آنکھ میں آنسو، بدن ہے چھلنی

Share Article

 

محمد اکرم ظفیر

 

دوسری بار تاریخی جیت حاصل کرنے کے بعد پارٹی کارکنان کو خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے جو باتیں کہیں تھیں اس سے اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں میں یہ امید جاگی کہ اس بار سب کا ساتھ سب کا وکاس ہوگا۔اقلیتوں کو تعلیمی میدان میں فعال بنانے کے لئے سرکار کئی اسکیمیں چلاکر انکی ناخواندگی دور کریں گی۔ماب لینچینگ پر قدغن لگے گا،مظلوموں کی صدا کو سنی جائے گی،کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہوں گی بلکہ سب کے ساتھ یکساں برتاؤ کر ملک کو ترقی یافتہ بنانے کی سمت میں کام کیا جائے گا۔مگر ایسا لگتا ہے کہ مرکز میں سرکار بنائے ایک مہینہ بھی نہیں ہوا کہ ملک کے کئی حصوں میں نو سے دس جگہوں پر ھندتوا کے کچھ ٹھیکیڈاروں نے مسلم بچوں کو بیف و جے شری رام کے نام پر زدوکوب کیا جارہا ہے.انہیں چلتے پھرتے مارنا پیٹنا عام بات ہوتی جارہی ہے۔اپنے ہاتھ میں قانون کو لے کر جو دل کرے وہ کررہا ہے۔نہ کسی کو قانون کا خوف اور نہ عدالت کی پھٹکار کا احساس بلکہ مرکز میں دوبار این ڈی اے کی سرکار بننے کے بعد سے ہی ماب لینچنگ کی کھلی دھشت گردی میں درجنوں مسلمانوں کو مار دیا گیا۔جھارکھنڈ اب ماب لینچنگ کی فیکٹری بنتا ہوا جارہا ہے جو ہر پُر امن سماج و معاشرہ و ملک کی ترقی کے لئے بہتر نہیں بلکہ بدنما داغ ہے۔ابھی ہم نے مسلمانوں نے پہلو خان،نعیم انصاری،حلیم احمد،جنید انصاری،اخلاق ایسے سیکڑوں مسلم نوجوانوں کی لاش کو صحیح سے قبر میں دفنائے بھی نہیں،انکی یاد آنکھوں سے اوجھل بھی نہیں ہوا،ان کے ساتھ کی گئی زیادتی کو آسمان نے دیکھا کہ ایک بار ہم پھر سے اسی کرب کی چادر میں لپٹ کر انصاف کی فریاد کررہا ہوں،آنکھوں سے آنسو،زبان سے رحم کی دعا اور بدن پورا چھلنی ہے کہ آخر ہم کن سے انصاف کی امید کریں۔پولیس والے تو اپنی پرموشن کے لئے کسی کے اوپر دھشت گردی کا لیبل لگا دیتی ہے اور کسی کو دودھ کا دھلا ہوا ثابت کرسکتی ہے۔ایسے پولیس والوں سے انصاف کی امید کیسے کی جاسکتی ہے۔جو سیاسی لیڈران کے تلوے چاٹتے ہو۔دل کی تڑپ کو کوئی محسوس نہیں کرسکتا ہے۔کرب کی ایسی حالت ہے کہ بدن درد سے کراہ رہا ہے،چیخ رہا ہے،آوازیں لگارہا ہے،مگر کل تک جو قاتل تھا آج فیصلہ کی کنجی اسی کے ہاتھ میں دے دیاگیا۔

 

Image result for tabrez ansari

جھارکھنڈ کے سیرائی کلاخر سوان میں تبریز انصاری کو موٹر سائیکل چوری کے الزام میں اکثریتی طبقہ کے نوجوانوں نے جس طرح بربریت کی ساری حدیں توڑ کر پیٹا،خون سے لہولہان کیا اسے دیکھ کر جانور بھی شرما جائے.جئے شری رام اورجیے ہنومان کے نعرے زبردستی لگوائے جارہے،آنکھ میں آنسو ہے میں بے رحم دل انسان جو آر ایس ایس کی گندی نالیوں سے نکلے ہوئے ہیں۔ان کی نظریات کے فالوور ہیں وہ لاٹھی ڈنڈے سے اس وقت تک پیٹتا رہتا ہے جب تک کہ اس کا جی نہ بھر جائے۔پولیس کی کسٹدی میں تبریز انصاری کی موت نے ایک بار سے انسانیت کا سر خم کردیا ہے۔سرکار لاکھ دعویں کریں لیکن سچائی سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔اگر ان کی نیت صاف ہوتی ہو پہلوخان یا اخلاق کو بیف کے نام پر مندر کے لاؤڈ اسپیکر سے آواز لگا کر منظم طریقے سے جس بہیمانہ طریقے مار مار کر موت کی نیند سُلا دیا اگر اسی ان ظالموں کو سزا ہوتی تو پھر ملک کے اندر دوبارہ کسی کی ہمت نہیں ہوتی ایسی حرکت کرنے کی۔مگر ایسے بی جے پی بزدل لیڈروں کو شرم نہیں آتی ہے جس وقت وہ ایک قاتل کو مالا پہنا کر اس کا استقبال کرتی ہے۔ایسے رہنماؤں کے خلاف سخت کاروائی کرنی چاہیے تھی لیکن اس پارٹی کی بنیاد انہیں سب واقعے پر ٹکی ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی برابری مسجد تو کبھی طلاق کا شوسہ چھوڑ کر ملک کو پراگندہ کرنے کی کوششیں کرتی رہتی ہیں۔طلاق ثلاثہ کا خوف دیکھا کر ذہنی مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے.۔

Image result for tabrez ansari

جھارکھنڈ کے اس واقعے نے نہ صرف ملک کو بلکہ پوری دنیا میں ملک کے وقار کو مجروح کردیا ہے۔جہاں ابھی شادی ہوئے ایک ماہ بھی نہیں ہوا کہ بائک چوری کے الزام میں پہلے گھنٹوں تک جئے شری رام کے نام پر غنڈہ گردی کی ساری حدیں پار کر انہیں بُری طرح پیٹا گیا.ایسی پیٹائی کے ہر دیکھنے اور سننے والوں کے آنکھ میں آنسو ٹپک پڑے.چار دنوں تک جیل میں بند رہنے کے بعد زخم کی تاب نہ لاکر وہ اس دنیا کو الوداع کہہ دی ہے.اللہ انہیں جنت الفردس میں اعلی مقام اور گھر والوں کو صبر جمیل دے.آمین

 

Image result for tabrez ansari

کل تک جس لڑکی نے آپنی آنکھوں میں خواب سجا کر دلہن بن کر سسرال گئی تھی اس خواب کو اس طرح ہفتوں کے اندر دھشت گرد مار دے گا کسی کو اندازہ نہیں تھا۔اب ان کے سوالوں کا جواب کون دے گا؟کون ہے جو اس بہن کی آنسو کو پوچھنے کی کوشش کرے گا،کون ہے جو ان کی درد کرب کو کم کرنے کی کوشش کرے گا،سرکار جواب دے نہیں سکتی ہے کیونکہ یہ ہجروں کی سرکار ہے۔درد تو اسے ہوتا ہے جس کے گھر میں اس طرح کا واقعہ پیش آیا ہوں۔مگر انہیں ایک نوجوان بیوہ لڑکی کا درد کیا جانے……ہائے افسوس……صد افسوس۔

Image result for tabrez ansari

اگر یہی حالات رہے تو ملک کا مستقبل کیسا ہوگا۔فرقہ
پرستوں کے حوصلے اس قدر کیوں بڑھ چکے ہیں جنہیں بڑی غلطی کرتے ہوئے شرم نہیں آتی ہے بلکہ وہ خود کو فخر محسوس کرتا ہے۔کیونکہ انہیں بڑے لیڈروں کی حمایت ملتی رہتی ہے.ایسے میں ہم اس جمہوری ملک میں جہاں سب کو برابر کا حق دیا گیا ہے،رہنے پینے کھانے کی مکمل آزادی ہے ایسا لگتا ہے یہ سب باتیں صرف اور صرف آئین کی کتاب میں پڑھنے اور سننے میں ہی اچھا لگتا ہے.اس سے ملک ترقی نہیں کرے گا.جب ہمارے ہی سماج و معاشرہ کے ایک طبقہ کو پیٹا جائے.موت کی نیند سلا دیا جائے.اتنے کم وقت میں جو زخم دیا گیا ہے اس سے آنسو نکل رہا ہے.کس پر انصاف کی امید کریں جب سپریم کورٹ کے وکیل جو ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ سناتی ہے وہ خود لیڈروں کی مداخلت سے تنگ آکر سڑک پہ آجائے اور انصاف انصاف کی صدائیں لگانے لگے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *