ترک اسباب نا شکری ہے

Share Article

قمر عثمانی
اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں پیدا فرمایا تو ا س کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اوراس کی راحت اورآسائش کے لئے اس کو اسباب وسائل عطا کئے اس کو قسم قسم کی نعمتوں سے نوازا، ایسی ایسی بے شمار نعمتیں اس کو عطاکیں جن کا شمار ناممکن ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے ’’ یعنی اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو ہو تو شمار نہیں کرسکتے۔ (ترجمہ)‘‘ وہ اسباب اور وسائل جو اللہ تعالیٰ نے راحت و آسائش اور حصول نفع کے لئے عطا فرمائے ہیں وہ اللہ کی نعمتیں ہیں اور نعمتوں پر شکر ادا کرنا واجب ہے اور شکریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ان نعمتوں سے استفادہ کیاجائے ان کو استعمال کرکے راحت و آرام کے ساتھ ساتھ اچھے مقاصد کے حصول کے لئے کامیاب جدوجہد کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو دارالاسباب بنایاہے یہاں ہر چیز اسباب سے مربوط ہے مثلاًپیٹ بھرنے کے لئے کھانا سبب ہے کھانا کھائیں گے تو پیٹ بھرے گا، پیاس بجھانے کے لئے پانی سبب کے درجے میں ہے، پانی پئیں گے تو پیاس بجھے گی اگر کسی کو غلہ حاصل کرنا ہے تو کھیتی کرنا اس کا سبب ضروری ہے اگر اس کے بغیر کوئی شخص غلہ حاصل کرناچاہتا ہے تو یہ خام خیالی اور بے وقوفی کہلائے گی بغیر کسی ظاہری سبب کے اگر کوئی چیز وجود پذیر ہوتی ہے تو وہ معجزہ ہوتاہے یا کرامت۔ معجزہ پیغمبروں کے ساتھ خاص ہوتاہے ۔اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے اظہار کے لئے اور پیغمبروں کی تصدیق کے لئے بغیر کسی ظاہری سبب کے کوئی ایسی چیز عطا فرمادیتے ہیں جو معمول اور عادت کے خلاف ہوتی ہے معجزہ پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے اس کا ظہور اسی وقت ہوتاہے۔اسی طرح کرامت اولیاء اللہ کے ساتھ خاص ہوتی ہے یہ بھی معجزے کی طرح اختیاری نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ جب چاہیں اور جس کو چاہیں کرامت سے نوازتے ہیں۔ اسی سے اولیاء اللہ کی فضیلت ظاہرہوتی ہے، مافوق العادات کسی کام یا بات کا ہوجانا بطور معجزے یا کرامت کے یہ عام اصول کے تحت نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک خاص معاملہ ہوتاہے جو اللہ تعالیٰ اپنے مقرب اور مخصوص بندوں کے ساتھ فرماتے ہیں۔ عام لوگوں کے لئے عام اصول یہی ہے کہ جو مقصد حاصل کرنا ہو اس کے لئے سبب کا سہارا لیاجائے اسباب سے اعراض اور روگردانی ایک طرح سے نعمت خداوندی کی ناشکری ہے اور ظاہر ہے ناشکری اللہ تعالیٰ کو ناپسند بھی ہے اور اس پر قرآن کریم میں وعید بھی فرمائی گئی ہے فرمایا گیا ’’یعنی اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب بہت سخت ہے۔(ترجمہ)‘‘جو بھی نعمت انسان کو عطاکی گئی ہے اس کا اثر بھی انسان کے حالات پر پڑنا اور ظاہر ہوناچاہئے۔ روایات میں آتاہے کہ ایک صحابیؓ خستہ حالت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے ان کی اس حالت کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رنج ہوا۔ دوسرے حضرات نے بتایا کہ یہ صاحب صاحب ثروت ہیں، دولت مند ہیں، غریب نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’یعنی تم پر نعمت کا اثر ظاہر ہوناچاہئے۔ترجمہ‘‘ معلوم ہوا کہ جو نعمت میسر ہے اس سے مستفید ہونااس کے استعمال سے راحت حاصل کرنا مستحسن ہے، اللہ تعالیٰ کو پسند ہے شرط یہ ہے کہ نیت تفاخر یا تکبر کی نہ ہو بلکہ ادائے شکر کی ہو۔
آج کادور سائنسی ترقیات کا دورہے، نئی نئی ایجادات نے انسان کو بہت زیادہ سہولت اور بہت زیادہ راحت عطاکی ہے، فاصلے سمٹ گئے ہیں دنوں کے کام گھنٹوں میں اور گھنٹوں کے کام منٹوں میں ہو رہے ہیں، زندگی کے تمام شعبوں میں نت نئی ایجادات نے ایک عام آدمی کو حیران بھی کیا ہے اور ایسی ایسی سہولتوں آسانیوں سے ہمکنار بھی کیا ہے جن کا تصور بھی اب سے پہلے محال تھا یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں ان سب سے مستفید ہوناچاہئے یہ سب انسانوں کے لئے ہیں کسی اور مخلوق کے لئے نہیں، البتہ یہ بات ظاہر ہے کہ تمام چیزوں کا استعمال شریعت کے دائرے میں ہونا ضروری ہے۔ غلط اور صحیح کاامتیاز جائز اور ناجائز کافرق کرتے ہوئے اس کو ملحوظ رکھنا لازم ہے تبھی یہ اسباب نعمتیں قرار پائیں گی۔مثال کے طورپر دیکھاجائے کہ کمپیوٹر، انٹرنیٹ، ای میل، ریڈیو، ٹی وی، فیکس وغیرہ نے آج کے انسانوں کو کس قدرآسانیاں مہیاکی ہیں۔ مکان و زمان کے فاصلوں کو سمیٹ کر رکھ دیاہے۔ یہ سب وسائل و اسباب ہیں، ان کے ذریعہ دینی اور دنیوی فوائد بے تکلف حاصل کئے جارہے ہیں اور کئے جانے چاہئیں، یہ خدا کی عطا کردہ نعمتیں ہیں جو سائنس کے توسط سے حاصل ہوئی ہیں، سائنس اور اسلام میں کوئی تضاد ٹکرائو نہیں، اس لئے شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اور احکام کی پاسداری کرتے ہوئے ان سے فوائد حاصل کرنا شکر ہے اور کج فہمی کی بنا پر ان سے اجتناب کرنا یاان کو ترک کردینا ناشکری ہے۔ آج بہت سے دینی اور دنیوی کام ان سائنسی ایجادات سے لئے جارہے ہیں دینی اور علمی لٹریچر کمپیوٹر وغیرہ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ عمدہ اور عجلت کے ساتھ طبع ہورہاہے اور لوگوں کے لئے حصول علم کی راہیں کھل رہی ہیں علم کی طلب والے دولت علم سے مالامال ہورہے ہیں، کتابوں تک رسائی اوران سے استفادہ کافی سہل ہوگیاہے۔ ریڈیو، ٹی وی دنیا بھر کے احوال سے باخبر رکھنے کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ بہتر معلومات لوگوں تک پہنچانے کا بہترین و معتبر ذریعہ ہیں۔ آج پوری دنیا ان کی بدولت ایک محلہ بن کر رہ گئی ہے، دوریاں قربتوں میں تبدیل ہوگئی ہیں جن سے اچھے برے حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور اظہار یکجہتی کرنا سہل ہوگیاہے۔ دینی امور میں بھی ریڈیو، ٹی وی کاکردار خاصا اہم ہے چاند کی خبر ان کے ذریعے شرعی اصول کے تحت موصول ہوتومعتبر ہوتی ہے۔ یہ سب چیزیں اسباب ووسائل کی شکل میں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جن سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا، حق شناسی کا تقاضہ یہ ہے کہ ان سے فائدہ حاصل کیاجائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *