ٹیم انڈیا : تاج بچا نہ لاج

Share Article

محمد سلمان
کچھ دنوں پہلے ٹیم انڈیا نے ورلڈ کپ فتح کر کے ہندوستان کا سر فخر سے اونچا کیا ، اور ٹیم انڈیا ورلڈ چمپئن بنی۔اس وقت ٹیم انڈیا جوش، جذبہ اور اعتماد سے پرتھی۔ اس کے بعد آیاآئی پی ایل ،اس میں بھی کھلاڑیوں نے جم کر دھمال کیا اور ورلڈ کپ چمپئن بننے والے کپتان مہندر سنگھ دھونی آئی پی ایل چمپئن بھی بنے۔اس کے کچھ ہی دنوں بعد ٹیم انڈیا بغیرسینئر کھلاڑیوں کے ویسٹ انڈیز دور ہ پر گئی، وہاں بھی ٹیم انڈیا فتح کا پرچم لہرایا۔اس میں سینئر کھلاڑیوں کو اس لئے آرام دیا جاتا ہے کہ وہ آئندہ ماہ ہونے والے انگلینڈ دورہ پر دھمال مچاسکیں ۔اس کے بعد وہیں سے ٹیم انڈیا انگلینڈ دورہ پر پہنچی۔ انگلینڈ دورہ پر جانے سے پہلے ٹیم انڈیا کے پاس نمبر ون کا تاج بھی تھا اور ورلڈ چمپئن کا تاج بھی لیکن آج ٹیم انڈیا کی  حالت کیا ہے ۔یہ سوال آج کرکٹ شائقین کے دماغ میں گھوم رہا ہے۔آخر انگلینڈ دورہ پر جاتے ہی ٹیم انڈیا کے کھلاڑی کیوں نظریں چرا رہے ہیں؟دنیا کی بہترین ٹیموں میں شمار ٹیم انڈیا ، جس کے پاس دنیا کے بہترین بلے باز، بہترین بالر ہیں۔جس کے پاس وسائل کی کوئی کمی نہیںہے، جس کے پاس پیسے کی بہتات  ہے، اس سے ایسی شرمناک کارکردگی کی توقع بالکل نہیں کی جا سکتی۔
انگلینڈ دورہ پرجس میں 4ٹیسٹ میچوں کی سیریز ، واحد ٹی20اور پانچ میچوں کی ونڈے سیریز ہوئی۔اس سیریز سے پہلے یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ یہ دورہ ٹیم انڈیا کے لئے کافی اہم رہے گا، اورٹیم انڈیا یہاں ایک نئی تاریخ رقم کرے گی۔ٹیم انڈیا سے ایسی توقع کی بھی جا سکتی تھی کیونکہ انگلینڈ دورہ پر جانے سے پہلے وہ ٹیسٹ کی نمبر ون ٹیم تھی ، ون ڈے کی ورلڈ چمپئن بھی ۔لیکن انگلینڈ پہنچتے ہی کھلاڑیوں کو جانے کیا ہو گیا ، کہ ٹیم انڈیا نے پوری طرح گھٹنے ٹیک دئے جس سے حریف ٹیم انگلینڈ بھی حیران ہے۔کہ آخر نمبر ون ٹیم کو کیاہو گیا؟ انگلینڈ دورہ سے پہلے جیسے جیسے ٹیم فتح حاصل کر رہی تھی ٹیم سے توقعات بھی بڑھتی جا رہی تھیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم کسی بھی ٹیم سے مسلسل جیت کی توقع نہیں کر سکتے ، لیکن توقع مسلسل ہار کی بھی نہیں کی جا سکتی۔ٹیم انڈیا کی جیت کا سلسلہ آگے بڑھتا جا رہا تھا لیکن جب یہ جیت کا سلسلہ ٹوٹا تو ایسا تو کہ ہار پہ پار وہ بھی بار بار ، ٹیم انڈیا ہاری تو ایسی ہاری کہ ایک جیت کے لئے ترس گئی۔پورے دورہ پر ٹیم انڈیا کہیں بھی مقابلہ میںنظر نہیں آئی۔کبھی بالر نہیں چلے تو کبھی بلے بازے کبھی بلے بازچلے تو بالر فیل۔ بالروں کی حالت یہ رہی ہے کہ ایک پاری کو چھوڑ وہ پوری ٹیسٹ سیریز میں 10وکٹ نہیں لے پائے اور ہر بار انگلینڈ کو اپنی پاری ڈکلیئر کرنی پڑی۔اس میں کپتان مہندر سنگھ دھونی ہوں یا ٹیم کے اسٹار کھلاڑی۔سبھی نے اپنی کارکردگی سے کرکٹ شائقین کو مایوس کیا، جس سے ٹیم انڈیا کی ہار کا سلسلہ نہیںٹوٹا۔ایک ایک کر کے کھلاڑی زخمی ہو کر باہر ہوتے چلے گئے ۔ جیسے جیسے کھیل آگے بڑھتا گیا ، زخمی کھلاڑیوں کی تعداد بھی بڑھتی گئی، کھیل کے اختتام تک اگر 2-3کھلاڑی اورزخمی ہو جاتے تو زخمی کھلاڑیوں کی ایک مکمل ٹیم بن جاتی۔کرکٹ مبصرین کا یہ کہنا کہ آئی پی ایل اور کرکٹ کا بزی شیڈول کھلاڑیوں کی اس حالت کا ذمہ دار ہے، درست ہو سکتا ہے ، لیکن آج بھی کرکٹ گیند اور بلے کے درمیان کا ایک کھیل ہے۔
جب لارڈ جیسے تاریخی میدان پر ٹیم انڈیا کو پہلی کراری شکست کا سامنا کرناپڑا تو اس کو یہ کہہ کر بھی ٹالا جا سکتا تھا کہ یہ محض اتفاق ہو سکتا ہے ، لیکن اس کے بعد برمنگھم میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں اس سے بھی زیادہ شرمناک ہار ہوئی تو کرکٹ مبصرین نے سخت تبصرے کرنے شروع کر دئے اور ٹیم انڈیا کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔پہلے ہی ٹیسٹ میں ظہیر خان زخمی ہو کر سیریز سے باہر ہو گئے، اس کے بعد گوتم گمبھیر کہنی میں چوٹ کی وجہ سے باہر ہو جاتے ہیں اور پھر واپسی کرتے ہیں ، لیکن اس کے بعدپھر وہ زخمی ہو جاتے ہیں اور پوری ون ڈے سیریز سے باہر ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد دنیا کے دھماکیدار بلے بازوں میں شمار ویریندر سہواگ کو بلایا جاتا ہے۔ٹیم کو ان سے بہت توقعات ہوتی ہیں ، لیکن سہواگ نے تو ایسی کارکردگی کا مظاہرہ کیاجیسے شاید کوئی نوسکھیا کھلاڑی میدان پر اتر آیاہو۔اب بات کرتے ہیں سچن تندولکر کی سچن تندولکر جو دنیا کے عظیم ترین کھلاڑی مانے جاتے ہیں، جنہیں ہندوستان میں کرکٹ کا بھگوانکہا جاتا ہے۔ان کے کرئیر کے لئے یہ دورہ بے حد اہم تھا وہ اس لئے کیونکہ وہ بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی 100ویں سنچری مکمل کرنے کے بے حد قریب پہنچ چکے تھے ،سچن اب تک  ٹیسٹ کرکٹ میں51اور ون ڈے میں48سنچریاں لگا چکے ہیںاور اگر وہ یہاں ایک اور سنچری پوری کر لیتے تو وہ کرکٹ تاریخ میں ایسا کرشمہ کرنے والے واحد کرکٹر ہوتے، لیکن یہاں ان کا بلا کوئی کمال نہ دکھا سکا،اور وہ بھی ٹیم انڈیا کی شرمناک ہار کو ٹال نہ سکے، اور نہ ہی اپنی 100ویں سنچری پوری کر سکے اور چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ٹیم انڈیا ایک جیت کا ذائقہ تک نہ چکھ سکی۔
سچ پوچھئے تو انگلینڈ دورہ میں راہل دراوڑ کو چھوڑ کر کوئی بھی کھلاڑی قابل ذکر نہیں ہے۔ سبھی نے اپنی شرمناک کارکردگی سے مایوس کیا ہے۔میدان پر کھیلتے وقت تو ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ سیریز صرف راہل دراوڑ اور انگلینڈ کے درمیان ہورہی ہو۔اس کا ایک نمونہ باقاعدہ کرکٹ میدان میں بیٹھے شائقین کے ہاتھوں میں لگی تختیوں پر دیکھا بھی گیا جن پر لکھا لکھا تھا’’انگلینڈ ورسیزدراوڑ‘‘ٹیم انڈیا نے بھلے ہی اپنی شرمناک کارکردگی سے سب کو مایوس کیا ہو، لیکن راہل دراوڑ کے قد میں یہاںمسلسل اضافہ ہوا ہے۔چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں راہل دراوڑ نے تین سنچریاں لگائیں،اور پلیئر آف دی سیریز بنے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ انگلینڈکی ٹیم اس وقت اپنے سنہری دور سے گزر رہی ہے اور اس کا مظاہرہ اس نے پوری سیریز میں دکھایا بھی ، ٹیسٹ سیریز میں انگلینڈ کا ایک ایک کھلاڑی پوری ٹیم انڈیا پر بھاری پڑرہا تھا۔ انگلینڈ کے ایک ہی کھلاڑی ایلسٹر کک پوری ٹیم انڈیا پر اس وقت بھاری پڑ گئیجس وقت انھوں نیمحض ایک ہی پاری میں294رن بنا کر ٹیم انڈیا کو ہار کی دہلیزپر لا کھڑا کیا ۔یہاں ٹیم انڈیا کیلئے مزید شرمناک صورتحال پیدا ہو گئی کیونکہ آخری اور چوتھے ٹیسٹ میچ کو چھوڑ کر ٹیم انڈیا پوری ٹیسٹ سیریز کی کسی بھی پاری میں294رن نہیں بنا پائی۔ٹیسٹ سیریز میں مکمل طور پر 4-0سے کلین سوئپ ہونے کے بعد ون ڈے سیریز میں ٹیم انڈیا سے واپسی کی توقع کی جا رہی تھی ،لیکن ہوا وہی جو ہونا تھا۔ ون ڈے سیریز میں دو میچ پوری طرح بارش کی نذر ہو گئے جس میں پہلامیچ بے نتیجہ اور چوتھا میچ ٹائی ہو گیا۔ٹیم انڈیا ون ڈے سیریز بھی ہار گئی، اورٹیم انڈیا کا تاریخی انگلینڈ دورہ شرمناک دورہ میں تبدیل ہو گیا ا۔ اس طرح ٹیم انڈیا نے ایک بار پھر 1983کی تاریخ کو دوہرا دی۔1983میں بھی ٹیم انڈیا نے کپل دیو کی کپتانی میں  ورلڈ کپ جیتا تھا۔اس وقت بھی ٹیم انڈیا پورے جوش و جذبے اور اعتماد کے ساتھ  ویسٹ انڈیز دورہ پر گئی تھی ، جس میں چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز اور پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز میں اسے ایک بھی جیت نصیب نہیں ہوئی تھی ویسٹ انڈیز نے پوری طرح سے ٹیم انڈیا کا سوپڑاصاف کر دیا تھا۔آج ٹیم انڈیا پھر وہیں کھڑی ہے۔ تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟کسی بھی ٹیم کا دارومدار اس کے کپتان پر ہوتا ہے۔ ٹیم انڈیا کے کپتان جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت لکی ہیں لیکن انگلینڈ میں ان کی قسمت بھی شاید ان سے روٹھ گئی، اور وہ بے یار و مددگار اور تھکے ہارے نظر آئے۔پوری سیریز میں وہ کھیل کے ہر شعبے میں مایوس کن مظاہرہ کرتے نظر آئے، خواہ وہ وکٹ کیپنگ ہو یا بلے بازی۔ ٹیم کے ہارنے پر ہر بار وہ کوئی نہ کوئی نیا بہانہ بنا دیتے اور الگ ہو جاتے ، لیکن اب ان کے یہ بہانے بے معنی نظر آنے لگے ہیں۔ٹیم انڈیا کی حالت اب کھسیانی بلی کھمبا نوچے جیسی ہو گئی ہے اور اس کا ایک نمونہ اس نے تب دکھایا جب آئی سی سی نے اپنی سالانہ ایوارڈ تقریب میں ٹیم انڈیا کو مدعو کیا لیکن پوری کی پوری ٹیم ایوارڈ تقریب میں نہیں پہنچی، اور ا س نے یہ بہانہ بنا دیا کہ ہمیں دعوت نامہ بہت دیر سے موصول ہوا تھا۔ٹیم انڈیا کا انگلینڈ دورہ کرکٹ کی تاریخ کاسب سے خراب دورہ کے طورپر یاد کیا جائے گا۔جہاںنہ ٹیم انڈیا کی لاج بچی نہ تاج اور ٹیم انڈیا کا ون ڈے اور ٹیسٹ سیریز ہارنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ آئی سی سی رینکنگ میں ٹیسٹ میں نمبر ایک سے نمبر تین پراور ون ڈے میں نمبر دو سے چار نمبر پرآ گئی۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *