تلنگانہ کے جھٹکے: ایک تار کے چھیڑتے ہی سبھی ساز بجنےلگے

Share Article

اے یو آصف 

ایک ایسے وقت جب 2014 کے عام انتخابات کی آہٹ سنائی پڑ رہی ہے، مرکز میں برسراقتدار کانکریس قیادت والی یوپی اے نے محض اپنے سیاسی مفادات کے پیش نظر 44برس سے چلے آرہے تلنگانہ مسئلہ کو حل کرنے کے لیے ایک تار چھیڑ کر تمام سازوں کو بجا دیاہے اور پھر خود مجبور محض نظرآرہی ہے۔ ملک کےمختلف حصوں سے چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے مطالبات از سرنو کھڑے ہوگئے ہیں اور بعض مقامات پر تو مظاہروں نے تشدد کی شکل بھی اختیار کرلی ہے۔ غلط وقت پر اس مسئلہ کو غلط طریقے سے ڈیل کرنے سے خود کانگریس کی کشتی کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ پیش خدمت ہے اس تعلق سے فکرانگیز تجزیہ۔

Mastسچ تو یہ ہے کہ تلنگانہ کے ایک جھٹکے نے پورے ملک کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ گزشتہ 30 جولائی کو مرکز میں برسر اقتدار کانگریس قیادت والے متحدہ ترقی پسند محاذ (یو پی اے) کے ذریعے آندھرا پردیش کی تقسیم کرکے تلنگانہ کو ہندوستان کی 29 ویں ریاست کے طور پر بنانے کے فیصلہ کا اعلان ہوتے ہی ملک کے مختلف حصوں میں مزید 21 نئی ریاستوں کے مطالبات پر زور انداز سے شروع ہو گئے اور 1956 کے بعد ایک بار پھر ریاستوں کی تقسیمِ نو کرکے امریکہ کی طرز پر 50 ریاستوں کی تشکیل کی بات کی جانے لگی۔ علاوہ ازیں سیماندھرا کے 17 اراکین پارلیمنٹ نے دونوں ایوانوں سے ریاست کی تقسیم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا، جن میں لوک سبھا میں کانگریس کے آٹھ، تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے چار اور وائی ایس آر کانگریس کے ایک کے علاوہ راجیہ سبھا میں ٹی ڈی پی کے تین اور کانگریس کے ایک شامل ہیں۔
اسی بیچ آندھرا خطہ کے 9 مرکزی وزراء نے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو آندھرا پردیش اسمبلی / قانون ساز کونسل میں کانگریس کے سیماندھرا لیجسلیچرس بشمول 17 وزراء اور 80 اراکین اسمبلی / کونسل کے ذریعے پاس کردہ قرارداد پیش کی۔ قرار داد میں آندھرا پردیش کو متحد رکھنے کے مطالبہ کے ساتھ آل انڈیا کانگریس کمیٹی سے ریاست کو تقسیم کرنے کے تعلق سے کانگریس ورکنگ کمیٹی کے فیصلہ کو کالعدم قرار دینے کو کہا گیا ہے۔

جہاں تک تلنگانہ کا مسئلہ ہے، تو اس کا تعلق 1953 میں قائم ہوئے ایس آر سی سے ہے۔ اسی کی سفارش پر آندھرا پردیش چند ریاستوں کے کچھ علاقوں کو لے کر وجود میں آیا تھا اور اس میں تلنگانہ کا علاقہ بھی شامل تھا۔ جب اس علاقہ کا ایمپاورمنٹ نہیں ہوا اور اس کے تعلق سے وعدے پورے نہیں کیے گئے، تو عدم اطمینان بڑھا اور پھر 1969 سے علیحدہ ریاست کا مطالبہ شروع ہو گیا۔ یہ مسئلہ تو 44برس سے مستقل چل ہی رہا تھا۔ عام انتخابات سے عین قبل تلنگانہ کے 17 اراکین پارلیمنٹ کی لالچ میں کانگریس / یو پی اے نے تلنگانہ کو ریاستی درجہ دینے کے تعلق سے جو قدم اٹھایا ہے، وہ خلوص نیت پر مبنی نہیں ہے، اس میں اس کے سیاسی مفادات موجود ہیں اور اس فیصلہ کو کرتے وقت ملک کے مجموعی مفادات کو پیش نظر نہیں رکھا گیا ہے۔

دریں اثنا، اراکین پارلیمنٹ نے ایوان کے پورٹیکو میں احتجاج بھی کیا اور کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج تب تک چلتا رہے گا، جب تک کہ پارٹی / حکومت تلنگانہ کے تعلق سے اعلان کو واپس نہ لے لے۔ اس طرح پارلیمنٹ کے اندر بھی مانسون اجلاس کے 5 اگست کو شروع ہوتے ہی آندھرا پردیش کو متحد رکھنے کی آواز بھی گونج رہی ہے۔ دوسری جانب کانگریس کے لیے تلنگانہ راشٹریہ سمیتی (ٹی آر ایس) کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ سے ڈیل کرنا بھی مشکل پڑ رہا ہے۔ کانگریس کے لیے یہ تمام مصیبت ایک ایسے وقت آ پڑی ہے، جب عام انتخابات کے ہونے میں مشکل سے آٹھ ماہ باقی ہیں۔
ظاہر سی بات ہے کہ اس کٹھن وقت میں مرکز کی کانگریس قیادت والی یو پی اے حکومت اس حالت میں اپنے آپ کو نہیں پا رہی ہے کہ کوئی بھی حتمی فیصلہ کرکے صورتِ حال کو قابو میں لائے۔ اسے جہاں ایک جانب گزشتہ 30 جولائی کو خود تلنگانہ کے تعلق سے اپنے ہی کیے گئے فیصلہ پر ثابت قدم رہنا مشکل ہو رہا ہے، وہیں دوسری جانب وہ اس فیصلہ کو واپس لینے کی پوزیشن میں بھی اپنے آپ کو نہیں پا رہی ہے، کیوں کہ اگر وہ تلنگانہ کے فیصلہ کو واپس لیتی ہے، تو اسے تلنگانہ تحریک کے لوگوں سے نمٹنا پڑے گا، جو کہ اس کے بس میں نہیں ہے، کیوں کہ مذکورہ تحریک، جو کہ 1969 سے جاری ہے، نے پورے علاقے میں اپنی جڑیں بڑی گہری بنا لی ہیں اور اب کوئی حتمی فیصلہ کرکے اسے واپس لینا، انہیں مشتعل کرنا اور آگ میں تیل پھینکنے کے برابر ہوگا۔
ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر کانگریس نے یہ جوکھم بھرا قدم کیوں اٹھایا؟ دراصل، بات یہ ہے کہ اس کے ریاست آندھرا پردیش کے اراکین پارلیمنٹ و دیگر حلیفوں نے مرکز میں یو پی اے – I اور یو پی اے – II دونوں سرکاروں کے قیام میں اہم رول ادا کیا تھا۔ آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی ہوائی حادثہ میں اچانک موت نے ریاست میں کانگریس کو بکھراؤ کی حالت میں لا دیا، کیوں کہ ان کے بیٹے ریاست کی قیادت کا دعویٰ لے کر اٹھ کھڑے ہو گئے۔ پھر اب، جب 2014 کے عام انتخابات قریب آنے لگے، تو کانگریس کو لگنے لگا کہ اگر اُس نے اپنی پوزیشن ریاست میں ٹھیک نہیں کی، تو اس کا مرکز میں اقتدار میں واپس آنا بہت مشکل ہی نہیں، بلکہ ناممکن ہو جائے گا۔ لہٰذا، اس بات کے پیش نظر کانگریس نے تلنگانہ کی علیحدہ ریاست کے مطالبہ کو ماننے کا جوکھم بھرا فیصلہ کیا، تاکہ عام انتخابات میں اسے نقصان ہونے کا جو اندیشہ ہے، اسے ختم کیا جاسکے۔ تلنگانہ کے مذکورہ فیصلہ سے کانگریس کو ایسا لگتا ہے کہ وہاں کے تمام 17 اراکین پارلیمنٹ کو حمایت مل جانے سے وہ پارلیمنٹ میں اکثریت میں آنے کی راہ آسانی سے ہموار کر لے گی۔ اس طرح اس نے آندھرا پردیش کے بقیہ اراکین پارلیمنٹ کی فی الوقت فکر نہیں کی اور یہ سوچا کہ وہ انتخابات کے بعد اُن سے کوئی ڈیل کرنے کی کوشش کرے گی۔ دراصل، تلنگانہ کے تعلق سے مرکز کے فی الوقت فیصلہ کرنے کے پیچھے یہ سب محرکات تھے۔
اسے یہ اندازہ اتنا نہیں تھا کہ سیماندھرا کے تمام اراکین پارلیمنٹ و دیگر متعلق افراد سے اتنی ہی مخالفت مول لینی پڑے گی اور وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ان کا جینا دو بھر کر دیں گے۔ لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ کانگریس نے آخر ایسا کیوں سوچ لیا اور اپنے سیماندھرا کے افراد کو نظر انداز کیوں کر دیا؟ حیرت کی دوسری بات تو یہ ہے کہ اس نے ملک کے دیگر حصوں میں پہلے سے موجود چھوٹی چھوٹی علیحدہ ریاستوں کے مطالبات کی چنگاری کا بھی خیال کیوں نہیں کیا؟
اب سوال یہ ہے کہ وہ موجودہ صورتِ حال سے کیسے نمٹے؟ اگر وہ تلنگانہ کے اپنے فیصلہ پر قائم رہتی ہے، تو وہ سیماندھرا کے اپنے اراکین و دیگر حامیوں کو کیسے منائے گی؟ دوسری جانب وہ ملک کے مختلف حصوں میں چھوٹی چھوٹی علیحدہ ریاستوں کے مطالبات کی چنگاری کو، جو کہ پوری طرح سلگ چکی ہے، کیسے بجھائے گی؟
جیسا کہ واضح ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں پہلے سے ہی چھوٹی چھوٹی نئی علیحدہ ریاستوں کی تشکیل کے مطالبات پہلے سے ہی ہوتے رہے ہیں۔ تلنگانہ کے مذکورہ فیصلہ نے پہلے سے کیے جا رہے مطالبات کے پورا کرنے والوں کو قوت عطا کی اور وہ سب کے سب میدان میں کود پڑے۔ تبھی تو کہا جا رہا ہے کہ اِن دنوں پورے ملک میں مزید 21 نئی چھوٹی چھوٹی علیحدہ ریاستوں کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ ان مطالبات میں موجودہ اتر پردیش سے نکال کر اودھ پردیش، پوروانچل، بندیل کھنڈ، ہرت پردیش یا پشچم آنچل؛ اتر پردیش، راجستھان اور مدھیہ پردیش سے نکال کر برج پردیش؛ مشرقی اتر پردیش، بہار اور چھتیس گڑھ سے نکال کر بھوجپور؛ بہار سے نکال کر متھلانچل؛ بنگال سے نکال کر گورکھا لینڈ؛ مغربی بنگال اور آسام سے نکال کر کامتا پور؛ آسام سے نکال کر بوڈو لینڈ، کربی انگ لانگ؛ آسام اور ناگا لینڈ سے نکال کر ڈیما راجی یا ڈیما لینڈ؛ چھتیس گڑھ، اوڈیشہ اور جھارکھنڈ سے نکال کر کوسل؛ مہاراشٹر سے نکال کر وِدربھ؛ منی پور سے نکال کر کوکی لینڈ؛ گجرات سے نکال کر سوراشٹر؛ کرناٹک سے نکال کر کورگ اور ٹولو لینڈ؛ مشرقی ہند سے نکال کر کونکنی زبان بولنے والے افراد کے لیے کونکن؛ میگھالیہ سے نکال کر گارو لینڈ اور تمل ناڈو سے نکال کر کونگو ناڈو جیسی نئی نئی اور چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی تشکیل کی بات ہے۔ یہ سب مطالبات دراصل کل 21 ریاستوں کے تعلق سے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، ان کے علاوہ بھی کچھ اور علاقوں کے بھی مطالبات ہیں۔ مثلاً معروف کالم نویس شوبھا ڈے نے اپنی ٹویٹ میں ممبئی کو پھر سے ریاستی درجہ دینے کی بات اٹھا دی ہے اور اس پر ہنگامہ بھی ہو رہا ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ ایک ایسے وقت، جب کہ موجودہ یو پی اے – II حکومت کے مرکز میں آخری ایام گزر رہے ہیں، کیا وہ اس پوزیشن میں ہے کہ ان مطالبات پر غور کرتے ہوئے وہ دوسرے اسٹیٹ ری آرگنائزیشن کمیشن – ایس آر سی (Second Re-organisation Commission – SRC) کے تعلق سے اتنا اہم فیصلہ لے سکے؟ ظاہر سی بات ہے کہ کانگریس یا یو پی اے اپنے آخری وقت میں دوسرے ایس آر سی کی تشکیل کا فیصلہ لینے کے بارے میں قطعی نہیں سوچے گی، کیوں کہ اس صورت میں اپوزیشن اس کی ناک میں دم کر دیں گے، جب کہ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ خود کانگریس اور بی جے پی کے اندر بھی ایسا ایک طبقہ موجود ہے، جو کہ 1953 کے بعد دوسرے ایس آر سی کی تشکیل چاہتا ہے اور اس کے حق میں ہے۔ یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ 1953 میں قیام کے بعد 1956 میں پہلے ایس آر سی نے حیدر آباد اسٹیٹ کے تشخص کو برقرار رکھنے کی سفارش کی تھی، مگر اس پر عمل پیرا ہونے میں مرکزی حکومت کو 57 برس لگ گئے۔ ان سب حقائق کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ پہلے ایس آر سی نے ایسا کرنے میں سماجی، اقتصادی و علاقائی توقعات اور خواہشات جیسے متعدد فیکٹرس کو متعدل انداز میں ملحوظ رکھنے کی تاکید کی تھی۔ بعد ازاں اس تلخ حقیقت سے بھی کون انکار کر سکتا ہے کہ بغیر کسی ایس آر سی کے ماضی قریب میں اتر پردیش سے نکال کر اترا کھنڈ، بہار سے نکال کر جھارکھنڈ اور مدھیہ پردیش سے نکال کر چھتیس گڑھ جیسی ریاستیں وجود میں لے آئی گئیں اور اب 30 جولائی کو آندھرا پردیش سے نکال کر تلنگانہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان حالیہ فیصلوں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایک نئی ریاست کے مطالبہ کے لیے لسانی تقسیم واحد پیمانہ نہیں ہے۔
اس وقت پورا ملک نئی نئی اور چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی مانگ کو لے کر جل رہا ہے۔ بعض مقامات پر تو صورتِ حال بہت ہی نازک بنتی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر آسام، جہاں بوڈو لینڈ کونسل کے قیام کے بعد سے مسلسل تناؤ ہے اور وقتاً فوقتاً تشدد بھڑکتا رہا ہے نیز بوڈو لینڈ کے اندر کی غیر بوڈو آبادی کو وہاں سے بے گھر کرکے آسام کے دوسرے علاقوں میں بے پناہی کی حالت میں رہنے کو مجبور کیا جاتا رہا ہے اور آج بھی کئی بار اجڑے غیر بوڈوز بشمول مسلمان اپنے آبائی مقامات سے دور دوسری جگہوں میں قائم راحتی کیمپوں میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔

0000
گزشتہ برس بھی ایسا ہی ہوا تھا اور اُس وقت اجاڑے گئے لاکھوں افراد میں سے بیشتر اپنے اپنے گھروں کو ابھی تک واپس نہیں لوٹے ہیں۔ ریاستی و مرکزی حکومتیں ان بے گھر افراد کی باز آبادکاری میں پوری طرح ناکام رہی ہیں۔ اب علیحدہ ریاست کے طور پر تلنگانہ کے فیصلہ کے بعد بوڈوز پھر سے مشتعل ہو گئے ہیں اور مرکزی حکومت سے بوڈو لینڈ کو علیحدہ ریاست عطا کرنے کا پر زور مطالبہ کر رہے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس صورت میں اشتعال انگیزی کا پورا اندیشہ لاحق ہو گیا ہے اور غیر بوڈوز، جو پہلے سے ہی ڈرے دھمکے ہیں، کو اپنی جان و مال کی فکر ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آسام کے ان چند علاقوں میں کرفیو بھی لگا دیے گئے ہیں۔
اسی طرح گورکھا لینڈ کا مسئلہ سلگ چکا ہے اور وہاں سے بھی تشدد کے واقعات کی خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔ وہاں گورکھا جن مکتی مورچہ (جی جے ایم) نے تلنگانہ کے تعلق سے فیصلہ ہوتے ہی علیحدہ ریاست کا علم اٹھا لیا ہے اور مستقل مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس نے مغربی بنگال کی ریاستی حکومت سے عدم تعاون کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ جی جے ایم سربراہ بمل گورنگ نے ریاستی حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر پہاڑی علاقوں (Hills) میں کچھ ہوتا ہے، تو اس کی ذمہ دار حکومت مغربی بنگال ہوگی۔ گورونگ ماضی میں گورکھا لینڈ تحریک کے رہنما گھیسنگ، جنہوں نے 1988 میں ریاستی حکومت کے بجائے مرکز سے بات کرنے کو ترجیح دی تھی، کی طرح گورکھا لینڈ کو ریاستی درجہ دلانے کے تعلق سے ممتا بنرجی حکومت کے بجائے مرکز سے بات چیت کرنے کو تیار ہیں۔ وہاں جی جے ایم حامی منگل سنگھ راجپوت کی خود کو گورکھا لینڈ کی خاطر جلا کر موت سے پہاڑی آبادی کے جذبات بہت مشتعل ہو گئے ہیں اور اس واقعہ نے گورکھا لینڈ کی ریاستی درجہ کی تحریک کو متشدد بھی بنا دیا ہے۔ عیاں رہے کہ جی جے ایم نے 2014 کے عام انتخابات سے قبل کانگریس اور بی جے پی دونوں سے دوری بنائے رکھا ہے۔ یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم آبادی گورکھا لینڈ کی تحریک کے ساتھ ہے، تبھی تو انہوں نے اس بار اجتماعی طور پر سادگی کے ساتھ عید منانا طے کیا ہے۔
آسام ہی میں کربی انگ لانگ کو ریاستی درجہ دینے کی مانگ قبل سے ہوتی رہی ہے۔ تلنگانہ کے تعلق سے اعلان ہوتے ہی وہاں بھی تشدد بھڑک اٹھا اور پھر سرکاری دفاتر پر حملے کیے گئے نیز ریل کی پٹریاں اکھاڑ دی گئیں، جس کے سبب کرفیو تک لگانا پڑا۔ اس تعلق سے ایک کل جماعتی وفد یو پی اے حکومت کے سامنے اپنا مطالبہ کرنے نئی دہلی بھی پہنچا۔ اسی طرح مغربی بنگال اور آسام میں کامتا پور کو ریاستی درجہ دلانے کی تحریک بھی چل رہی ہے۔ یہ علاقہ پہلے سے کوچ بہار کہلاتا ہے، جس کا 1949 میں ’سی‘ کیٹگری کی ریاست کے طور پر ہندوستان سے انضمام ہوا تھا۔
آخر میں سوال اٹھتا ہے کہ یو پی اے بشمول کانگریس کے ذریعے چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی شکل میں ہر مونیم کے ایک تار کو چھیڑنے سے ملک کے مختلف حصوں میں مطالبات، مظاہروں حتیٰ کہ تشدد کے جو ساز بجنے لگے ہیں، ان سے مرکزی سرکار عام انتخابات سے ٹھیک پہلے کیسے نمٹے گی؟
جہاں تک تلنگانہ کا مسئلہ ہے، تو اس کا تعلق 1953 میں قائم ہوئے ایس آر سی سے ہے۔ اسی کی سفارش پر آندھرا پردیش چند ریاستوں کے کچھ علاقوں کو لے کر وجود میں آیا تھا اور اس میں تلنگانہ کا علاقہ بھی شامل تھا۔ جب اس علاقہ کا ایمپاورمنٹ نہیں ہوا اور اس کے تعلق سے وعدے پورے نہیں کیے گئے، تو عدم اطمینان بڑھا اور پھر 1969 سے علیحدہ ریاست کا مطالبہ شروع ہو گیا۔ یہ مسئلہ تو مستقل چل ہی رہا تھا۔ عام انتخابات سے عین قبل تلنگانہ کے 17 اراکین پارلیمنٹ کی لالچ میں کانگریس / یو پی اے نے تلنگانہ کو ریاستی درجہ دینے کے تعلق سے جو قدم اٹھایا ہے، وہ خلوص نیت پر مبنی نہیں ہے، اس میں اس کے سیاسی مفادات موجود ہیں اور اس فیصلہ کو کرتے وقت ملک کے مجموعی مفادات کو پیش نظر نہیں رکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تلنگانہ کے ایک تار کو چھیڑتے ہی متعدد ساز بجنے لگے اور پھر جان و مال کے نقصان اور تباہی کی نوبت تک آ گئی۔
آخری بات یہ بھی ہے کہ ہندوستان میں ریاستوں کی تقسیم نو کرکے کل 50 ریاستوں کی جو بات سامنے آ رہی ہے، اس کا سرا سیدھے امریکہ، یعنی یونائٹیڈ اسٹیٹس آف امریکہ (یو ایس اے) سے ملتا ہے۔ کیا اس کا یہ مطلب نہیں لیا جائے کہ اب ہم اپنے ملکی ڈھانچہ کو بھی امریکہ کے ڈھانچہ پر ڈھالنے کی جانب بڑھ رہے ہیں؟اس سے قبل ہم امریکہ کی پیروی کرتے ہوئے پین کارڈ (PAN Card) اور آدھار کارڈ بنا چکے ہیں۔ ہر معاملے میں امریکہ کی پیروی کرنا اپنے ملک کے وقار و عزت کے خلاف ہے۔
باکس
ریاستوں کی تقسیم نو پر اصحاب الرائے کیا کہتے ہیں؟
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے پولت بیورو ممبر، رکن راجیہ سبھا اور آئیڈیا لاگ سیتا رام یچوری ہندوستان کی موجودہ ریاستوں کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کو قومی اتحاد و سلامتی کے حق میں نہیں مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے ملک میں موجود فیڈر لزم کا استحکام مزید کمزور ہوگا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ تلنگانہ کو ریاستی درجہ دینے کے تعلق سے جو فیصلہ کیا گیا ہے، دراصل اس کے لیے جس وقت کا تعین کیا گیا ہے، اس میں سیاسی موقع پرستی دکھائی دیتی ہے اور اس موقع پرستی کے تار سیدھے 2014 کے عام انتخابات سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جس طرح تلنگانہ کے فیصلہ کے اعلان کے ساتھ گورکھا لینڈ اور بوڈو لینڈ کو لے کر متشدد واقعات شروع ہو چکے ہیں اور دیگر علیحدہ ریاستوں کے مطالبات ہو رہے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کانگریس نے پھر سے پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔

ماہر اقتصادیات اور تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (آئی او ایس) کے چیئر مین ڈاکٹر محمد منظور عالم کا اس تعلق سے خیال سیتا رام یچوری کے برعکس ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی تشکیل کے حق میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آج سے 23 برس قبل 6 اگست، 1990 کو آئی او ایس نے ریاستوں کی تشکیل نو کے موضوع پر نئی دہلی میں ایک سیمینار منعقد کیا تھا، جس میں اس بات پر سب کو اتفاق تھا کہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو بہتر طریقے سے چلایا جا سکتا ہے اور وہاں کے باشندوں کے مسائل کو بڑی ریاست کی نسبت آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، یہی وجہ ہے کہ آئی او ایس اپنے پرانے موقف کی روشنی میں آج بھی تلنگانہ اور دوسری ریاستوں کی تشکیل کا حامی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *