تین سرکاروں کے تین فیصلے

Share Article
میگھناد دیسائی 
p-3bفیڈریشن ہے۔بڑی ریاستیں،جو اتنی بڑی ہیں کہ ایک آزاد ملک بن سکتی ہیں، نے اپنے نظام حکومت اور پالیسیوں میں نئے نئے تجربے کرنے شروع کر دیے ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ ان کے سبھی نئے تجربوں کو بہت کامیاب یا اچھا کہا جاسکتا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ مقامی خود مختاری کے لیے اہم ہے۔ ہندوستان کئی ملکوں کا ایک ملک ہے، جیسا کہ یوروپ ہے۔ حالانکہ یوروپ میںآج بھی ایک کارگر یونین تیار کرنے کی جدو جہد جاری ہے۔
خود مختاری کے ساتھ تنوع آتا ہے اور تجربوں کے مؤ ثر ہونے،لوگوں میں ان کی مقبولیت یاغیر مقبولیت ہونے میں فرق بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اس بارے میں تین تجربے غور کرنے کے لائق ہیں۔ پہلا تجربہ دہلی سے متعلق ہے، جہاں ٹریفک میں کمی لانے اور کاروں کے بجائے بسوں کو ترجیح دینے کی کوشش کی گئی۔ بیشک یہ بہت مشکل کام تھا،جسے اچانک نہیں کیا جاسکتا تھا۔ لیکن پھر بھی اروند کجریوال اور عام آدمی پارٹی کی مختلف خامیوں کے باوجود آڈ ایون پالیسی کی کامیابی قبول کرنی پڑے گی۔ دہلی کے باشندوں نے قانون توڑنے کی اپنی عادت چھوڑ کر حیرت انگیز طور پر اس میں تعاون دیا۔ یہ پالیسی کامیاب رہی۔ اسے ہوشیاری کے ساتھ نافذ کیا گیا تھا۔ بیشک یہ پالیسی آلودگی کے مسئلے کو حل نہ کرپائی، لیکن اس سے آلودگی میں کمی ضرور آئی۔یہ ریاستوں کو حاصل محدود خودمختاری کا ایک ذہانت بھرا تجربہ تھا۔
اب مہاراشٹر کا رخ کرتے ہیں، جہاں ایک ترقی پسند نوجوان وزیر اعلیٰ نے بیف پر پابندی لگادی، جو غیر ضروری اور اکسانے والا فیصلہ تھا۔ اس کی شروعات جینیوں کو خوش کرنے کے لیے علامتی طور پر ہوئی تھی، لیکن بعد میں اسے جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں رہ گیا ۔ گؤکشی اور بیف کھانے پر پابندی غیر ضروری ہے۔ سناتن دھرم میں بیف کھانے کے لیے مخالفت یا نفرت کے جذبے کی منظوری نہیں ملتی۔ اس فیصلے میں گائے اور بھینس کے گوشت کو گڈمڈ کردیا گیا ہے۔ بہرحال ریاستی سرکار کا یہ فیصلہ ممبئی کی کاسموپالیٹن فطرت کی خلاف ہے۔ اس وجہ سے بڑے کارپوریشنس، جن میں غیر ملکی ملازم کام کرتے ہیں،ممبئی (یہاں تک کہ مہاراشٹر) سے کسی دوسری جگہ جانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ یہ ریاستوں کو حاصل حقوق کا بیجا استعمال ہے۔
بہار کے کرشمائی وزیر اعلیٰ نتیش کمار شراب بندی کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صحت اور خاندان کی آ مدنی پر شراب کے برے اثرات سے لوگوں کو واقف کرانا اچھی بات ہے۔ شرابی شخص گھریلو تشدد میں بھی شامل ہوتا ہے۔ لوگوں کو شراب کے برے اثرات سے واقف کرانا کوئی مشکل کام نہیں ہے، لیکن شراب پر پابندی ایک خراب متبادل ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف ریونیو کا نقصان ہوگا، بلکہ مجرمانہ معاملات میں بھی اضافہ ہوگا۔شراب پر پابندی غیر قانونی گروپوں کے لیے ایک بڑا دھندہ بن جائے گی۔ غریب لوگ خراب اور غیر قانونی شراب پینا شروع کردیں گے اور امیر لوگ اس سے بچنے کے طریقے تلاش کرلیں گے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ گجرات کے اس ناکام ماڈل کو اپنانے کی کیا ضرورت ہے؟ بہار میں ترقی کی ضرورت ہے، نہ کہ شراب مافیا کی واپسی کی۔ اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ ہر ایک ریاست کو اپنا نقصان کرنے کا حق بھی ہے۔
بہرحال وقت کے ساتھ مہاراشٹر اور تنگ ہوجائے گا۔ دوسری ریاست، جہاں کیا کھانا ہے، کیا پینا ہے وغیرہ جیسے جنونی قدم نہیں اٹھائے جائیں گے،ملٹی نیشنل کمپنیو ں کو اپنی طرف متوجہ کرنے لگیں گے۔ بہار میں شراب بندی کی وجہ سے جہاں ریونیو کا نقصان ہوگا، وہیں شراب مافیا کو قابو میں رکھنے پر پیسہ بھی خرچ کرنا ہوگا۔ وہ پیسہ، جسے ترقیاتی کاموں میں لگنا چاہیے۔ دراصل مسابقتی فیڈریشن کے کام کرنے کا یہی طریقہ ہے۔یہاں جو ریاستیں ریشنل ہوں گی،وہ فائدے میں رہیں گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *