تیجس ٹرین کے تاخیر ہونے پر ملے گا معاوضہ

Share Article

ملک کی پہلی کارپوریٹ ٹرین تیجس ایکسپریس ٹریک پر دوڑنے لگی ہے جس کے تاخیر ہونے پر معاوضہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ جمعہ کو اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے لکھنؤ میں ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ تیجس ٹرین کے تاخیر ہونے پر مسافروں کو 250 روپے تک کا معاوضہ دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔تیجس ٹرین اگر ایک گھنٹہ تاخیر ہوتی ہے، تو 100 روپے اور 2 گھنٹے تاخیر ہوتی ہے، تو 250 روپے معاوضہ دیا جائے گا۔ اب یہاں پر سوال اٹھتا ہے کہ کیا تیجس ٹرین کی طرح دوسری ٹرینوں کے تاخیر ہونے پر مسافر معاوضہ کا دعویٰ کر سکتے ہیں؟

اس سلسلے میں ایڈوکیٹ کالکاپرساد کالا کا کہنا ہے کہ اگر ٹرین تاخیر ہوتی ہے، تو اس کو کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کے تحت ڈیفشینسی ان سروس یعنی خدمات میں کمی سمجھا جاتا ہے۔ اس کے لئے مسافر کنزیومر فورم میں کیس کر سکتے ہیں اور معاوضہ لے سکتے ہیں۔

ایڈوکیٹ کالکا پرساد کالا نے بتایا کہ ریلوے جس ٹرین کا ٹکٹ جاری کرتا ہے، اس میں بھی ٹرین کے روانہ ہونے اور منزل تک پہنچنے کا وقت لکھا ہوتا ہے، ایسے میں بغیر کسی بڑے وجہ کے ٹرین تاخیر نہیں ہونا چاہئے۔

ایڈوکیٹ کالا نے یہ بھی بتایا کہ نیشنل کنزیومرڈسپیوٹ ریڈریسل کمیشن نے سال 2011 میں ٹرین کے تاخیر ہونے پر بیمار پڑنے والے ایک بزرگ کو معاوضہ دلا چکا ہے۔ نیشنل کنزیومر ڈسپیوٹ ریڈریسل کمیشن نے ٹرین کی تاخیر کو ڈیفشینسی ان سروس مانا ہے۔
اس کے علاوہ حکومت ہند بمقابلہ کیدارناتھ جینا کے معاملہ میں اڈیشہ اسٹیٹ کنزیومر ڈسپیوٹ ریڈریسل کمیشن نے بھی شکایت کنندہ کو ریلوے سے معاوضہ دلایا تھا۔ حکومت ہند بمقابلہ کیدارناتھ جینا کے معاملہ میں مدعی اپنے بیٹے کا علاج کرانے کے لئے کٹک سے بنگلور جا رہا تھا۔ شکایت کنندہ جس ٹرین یعنی گوہاٹی ایکسپریس سے جا رہا تھا، وہ قریب 10 گھنٹے تک تاخیرہو گئی تھی۔ اس کے بعد شکایت کنندہ نے معاملے کی شکایت کنزیومر فورم میں کی تھی اور معاوضے کا دعویٰ کیا تھا۔ایڈوکیٹ کالا کا کہنا ہے کہ ملک میں قریب 95 فیصد ٹرینیں لیٹ چلتی ہیں، اگر مسافر ٹرین کے تاخیر ہونے کی وجہ سے کنزیومر فورم میں کیس کرتے ہیں تو کافی طویل وقت لگے گا، جس کی وجہ سے لوگوں کو معاوضہ ملنے میں کافی وقت لگ جاتا ہے،اگر تیجس کی طرح تمام ٹرینوں کے تاخیر ہونے پر مسافروں کو معاوضہ دینے کا بندوبست ہو جائے، تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *