تہلکہ واقعہ: ترون تیجپال نے صحافت کو داغدار کیاہے

Share Article

کرشن کانت 

تہلکہ کے چیف ایڈیٹر ترون تیج پال پر اپنے ساتھ کام کرنے والی ساتھی پر جنسی استحصال کے الزام لگنے کے بعد مردوں کے کچھ ایسے نظریے سامنے آئے ہیں کہ وہ خاتون ساتھیوں سے بچنا چاہتے ہیں۔انہیں یہ ڈر ہے کہ کبھی کوئی خاتون ساتھی ان پر جائز ناجائز الزام لگا سکتی ہے۔کیا دفتروں میں عورتوں کے استحصال کو روکنے کا یہی ایک طریقہ ہے کہ انہیں وہاں آنے ہی نہ دیا جائے؟ ہم نے تہلکہ واقعہ اور ملازمت پیشہ خواتین کے مسئلے پر معاشرے کے مختلف طبقوں کی خواتین سے بات چیت کرکے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی ہے جو کہ پیش خدمت ہے۔

p-10تمام خواتین کی تنظیمیں یہ الزام لگاتی ہیں کہ وقت اور سماج کے بدلنے کے ساتھ خواتین کے جنسی استحصال کے طریقے بھی بدل گئے ہیں۔ خواتین کے لئے مردوں کے برابر کھڑے ہونے کے مواقع تو خوب دکھائے جاتے ہیں ، لیکن یہ مواقع صرف دکھانے کے لئے ہیں۔نئے دور کی تہذیب میں استحصال کے تمام پوشیدہ وسائل موجود ہیں جن کے بہانے جو طاقتور ہیںوہ کمزور کا استحصال کرتا ہے اور اس کا شکار زیادہ تر خواتین ہی ہوتی ہیں۔
مشہور و معروف ترون تیج پال پر جب ان کی ان کی خاتون اسٹاف نے عصمت دری کا الزام لگایا،تو جس نے سنا وہ حیران رہ گیا۔ہم نے ہر طبقے کی خواتین سے جب اس سلسلے میں رائے لینی چاہی تو عورتوں کی سوچ اس طرح سامنے آئی کہ مرد ہمیشہ عورتوں سے الگ کھڑا ہے اور عورت اپنے کو نہ صرف غیر محفوظ پاتی ہے، بلکہ مرد کے رویے سے بے حد ناامید بھی ہے۔ اس معاملے میں ترون تیج پال سمیت تمام لوگ ایسے بھی ہیں جو لڑکی پر ہی سوال اٹھا رہے ہیں۔ لیکن زیادہ تر عورتیں ایسے حادثوں میں صرف مردوں کو ہی ذمہ دار مانتی ہیں۔
جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں انگریزی ایم اے کی طالبہ سرسوتی کہتی ہیں کہ میں تہلکہ پڑھتی رہی ہوں۔ وہ لوگ ان چیزوں کی جم کر مخالفت کرتے تھے۔ عصمت دری پر بھی میں نے ترون تیج پال کا ایک مضمون پڑھا تھا جو بہت اچھا لگا تھا۔ لیکن جب ان کے بارے میں ایسا سنا کہ انہوں نے اپنے ہی ساتھ کام کرنے والی لڑکی پر حملہ کیا، تو مجھے یقین نہیں ہوا۔ یہ بے حد حیران کن ہے کہ آپ غلط باتوں کی مخالفت کرتے کرتے خود ہی غلط کر بیٹھے ۔جو بھی ایسا کرے، اسے کڑی سزا ملنی چاہئے۔
ریسرچ کی ایک طالبہ چھما سنگھ اس واقعہ کے بارے میں دونوں فریقوں پر اپنی رائے رکھتی ہیں وہ کہتی ہیں کہ اخلاق کا جھنڈا بلند کرنے والے جب اس طرح کا کوئی کام کرتے ہیں تو یہ سماج کے لئے جھٹکا ہوتا ہے۔تیج پال کے کیس میں بھی یہی ہوا۔ تیج پال نے پہلے تو خاموشی سے لڑکی سے معافی مانگی۔تہلکہ سے خود ہی، بھلے کسی دبائو میں لیکن استعفیٰ دیا۔ اب وہ خود کو سیاسی شکار بتا رہے ہیں۔وہ اپنی غلطی کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں۔ تحریری معافی مانگنے کا مطلب وہ سمجھتے ہوںگے۔اس کے بعد وہ لڑکی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ تین دن میں الگ الگ بیان انہیں ہی مشکوک بناتا ہے۔ ایسے کسی واقعہ میں ملزم کتنے ہی بڑے عہدے پر ہو، یا اونچی پہنچ والا ہو، سخت سزا ملنی چاہئے۔ تاکہ پھر کوئی ایسا کرنے کی ہمت نہ کرسکے۔ اس کیس میں غلط نہیں کہ لڑکی نے کسی فائدے کے لئے ایسا کیا ہے۔ پھر بھی ایسے واقعات میں اگر ملزم غلط ثابت ہوں تو الزام لگانے والے کے لئے بھی سخت سزا کی تجویز ہونی چاہئے جس سے قانون کا غلط استعمال نہ ہو۔
جے این یو میں ہندی کی ریسرچ کی طالبہ سوبھی ترپاٹھی کہتی ہیں کہ جب عورتیں گھر میں تھیں ،تب مرد ان پر گھر میں گھس کر ، اغوا کرکے، یا راہ چلتے حملہ کرتا تھا۔ اب وہ ان کے ساتھ ، گھر سے باہر سڑک سے دفتر تک کام کر رہی ہیں۔ وہ کبھی انہیں لالچ دیتاہے، کبھی ان پر غلط دبائو ڈالتا ہے اور سمجھوتے کرنے کے لئے طرح طرح سے مجبور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تیج پال کے معاملے میں لڑکی کی کوئی غلطی نظر نہیں آتی ہے۔یہ ایک ہوشمند آدمی کی غلطی ہے کہ وہ جرم میںملوث ہوگیا ۔کڑی سزا ہی اس کا ایک راستہ ہے۔ طالبہ آنندھیا توگڑے کہتی ہیں کہ جب تک چھوٹے بڑے ہر کسی کو سزا نہیں ملے گی، یہ سب رکنے والا نہیں ، سزا ملنے سے لوگوں میں پیغام جائے گا کہ مجرم کوئی بھی ہو،بچ نہیں سکتا۔
سماجی کارکن سندھیا دریویدی کی رائے ہے کہ لڑکی کو قانونی کارروائی کرنی چاہئے، جو کہ شروع بھی ہوچکی ہے، لیکن متاثرہ کی مشکل یہ ہے کہ وہ اتنے بڑے ادارے سے لڑ رہی ہے، جہاں ہر کوئی اس پر ہی انگلی اٹھائے گا، کیونکہ لوگوں کے اپنے اپنے فائدے ہیں۔ کھلے عام اس پر دبائو بنایا گیا اور اب اسی پر الزام بھی ہے۔ معاملے کی ویمن سیل سے شفاف جانچ کرانی چاہئے اور لڑکی کو یہ بھروسہ دینا چاہئے کہ وہ اور اس کا خاندان آفس سے گھر تک محفوظ ہے۔سندھیا کا کہنا ہے کہ کئی بار لڑکیوں پر یہ بھی الزام لگتا ہے کہ وہ آگے بڑھنے کے لئے تعلقات کا استعمال کرتی ہیں۔لیکن یہ سوچنے کی بات ہے کہ ایسا ماحول کیوں بنایا جائے کہ ایک لڑکی کو غلط طریقوں کے بارے میں سوچنا پڑے؟یہ بھی مردوںکے خواتین مخالف ماحول بنائے کا نتیجہ ہے۔حالانکہ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی لڑکی اپنے کیریئر کے لئے اس طرح کے سمجھوتے کرے۔ اس سے اسے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
دلی یونیورسٹی میں ایل ایل بی فرسٹ ایئر کی طالبہ سواپ نیل کہتی ہیں کہ عورتوں کے حق میں مردوں کی یا یوں کہیں کہ پورے سماج کی سوچ اب تک بدلی نہیں ہے۔ ہم بدل نہیں رہے ہیں۔ ہم صرف شور مچاتے ہیں لیکن جب بدلائو کی باری آتی ہے، تب ہم خود مجرم بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ سواپ نیل اسے کڑے قانونوں اور انصاف کے تئیں بیداری میں کمی بتاتی ہیں۔ اسی شعبے کی مینا کشی ایسے واقعات کو سماجی ڈھانچے سے جوڑ کر دیکھتی ہیں۔ میناکشی کا کہنا ہے کہ عورتوں کو دھوکہ دینا سماج میں روایتی طور پر موجود ہے۔ ایسے جرائم کو خاندانی سطح پر ہی بڑھاوا ملتاہے۔ کیا کوئی ماں باپ کبھی اپنے لڑکے کو تعلیم دیتے ہیں کہ گھر سے باہر جائو تو کسی لڑکی کو پریشان مت کرنا؟ایسے جرائم کے لئے بہت سخت قانون کی ضرورت ہے۔ ان کی بات پر زور دیتے ہوئے بی اے کی طالبہ انجلی کہتی ہیں کہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کوئی شخص کس حیثیتکا ہے۔ یہ عورتوں کے تئیں مجرمانہ سوچ کا نتیجہ ہے۔ قانونوں کو اورسخت کیا جانا چاہئے اور خواتین پر حملہ کرنے والوں کو سخت سزا ملنی چاہئے۔ ڈی یو میں انگریزی کی طالبہ انجلی گپتا کہتی ہیں کہ ترون تیج پال بار بار اپنے بیان بدل رہے ہیں، جبکہ دفتر میں کسی لڑکی کے ساتھ ایسی حرکت جرم ہے۔ انہیں سخت سزا ملنی چاہئے، تاکہ لوگوں میں سخت پیغام جائے۔
ڈی یو میں ہندی سے ایم اے کر رہی نہاں بے حد نا امیدی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ایسے معاملوں میں 70 فیصد جاننے والے یا رشتہ دار ہوتے ہیں۔ خاندانی رشتے ہی زیادہ تر حادثے کو انجام دیتے ہیں۔ اگر ترون تیج پال کا بچائو کریں گے تو ہر مجرم کا بچائو کرنا ہوگا۔ انگریزی ایم اے کی طالبہ سوجین کہتی ہیں کہ میری رائے ہے کہ ترون تیج پال کو کڑی سزا ملنی چاہئے۔ بی اے تھرڈ ایئر کی طالبہندھی مذمت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ جو لوگ انصاف کے لئے لڑتے ہیں ، وہ خود نا انصافی کرتے ہیں۔ یہ کتنا شرمناک ہے۔ ان کی دوست کیرتی نے کہا کہ یہ کتنا افسوسناک ہے۔یہ بات بے حد پریشان کن ہے کہ ایک لڑکی اپنے جاننے والے کے پاس بھی محفوظ نہیں ہے۔ میں سخت قانون اور سخت سزا کی مانگ کرتی ہوں۔ ڈی یو کی طالبہ اندو متی سرکار کہتی ہیں کہ پہلے اسی حرکتیں کرنا پھر دنیا بھر کی دلیلیں دینا حیران کرنے والی بات ہے۔ آپ جن مسئلوں پر دوسروں کو غلط کہتے ہیں،وہی کام خود کرکے اسے صحیح ٹھہرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے میں یہ چیزیں کیسے رکیں گی؟
جے این یو میں جرمن سینٹر کی طالبہ شپرا کہتی ہیں کہ ایک انٹرنل کمیٹی ہو ،جیسا کہ جے این یو میں بھی ہوتاہے۔ وہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں معاملے کی چھان بین کرے۔ تاکہ ساری سچائی سامنے آسکے۔ اگر ترون تیج پال نے غلط کیا ہے تو انہیں سزا ملنی چاہئے۔ جے این یو کے ہی لنگویسٹک امپاور سینٹرکی ایک طالبہ کہتی ہیں کہ ترون تیج پال یا دیگر کسی بھی ایسے مسئلے میں بحث کا تو کوئی ایشو ہی نہیں ہے۔ اس میں دوسرا فریق نہیں ہوسکتا ۔ وہ لڑکی کے لئے فیملی ممبر کی طرح ہیں اور انہوں نے جو کیا ،وہ سنگین جرم ہے اور جرم کی سزا ملنی چاہئے۔جے این یو لنگویج سینٹر کی طالبہ نمیتا کہتی ہیں کہ ملک میں ہر منٹ کہیں نہ کہیں عصمت دری ہو رہی ہے اور کہیں کارروائی نہیں ہوتی۔ 16 ستمبر جیسا حادثہ ہونے کے بعد بھی دہلی میں یہ سب لگاتار جاری ہے۔ ضرورت ہے کہ سرکار بدلے جو سخت اسٹینڈ لے۔ لوگوں کی سوچ بدلے جو ایسے حادثوں کے خلاف میں ہو تبھی بات بنے گی۔ میٹری کالج کی ٹیچر ڈاکٹر ممتا دھون کی رائے ہے کہ جب تعلیم یافتہ، دانشور اور سماج کی گہری سمجھ رکھنے والے آدمی خواتین کی پوزیشن کو کمتر سمجھتا ہے، اپنے ہی ادارے میں خاتون اسٹاف کا ذہنی و جسمانی استحصال کرتا ہے تو یہ عورتوں کے مستقبل پر طمانچہ ہے جو یہ سوچتا ہے کہ ان کی برابری اور امکانات کا راستہ تبھی کھلے گاجب مرد تعلیم یافتہ ہوگا۔ ہنس راج کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سنیتا نے کہا کہ خواتین سماج کے حوالے سے بہت سی چیزیں اتنی مشکل ہوچکی ہیں کہ عام طور پر لوگ منہ نہیں کھولنا چاہتے ہیں۔ بہت سے معاملوں میں کبھی کبھی صحیح آدمی بھی پھنس جاتاہے اور کبھی کبھی قصوروار بھی بچ جاتا ہے۔ میرے خیال سے اس معاملے میں تہہ تک جائے بنا کوئی بھی بات کہنا جلد بازی ہوگی۔ بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ اپنا فائدہ نظر میں رکھتے ہوئے ہم سب بہت سے ہتھکنڈے اپناتے ہیں،جب معاملہ سنگین بننے لگتا ہے تب پہلو بدل لیتے ہیں۔ حالانکہ تہلکہ کے ترون تیج پال کے معلاملے میں دستاویزی ثبوت ہیں باوجود اس کے شفاف جانچ کی ضرورت ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ریسرچ طالبہ تبسم جہاں کا کہنا ہے کہ مرد سماج کا سب سے بڑا قصوروار ہے کہ وہ اپنی ایسی حرکتوں سے عورتوں کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہتا ہے۔ ترون تیج پال معاملے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قصوروار ہیں اور اب وہ بھی معاملے پر لیپا پوتی کرنا چاہتے ہیں۔ دفتر میں جنسی استحصال کی شکایت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس صورت کا سامنا زیادہ تر خواتین کو کرنا پڑتا ہے۔ لیکن میڈیا یا سماج کے سامنے ایسے معاملے بہت ہی کم آپاتے ہیں۔ جو آتے ہیں ان پر بھی لیپا پوتی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، یا الٹے لڑکی پر ہی انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں کہ اس نے کامیابی پانے کے لئے ایسا کیا ہے۔
ایک دوسری طالبہ سید ثنا کا کہنا ہے کہ تہلکہ جیسی معیاری صحافت کے ایڈیٹر ترون تیج پال سے تو بالکل ایسی حرکت کی امید نہیں کی جاسکتی۔ان کے اس حرکت پر سخت سزا ملنی چاہئے۔لیکن یہ وقت کسی کے کردار پر بحث کرنے سے زیادہ اس سوچ پر بحث کرنے سے تعلق رکھتا ہے جو کہیں نہ کہیں آپ کے ابھرنے کی صلاحیت پر سوال کھڑے کر رہا ہے۔ خواتین کو اپنی آوازبلند کرنے کی ضرورت ہے، فوری رد عمل آپ کو ایسے جرائم سے بچا سکتے ہیں۔سب سے اہم بات ہے کہ جس دن ہم اپنے تئیں جوابدہی طے کرنا سیکھ جائیںگے ، اس دن اس طرح کی پریشانیوں سے دو چار نہیں ہونا پڑے گا۔ نوجوان صحافی رمی شرما کہتی ہیں کہ ایسے واقعات کے لئے مرد و عورت دونوں ذمہ دار ہیں لیکن تناسب 20اور 80 کا ہے۔80 فیصد معاملوں میں مرد اپنی طاقت اور پوزیشن کا استعمال کرتاہے اور استحصال کرتاہے۔ 20 فیصد معاملوں میں لڑکیاں اسے کیریئر بنانے اور آگے بڑھنے کے نام پر جان بوجھ کر ایسے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں۔ لیکن سب پیسے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ترون تیج پال نے پہلے بھی ایسا کیا ہوگا،لیکن اس بار لڑکی نے مخالفت کی ہمت جٹائی۔ باوجودیکہ اس کے لوگ پیسے اور پاور کے ساتھ کھڑے ہوںگے وہ تیج پال کے حق میں کھڑے ہوکر ان کا بچائو کریں گے۔
شاعر و صحافی ویپن چودھری کا کہنا ہے کہ ظاہر ہے اگر کوئی لڑکی اس طرح تعلق قائم کرنے کی خواہش مند ہوگی تو کبھی شکایت نہیں کرے گی۔ جب بھی کوئی پڑھی لکھی لڑکی نوکری کے لئے اپنے گھر سے باہر نکلتی ہے تو خود اعتمادی کے بل پر نکلتی ہے ،کوئی لڑکی کبھی اس طرح کے تعلق کے لئے تیار نہیں ہوتی۔ اگر ایک دو فیصد لڑکیاں اپنے کیریئر میں آگے بڑھنے کے لئے تعلق قائم کرتی ہیں تو بھی اسے دیر سویر اسے اپنے کیے پر غور کرنا ہی پڑتا ہے اور ان سب سے باہر نکلنے کے لئے وہ پریشان ہو اٹھتی ہے۔ہر روز جنسی استحصال کی شکایتیں اس لئے سامنے آرہی ہیں، کیونکہ لڑکیاں اپنے آپ کو شکار نہیں بننے دینا چاہتیں۔حال ہی میں ترون تیج پال والے معاملے میں میں نے خود کئی مردوں سے سنا کہ لڑکی گئی ہی کیوں تھی اس کے ساتھ۔ اب اس بیوقوفی کی بات کا کیا جواب دیا جائے۔ دوسری طرف لڑکی کو ہی قصوروار ماننے والے مردوں کی تعداد ہمارے سماج میں بہت ہے۔ہمارے یہاں مردوں کا ایک بڑا طبقہ گھر کی چہار دیواری سے باہر نکل کر کام کرنے والی عورتوں کے تئیں منفی سوچ رکھتا ہے۔اس سمت میں عورتوں کے تئیں ایک سنگین سماجی نظریے کے ساتھ ایک بڑے سماجی بدلائو کی ضرورت ہے۔
بار بار لڑکیوں کو ہی ذمہ دار ٹھہرانے اور لڑکیوں کے ذریعہ رجھانے کاالزام بھی لگایا جاتا ہے مگر ہمارا مردوں کا یہ سماج بھول جاتا ہے کہ جو عورت اپنی مرضی سے جنسی رشتے قائم کرتی ہے وہ اپنی بدنامی کے لیے اسے ظاہر نہیں کرتی۔ وہی لڑکی سامنے آتی ہے جس سے اس کی مرضی کے خلاف جنسی استحصال یا عصمت دری کی جائے۔
پولیس کا رویہ اس معاملے میں سب سے زیادہ قابل مذمت ہے کوئی بھی لڑکی صرف اس ڈر سے پولیس میں رپورٹ درج نہیں کراتی کہ پولیس اس کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھے گی اور پولیس کے ساتھ ساتھ لوگوں کی بھی شک کی سوئی سیدھی لڑکی کی طرف دوڑ جاتی ہے۔ تیج پال معاملہ میں بھی یہی ہوا کہ لڑکی نے ہمت کرکے میل بھیجی اوراس نے خود تیج پال کی پٹی کو بتایا پر اس وقت میڈیا میں جو بحث دیکھنے میں آئی اس میں لڑکی کو بھی شک کے دائرے میں لایا گیا۔ پر کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اگر اس لڑکی نے ہمت کرکے اس شخص کے خلاف الزام لگایا ہے جس کی حیثیت اور جس قد کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے کیا وہ لڑکی نہیں جانتی تھی کہ وہ ایک معمولی سی نوکر ہے اور تیج پال وہ شخص جس کے تہلکہ سے بڑے بڑے کانپتے ہیں ایسے میں اگر لڑکی نے ہمت اور حوصلہ کا سامنا کرتے ہوئے پولیس میں ایف آئی آر کرائی ہے تو اس لڑکی کی ہمت کی داد دینی چاہئے تاکہ دوسری مظلوم لڑکیوں اور جنسی استحصال کی شکار لڑکیوں کو ہمت اور حوصلہ مل سکے اوراس طرح کے مزید چھپے ہوئے کیس سامنے آسکیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *