دہشت گردی کے ساتھ ساتھ منشیات کی بھی انڈسٹری بن رہا ہے پاکستان

Share Article

p-8bیہ بات بہت مشہور ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے لئے زرخیز زمین ہے۔ وہاں دہشت گردوں کو پنپنے، پروان چڑھنے اور اپنی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کا موقع دیا جاتا ہے۔اگرچہ پاکستان اس کو ماننے سے انکار کرتا ہے۔ میں اس وقت صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ دہشت گردی کے علاوہ پاکستان میں ایک او ر ایسے عمل کو انجام دیا جاتا ہے جو انسانوں کے لئے دہشت گردی کی طرح ہی تباہ کن ہے۔ وہ ہے منشیات کا استعمال ۔ پاکستان میں تقریباً 70 لاکھ لوگ منشیات کے عادی ہیں جبکہ اس کے روزانہ استعمال کے نتیجے میں 700 افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔یہ بات سینیٹر رحمان ملک کی سربراہی میں سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ اور انسداد منشیات کے ایک اجلاس میں بتائی گئی ہے۔اس اجلاس میں انسداد منشیات فورس کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل خاور حنیف نے بھی منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں 30لاکھ افراد ڈاکٹری نسخہ کے بغیر ادویات استعمال کرتے ہیں اور منشیات کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد دہشت گردی میں مرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے، کیونکہ دہشت گردی سے اوسطاً 39 جبکہ منشیات کی وجہ سے 700 ہلاک ہوتے ہیں۔اجلاس میں ایک خاص بات پر روشنی ڈالی گئی کہ پاکستان کو 2011 سے ’پوست فری‘ قرار دیا جا چکا ہے لیکن افغانستان میں پوست کی کاشت 7000 ہیکٹر سے بڑھ کر 22500 ہیکٹر تک جا پہنچی ہے۔جس کی وجہ سے منشیات کو فروغ مل رہا ہے اور اس پوست سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر منشیات کا کاروبار ہورہا ہے اور اس کا استعمال بھی خوب ہورہا ہے۔پاکستان میں منشیات کے بڑھتے رجحان پر کنٹرول کرنے کے لئے 32 ملکوں کے حکام پاکستان میں تعینات ہیں مگر اس کے باوجود اس کی روک تھام میں کامیابی نہیں مل رہی ہے۔حالانکہ منشیات کے عادی افراد کی عادتوں کو چھڑانے کے لئے ای این ایف کے چار ہسپتال کام کر رہے ہیں اس کے باجود تمام کوششیں ناکام ہورہی ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ حکومت اور سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے اتنے بڑے پیمانے پر کوشش ہونے کے باجودیہ نحوست ختم کیوں نہیں ہورہی ہے۔ اس سلسلے میں ایک بات یہ کہی جارہی ہے کہ اگر چہ حکومت کی طر ف سے منشیات کو ختم کرنے کی باتیں کہی جاتی ہیں لیکن اس سلسلے میں فنڈز فراہم نہیں کرائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی روک تھام کے لئے کارگر طریقے پر عمل نہیں ہوپاتا ہے۔ اس سلسلے میں انسداد منشیات فورس کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل خاور حنیف افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ منشیات کے خلاف کام کرنے والی ٹیم کو فنڈز نہیں ملتے ۔’سعودی عرب نے ہمیں کچھ ا سکینرز دیے ہیں جو واہگہ بارڈر پر نصب ہیں۔ اسی طرح متعلقہ آلات کی فراہمی کیلئے چین سے بھی بات چیت جاری ہے۔مگر ابھی تک اس میں کامیابی نہ ملنے کی وجہ سے پاکستان منشیات استعمال کرنے والوں کے لئے زرخیز زمین بنا ہوا ہے۔ حالانکہ اس سلسلے میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور رواں سال 13انٹرنیشنل گروہوں سمیت 106 منشیات کے گروہوں کو ختم کیا گیا۔’2015 میں تقریباً 344 ، 2014 (426)، 2013 (540)جبکہ 2012 میں 552مجرموں کے خلاف مقدمے چلائے گئے۔
پاکستان میں منشیات کے بڑھتے رجحان پر اقوام متحدہ کی طرف سے ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد میں ایک برس کے دوران 100 فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔یہ بات اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کے سالانہ جائزے میں کہی گئی ہے جس میں گزشہ سال کے دوران ملک میں منشیات کے استعمال اور اس کے تدارک کے لیے ہونے والی کوششوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک برس میں 67 لاکھ افراد نے کسی نہ کسی شکل میں منشیات کا استعمال کیا ہے جن میں سے تقریباً ایک تہائی نشے کے عادی بھی بن چکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق نشہ کرنے والے افراد کی تعداد اس سے پچھلے سال 29 لاکھ ریکارڈ کی گئی تھی۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں یہ لت تیزی سے جڑ پکڑ رہی ہے۔اقوامِ متحدہ کے دفتر کے مطابق ان منشیات میں چرس، ہیروئن، افیم اور نیند آور ادویات شامل ہیں۔رپورٹ میں سرنج کے ذریعے نشہ آور اشیا اپنے جسم میں داخل کرنے والے افراد کے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔اس سروے میں ملک کے چاروں صوبوں اور دیگر علاقوں میں رہنے والے 15 سے 64 برس کے مرد و خواتین کو شامل کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نشے کے عادی زیادہ تر افراد کی عمریں 25 سے 39 برس کے درمیان ہیں۔
رپورٹ میں نشے کے افراد کے علاج کی مفت سہولیات موجود نہ ہونے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔یہ رپورٹ پاکستان کے لئے انتہائی تشویش کی بات ہے۔ ایک تو پاکستان دہشت گردوں کا اڈہ بنا ہوا ہے اور دوسری طرف منشیات کا خطرہ بھی اس کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے ۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کی روک تھام کے لئے پاکستان کی طرف سے کارگر کوشش نہیں کی جارہی ہے ورنہ اتنی تیز رفتاری سے اسے بڑھنے کا موقع نہ ملتا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *