون کی آزادی پر حملہ کرنے کے لیے بے چین ہو اٹھے۔ نتیجتاًٹھاکرتا جیسے قلم کے بے خوف سپاہی کو آناً فاناً بے دخل ہونا پڑا۔ آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
اکانومک اینڈپالیٹیکل ویکلی کے جنوری 2017 کے شمارے میں پرنجے گُہا ٹھاکرتا نے ایک مضمون شائع کیا، جس میں یہ خلاصہ کیا گیا تھا کہ اڈانی گروپ نے 2003-04 اور 2004-05 میں ڈائمنڈ اور سونے کے جڑاؤ زیورات کے امپور ٹ و ایکسپورٹ کے ذریعہ تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے کی چوری کی ہے۔مضمون کے مطابق سال 2003-04 میں وزارت صنعت و تجارت نے برآمدات بڑھانے کے مقصد سے کچھ ترغیبی اسکیمیں شروع کیں۔ غیر ملکی تجارت کے ڈائریکٹر جنرل کے ذریعہ اعلان کی گئیں ان اسکیموں میں ڈیوٹی فری کریڈٹ انٹلائٹل منٹ ( ٹی ایف سی ای) اور ٹارگٹ پلس اسکیم (ٹی پی ایس) اہم تھیں۔ ان اسکیموں کے لیے صرف اسٹیٹس ہورلڈ کمپنیوں کو ہی اہل مانا جاتا ہے۔ وزارت تجارت کے ذریعہ مقررکیے گئے معیاروں کے مطابق اسٹیٹس ہولڈر وہ کمپنیاں ہیں جن کی سالانہ برآ مدات پچیس کروڑ سے زیادہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھی گئی کہ ان کمپنیوں کی برآمدات میں 2002-03 کے مقابلے 2003-04 میںکم سے کم پچیس فیصد کی بڑھوتری ہو۔ ان کمپنیوںکو ڈی ایف سی ای اسکیم میں ان کی بڑھی ہوئی برآمدات کے 10 فیصد کے برابر اور ٹی پی ایس اسکیم میں 5 سے 15 فیصد تک مالی فائدہ دینے کا پروویژن تھا۔ ظاہر ہے کہ دونوںاسکیمیں کافی پرکشش تھیں۔ لہٰذا سرکاری اسکیموں کے ذریعہ دم توڑ رہے درآمدات وبرآمدات کے کاروبار کارنگ چوکھاکرنے کے لیے اڈانی سمیت کئی صنعتی گھرانے اس دھندے میںکود پڑے۔

 

 

 

کہا جاتا ہے کہ سرکاری پیسے کی لوٹ کے لیے اڈانی ایکسپورٹس ،جس کا ایکسپورٹ کاروبار سال 2002-03 میں تقریباً 377 کروڑ تھا۔پہلے ہندوجا ایکسپورٹس،آدتیہ کورپیکس، مڈیکس اوورسیز،بگڑیا بردرس اور جینت ایگرو کے ساتھ مل کر ایک اتحاد بنایا۔ بعد میںاس میںملک و بیرون ملک کی چالیس سے زیادہ دوسری کمپنیوں کو شامل کرلیا۔ ان میںسے زیادہ تر کمپنیاں ہانگ کانگ دبئی، شار جہ اور سنگاپور کی بتائی جاتی ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس کا ماننا ہے کہ سرکاری انسینٹو منی کی بندربانٹ کے لیے بنی کمپنیوں کے اس مکڑجال میںزیادہ تر کمپنیوں کا کنٹرول براہ راست یا بالواسطہ طور پر اڈانی گروپ کے پاس ہی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان کمپنیوں نے آپس میںڈائمنڈ، جڑاؤ سونے کے زیورات وغیرہ کی خریدوفروخت کی اور ایک طرح سے فرضی ایکسپورٹ اور امپورٹ دکھاکر بڑے پیمانے پر سرکاری خزانے کو چپت لگائی۔ بن الاقوامی تجارت کی زبان میں اسے سرکولر ٹریڈنگ کہا جاتا ہے۔
اس سرکولر ٹریڈنگ کے بہانے کیا کیا کارنامے کیے گئے یہ جاننا اور دلچسپ ہے۔ ریونیو ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ اڈانی گروپ اور اس کی معاون کمپنیوں نے امپورٹ کیے گئے مال کے بلوں کو کافی بڑھا چڑھاکر دکھایا۔ ہیروں کو بغیر تراشے ان کی کوالٹی میںفرضی اضافہ درج کیاگیا۔ ایک ہی مال کو بار بار آپس میں خریدا بیچا اور اپنا ٹرن اوور بڑھایا۔ دبئی سے سونے کی چھڑیں امپورٹ کیں، انھیں موٹے جڑاؤ کے زیورات میںبدل کر واپس بھیجا اور بعد میںان زیورات کو گلاکر پھر چھڑوں کے طور پر امپورٹ کرلیا۔ اڈانی ایکسپورٹس نے ایک اور کرشمہ کیا۔ اس نے بغیر گھڑے کچے ہیروں کا بھاری امپورٹ دکھایا جبکہ ہندوستان روایتی طور پر کچے ہیروں کا امپورٹ کرنے والا ملک نہیں ہے۔ اڈانی گروپ پر سرکاری مہربانی کا نتیجہ یہ رہا کہ 2002-03 میںمحض 377 کروڑ کا امپورٹ کاروبار کرنے والی اس کمپنی کا امپورٹ اگلے سال یعنی2003-04 میں11 گنا بڑھ کر 4657 کروڑ اور 2004-05 میں اچھل کر 10,808 کروڑ تک پہنچ گیا۔ تقریباً یہی حال ہندوجا ایکسپورٹس ، آدتیہ کورپیکس سمیت دوسری کمپنیوں کا بھی رہا۔ فارین ٹریڈ ڈائریکٹوریٹ کو جیسے ہی لگا کہ سرکاری مدد کی بڑے پیمانے پر لوٹ شروع ہوگئی ہے،اس نے دونوں انسینٹو پلانس پر روک لگادی۔ڈائریکٹوریٹ کے اس فیصلے کے خلاف کچھ کمپنیوں نے سپریم کورٹ میں فریاد کی لیکن کورٹ نے ان کی اپیل خارج کردی۔ اندازہ یہ ہے کہ اس بیچ اڈانی گروپ کسٹم اور انسینٹو منی کو ملاکر سرکار کو تقریباً ایک ہزار کروڑ کا چونا لگانے میںکامیاب رہا۔
اکانومک اینڈ پالیٹیکل ویکلی میں چھپے دوسرے مضمون میں پرنجے گُہا ٹھاکرتا نے اور سنجیدہ الزام لگائے۔ ٹھاکرتا نے دعویٰ کیا کہ اڈانی پاور کو فائدہ پہنچانے کے لیے سرکار نے اسپیشل اکانومک زون (ایس ای زیڈ) کے اصولوں میں تبدیلی کی ور اس طرح اڈانی گروپ کو پانچ سو کروڑ کا کسٹم ری فنڈ دینے کا راستہ صاف کردیا۔
دراصل اڈانی پاور لمیٹڈ موندڑا سیز میںواقع پاور ہاؤس کے لیے انڈونیشیا سے کوئلہ امپورٹ کیا جاتا ہے۔ ضابطوں کے مطابق اس کوئلے پر کسٹم فیس نہیںلی جاتی۔ لیکن اگر پاور ہاؤس میںپیداہوئی بجلی سیز کے باہر شہری علاقے کو بیچی جاتی ہے تو پاور ہاؤس کو کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ نہیں دی جائے گی۔ اڈانی پاور موندڑا ایس ای زیڈ میں پیدا ہوئی بجلی باہر کھلے بازار میںبیچتا ہے، اس لیے وہ کسٹم چھوٹ کا قانوناً حقدار نہیں ہے۔ لیکن سرکار نے اڈانی گروپ کو فائدہ پہنچانے کے لیے اگست 2016 میں سیز اصولوں میں تبدیل کردی۔ سرکار کے اس فیصلے کے بعد اڈانی پاور نے 506 کروڑ کی کسٹم ڈیوٹی ری فنڈ کا دعویٰ پیش کردیا۔ جب یہ معاملہ گجرات ہائی کورٹ پہنچا تو وہاں بھی اڈانی گروپ نے تال ٹھوک کر کہہ دیا کہ وہ امپورٹ کیے ہوئے کوئلے پر ادا کی گئی کسٹم ڈیوٹی کی بنیاد پر ہی ری فنڈ کی مانگ کررہا ہے جبکہ اکانومک اینڈ پالیٹیکل ویکلی میںچھپے ٹھاکرتا کے مضمون میںکیے گئے دعوے کے مطابق، یہ کسٹم فیس اڈانی پاور لمیٹڈ کے ذریعہ آج تک ادا ہی نہیںکی گئی ہے۔
اکانومک اینڈ پالیٹیکل ویکلی کے اس سنسنی خیز خلاصہ کے بعد اڈانی گھرانہ تلملا اٹھا اور اس نے میگزین کے ایڈیٹر، پبلشرکے خلاف ہتک عزت کا قانونی نوٹس بھیج دیا۔ پردے کے پیچھے کچھ اور بھی زور آزمائش ہوئی۔ نتیجتاً اکانومک اینڈ پالیٹیکل ویکلی کے ایڈیٹر پرنجے گُہا ٹھاکرتا کی چھٹی ہوگئی۔

 

 

 

استعفیٰ کی کہانی ٹھاکرتا کی زبانی
پرنجے گُہا ٹھاکرتا کا اکانومک اینڈ پالیٹیکل ویکلی سے جانا میڈیا کی دنیا کے لیے ایک برے خواب کی طرح ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ سے ہوئی ایک خاص بات چیت میںانھوں نے بتایا۔ ’’سمیکشا ٹرسٹ کی 16 جولائی کو ہوئی میٹنگ میںمجھے بلایا گیا۔ اس میٹنگ میںٹرسٹ کے چیئرمین دیپک نائر، منیجنگ ٹرسٹی ڈی این گھوش سمیت تاریخ نویس رومیلا تھاپر، دیپانکر گپتا، راجیو بھارگو،ششی مینن جیسے سبھی ٹرسٹی شامل تھے۔ میٹنگ میںٹرسٹیوںنے کانومک اینڈ پالیٹیکل ویکلی میںاڈانی گروپ کے خلاف چھپے مضامین پر اپنی ناراضگی جتائی۔ ٹرسٹیوں نے اس پر بھی اعتراض کیا کہ میں نے ٹرسٹ کی اجازت لیے بغیر اڈانی کے قانونی نوٹس کا جواب کیسے عام کردیا۔ میرے معافی مانگنے کے بعد بھی وہ مطمئن نہیں ہوئے۔ ٹرسٹیوں نے دونوں مضامین کو فوراً میگزین کی ویب سائٹ سے ہٹانے کو کہا۔ یہ بھی کہا کہ ان مضامین کے ہٹنے کے بعد ہی آپ کمرے سے باہر جائیں گے۔ میںنے وہیں سے آفس کے معاونین کو فون کر کے دونوں رپورٹیں ویب سائٹ سے ہٹوادیں۔
میرے باربار یہ کہنے پرکہ میگزین میںچھپی دونوں خبروں سے متعلق سارے ثبوت ہمارے پاس دستیاب ہیں۔ وزارت خزانہ کی وزارت تجارت نے آج تک ان خبروں میںدیے حقائق کی تردید نہیںکی ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ قانونی نوٹس صرف ہمیںڈرانے دبانے کے لیے ہے۔ میری اس صفائی سے بھی ٹرسٹیز نہیںپسیجے اور انھوں نے صاف کہا کہ ہمارا آپ پر اب یقین نہیں رہا۔ ٹرسٹ کی طرف سے یہ بھی ہدایت دی گئی کہ اس کی اجازت کے بغیر اکانومک اینڈ پالیٹیکل وکیلی میں میرے نام سے آگے مضمون نہیںچھپے گا۔ بس یہ حد تھی ۔ یہ چوتھے ستون پر سیدھا حملہ تھا اور اس کے بعد میںنے وہیں اپنا استعفیٰ سونپ دیا۔‘‘

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *