ٹیم انا کی بے حسی :اکھل کے ساتھ کون ہے

Share Article

ششی شیکھر
میڈیا میں اکھل گگوئی کی پہچان ٹیم انا کے ایک ممبر کے طور پر ہے لیکن یہ ان کی ادھوری پہچان ہے۔ غلط سسٹم ، غلط فیصلہ اور غلط آدمی کی مخالفت کرنا اکھل گگوئی کی فطرت میں ہے۔ آسام میں اپوزیشن میں کوئی سیاسی پارٹی نہیں ،اکھل گگوئی ہے۔ اروند کی تنظیم ’پی سی آر ایف ‘کی طرف سے شروع کیا گیا پہلا نیشنل آر ٹی آئی ایوارڈ حاصل کرنے والے والے اکھل گگوئی ایسے ہونہار نوجوان کی پہچان اروند کیجریوال نے بہت پہلے ہی کر لی تھی۔ جب لوک پال تحریک شروع ہوئی اور کور کمیٹی بنانے کی نوبت آئی تو ایک طرف جہاں کئی لوگ اس ٹیم میں شامل ہونے کے لئے بے چین تھے وہیں اروند کیجریوال نے اپنی طرف سے اکھل گگوئی کو کورکمیٹی میں شامل کیا۔ ظاہر ہے، انا کی کور ٹیم میں اکھل گگوئی جیسے تحریک کار کی ہی ضرور ت تھی۔ اکھل آسام میں ’’ کرشک مُکتی سنگرام سمیتی‘‘ کے نام سے تنظیم چلاتے ہیں۔ کسانوں ،مزدروں کے حق کے لئے لگاتار لڑائی لڑتے رہے ہیں۔ ابھی آسام میں ایک باندھ کے خلاف انشن (تا مرگ بھوک ہڑتال) پر بیٹھے تھے۔ پولیس نے زبرستی انہیں انشن سے اٹھا یا۔ اپنی تحریک اور کڑے تیور کی وجہ سے اکھل ہمیشہ سے کانگریس سرکار کی آنکھ کی کرکری بنے ہوئے ہیں۔ پھر ٹیم انا کی کور کمیٹی کے ممبر کے طور پر بھی رام لیلا میدان میں انہوں نے آسام سرکار کی غلط پالیسیوں کی جم کر بخیہ ادھیڑ ی تھی۔

کیا بڑی لڑائی کی آڑ میں چھوٹی لڑائی چھپ جاتی ہے؟کیا اس کے ہیروز کو اکیلا چھوڑ دیا جانا چاہئے؟ٹیم انا کے ایک جانباز اور بہادر سپاہی کے ساتھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔آسام میں اکھل گگوئی پر جان لیوا حملہ ہوتا ہے۔ اس معاملے میں کانگریس کا ایک کونسلر گرفتار ہوتا ہے لیکن ٹیم انا کا کوئی بھی ممبر اکھل گگوئی سے ملنے تک نہیں جاتا ہے۔ ہر چھوٹے بڑے ایشو پر پریس کانفرنس کر کے اپنے ممبروں کا غلط صحیح بچائو کرنے والی ٹیم انا اتنے بڑے حادثے پر ایک چھوٹا سا پریس اسٹیٹ منٹ جاری کر کے اپنی ذمہ داری ختم سمجھ لیتی ہے۔ سوال ہے کہ جس ٹیم انا کو اپنے ہی ممبروں کی فکر نہیں ہے، جو اپنے ہی جانباز سپاہیوں پر حملے کے خلاف لڑائی نہیں لڑ سکتی ، اس سے کیا اور کہاں تک امید کی جاسکتی ہے؟

پہلے بھی اکھل کو پولیس کی طرف سے لگاتار پریشان کیا جاتا رہا ہے۔ 6 جولائی کو جب اکھل گگوئی آسام کے نل باڑی ضلع کے پُنّی گائوں میں سیلاب سے متاثر لوگوں سے ملنے پہنچے تو ان پر حملہ کیا گیا۔حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے۔ حملہ آوروںنے اکھل گگوئی سے مارپیٹ کی، موٹر سائیکل سے ٹکر ماری۔ اس سے اکھل زخمی ہوگئے۔ ان کے سر ، منہ ، ناک اور کمر میں چوٹیں آئیں۔ کہا یہ جارہاہے کہ حملہ آوروں کا تعلق کانگریس پارٹی سے ہے۔ اکھل کے مطابق بھی دھرمپور اسمبلی حلقے سے ممبر اسمبلی و وزیر زراعت نیل منی سین ڈیکا کا اس حادثے کے پیچھے ہاتھ ہے اور ان پر ہوئے حملے میں وزیر کے حمایتی شامل تھے۔ اس معاملے میں کانگریس کے ایک کونسلر تپن برمن کی گرفتاری بھی ہوئی ہے۔

بہر حال یہاں سوال اٹھتا ہے کہ سوائے ایک پریس اسٹیٹ منٹ جاری کرنے کے ٹیم انا نے اکھل گگوئی کی حمایت میں کیا کیا؟نہ ٹیم انا کا کوئی اہم ممبر خاص کر اروند کیجریوال یا انا ہزارے ان سے ملنے پہنچنے ،نہ انا نے اپنی طرف سے اس ایشو پر کچھ کہا۔ اب اس کے پیچھے یہ دلیل بھی دی جاسکتی ہے کہ 25 جولائی سے ہونے والے انشن کا نظم و نسق زیادہ ضروری ہے بجائے اس ایشو کے۔ لیکن کیا یہ ایک مضبوط دلیل مانی جا سکتی ہے؟کیا یہ تحریک کی موقع پرستی نہیں ہے؟بڑی تحریک کے ذریعہ چھوٹی تحریک سے پہلے فائدہ اٹھانا اور پھر ضرورت کے وقت ان سے کنارہ کر لینا۔

ٹیم انا کا پریس اسٹیٹ منٹ
اس بیان کو پڑھیے اور اکھل پر ہوئے حملے کے ایشو پر ٹیم انا کے ممبران کی سنجیدگی کا خود بھی اندازہ لگائیے۔
نارتھ ایسٹ کیجل، جنگل، زمین کے لئے جنونی لڑائی لڑنے والا ہماری کور کمیٹی کا ساتھی اکھل گگوئی کل دن میں کچھ میڈیا والوں کے ساتھ آسام کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جب جا رہا تھا تب اس پر یوتھ کانگریس کے کارکنان نے اس کے قتل کے ارادے سے بے رحمانہ حملہ کیا۔اس کے سر پر اور پورے جسم پر شدید زخم آئے ہیں۔قرب و جوار کے گائوں والوں نے اسے جیسے تیسے بچایا اور پاس کے اسپتال میں پہنچایا ۔ بیہوش ہونے سے پہلے اس نے ساتھیوں سے کہا کہ وہ اسپتال نہیں سیلابی آفات کا کام دیکھنے جانا چاہتا ہے۔ اکھل بے حد بہادر تحریک کار ہے۔ نا انصافی سے لڑتے وقت وہ بیچ کے کسی بھی راستے کے سخت خلاف ہوتا ہے۔ یہ وہی وقت تھا جب دہلی بھیگنی شروع ہوئی تھی اور پرنب مکھرجی گوہاٹی میں اپنے لئے ووٹ مانگ رہے تھے۔ ہم اکھل سے رابطہ میں ہیں،وہ بیہوش ہے اور اس کا علاج ہو رہا ہے، اس کی خواہش تھی کہ وہ 25 جولائی کو جنتر منتر پر انشن میں بیٹھے۔ شاید اس کی چوٹوں اور زخموں کا حساب ہماری ہی نسلیں چکا دیں نہیں تو جن غنڈوں نے سڑک پر دن رات اپنی عمر دوسروں کے لئے لگانے والے سپاہی کا خون بہایا ہے وہ میرا اور آپ کا بھی خون نہیں چھوڑیں گے۔ جیو اکھل اور جلدی ٹھیک ہو کر آجائو میدان میںاور ادھوری لڑائی تمہارے انتظار میں ہے ساتھی۔ لو یو اکھل، جے ہند۔ انقلاب زندہ باد۔

ان پر بھی ہوئے حملے
ایسا نہیں ہے کہ غلط فیصلوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں پر حملے کی لسٹ میں صرف اکھل گگوئی کا ہی نام ہے۔ محض پندرہ دنوں کے اندر اس طرح کے تین حادثے سامنے آئے ہیں۔پہلے اتراکھنڈ میں ڈاکٹر بھرت جھن جھن والا ، پھر اکھل گگوئی اور اس کے اگلے ہی دن رائے گڑھ میں رمیش اگروال پر ہوا حملہ غیر متوازن ہوتی جمہویت کو دکھا رہا ہے جہاں مخالف آواز کے لئے کوئی جگہ نہیں بچی ہے۔ جہاں پر بھی جل، جنگل اور زمین پر عوامی حق اور اور ماحولیات کے تحفظ کے لئے یا کمپنیوں اور سرکاری بد عنوانی کی پول کھولی جارہی ہے وہاں ان سب کو اجاگر کرنے والوںپر اس طرح کے حملے ہو رہے ہیں، اس معاملے میں سبھی سیاسی پارٹیاں ایک ہیں۔آخر یہ سلسلہ کب رکے گا اور کیا ملک کے بڑے تحریک کار ان چھوٹی چھوٹی تحریکوں کی طرف بھی دھیان دیںگے، ایسے حملوں کے خلاف بھی سرکار کو گھیریں گے؟کیا ان سوالوں کا جواب مل پائے گا؟
رمیش اگروال ، رائے گڑھ، چھتیس گڑھ
7 جولائی کو رمیش اگروال پر رائے گڑھ، چھتیس گڑھ میں جان لیوا حملہ کیا گیا۔ دو حملہ آوروں نے ان کی دکان میں گھس کر ان پر گولیاں چلائیں۔ ایک گولی ان کی زانو میں لگی ۔ رائے گڑھ کے ضلع اسپتال میں آپریشن کے بعد انہیں آئی سی یو میں رکھا گیا۔ رمیش اگروال چھتیس گڑھ میںکانکنی اور کوئلہ پر مبنی بجلی اسکیموں کے خلاف قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان اسکیموں کی کمیوں اور ان کے ذریعہ ہو رہے نقصان کوکئی برسوں سے اجاگر کر رہے ہیں ۔ پچھلے سال انہیں جندل گروپ کی 2400 میگاواٹ کے بجلی پراجیکٹ کی پبلک ہیرنگ کے درمیان میں سے ہی انہیں جھوٹے الزام لگا کر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ دل کی بیماری سے متاثر رمیش اگروال کو زنجیر سے باندھ کر رکھا گیا تھا۔ بعد میں وہ ضمانت پر چھوٹے۔ اسکیموں کی کمیوں کے خلاف ان کی قانونی جنگ جاری ہے۔ جس سے کمپنیوں کو خطرہ لگتا ہے۔ اس بات کا پورا امکان ہے کہ ان پر ہوا یہ حملہ بڑی اسکیموں کے خلاف چل رہی ان کی جنگ سے جڑا ہوا ہے۔
ڈاکٹر بھرت جھن جھن والا ، اترا کھنڈ
22 جون کو اترا کھنڈ میں ڈاکٹر بھرت جھن جھن والا کے گھر پرسری نگر واٹر پاور پروجیکٹ بنانے والی جی وی کے کمپنی کے ٹھیکہ داروں کا حملہ بھی اسی طرح سے تھا۔ حملہ آوروں نے انہیں باندھ کی مخالفت بند کرنے یا پھر گھر سمیت زندہ جلنے کو تیار رہنے کی دھمکی دی تھی۔ نامزد رپورٹ کے بعد بھی کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر بھرت جھن جھن والا پچھلے کئی برسوں سے اترا کھنڈ میں رہ رہے ہیں ۔ سری نگر میں زیر تعمیر ’’ الکنندہ جل ودیوت پری یوجنا‘ کے طویل المیعاد ماحولیاتی اثرات کو سامنے لا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف عدالتوں میں کئی مقدمے بھی چل رہے ہیں، باندھ کمپنی کی غلطیاں بھی سامنے آئیں۔کئی بار یہ باندھ بندہوا لیکن پھر بھی باندھ کمپنی کے دبائو میں سرکار نے کڑے قدم نہیں اٹھائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *