تاریخ کا سب سے بڑا گھوٹالہ

Share Article

 چوتھی دنیا نے اپریل 2011میں کوئلہ گھوٹالہ کا پردہ فاش کیا تھا۔ اس وقت نہ سی اے جی کی رپورٹ آئی تھی اور نہ ہی کسی نے یہ سوچا تھا کہ اتنا بڑاگھوٹالہ ہو بھی سکتا ہے ۔ اس وقت اس گھوٹالہ پر کسی نے یقین نہیں کیا۔ جنہیں یقین بھی ہوا تو وہ آدھا ادھورا ہوا۔ چوتھی دنیا نے آپ سے اپریل 2011میں جو باتیں کہیں اس پر آج بھی قائم ہے۔ہماری تحقیقات کے مطابق یہ کوئلہ گھوٹالہ قریب 26لاکھ کروڑ کا ہے اور یہ کوئلہ گھوٹالہ تاریخ کا سب سے بڑا گھوٹالہ ہے۔ پارلیمنٹ میں جو ہنگامہ مچا اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک انگریزی اخبار نے سی اے جی کی رپورٹ کو شائع کر دیا۔ سی اے جی اس رپورٹ میں گھوٹالہ کی بات کرتی ہے لیکن گھوٹالہ کی رقم کم بتائی ہے۔

کوئلہ کو کالا سونا کہا جاتا ہے، کالا ہیرا کہا جاتا ہے، لیکن حکومت نے اس ہیرے کو خورد برد کر ڈالا اور اپنے چہیتے سرمایہ داروں ا و ر دلالوں کو مفت میں ہی دے دیا۔ اگر 2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ ملک کے تمام گھوٹالوں کی جڑ ہے تو جس گھوٹالہ کا چوتھی دنیا نے پردہ فاش کیا ہے، وہ ملک میں ہوئے اب تک کے سبھی گھوٹالوں کی بنیاد ہے۔ملک میں کول  الاٹمنٹ کے نام پر تقریباً26لاکھ کروڑ روپے کی لوٹ ہوئی ہے۔ سی اے جی کی جو رپورٹ لیک ہوئی ہے اور جس طرح پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہوا اس سے تویہی ثابت ہوتا ہے کہ چوتھی دنیا کی رپورٹ صحیح تھی۔

سی اے جی کی لیک رپورٹ کے مطابق یہ گھوٹالہ دس لاکھ ستر ہزار کروڑ روپے کا ہے لیکن حکومت کی طرف سے یہ خبر دی گئی ہے کہ سی اے جی خود اپنی رپورٹ پر قائم نہیں ہے اور جو خبر شائع ہوئی ہے وہ جھوٹی ہے۔سی اے جی کے ایک خط کا حوالہ دے کر پی ایم او نے یہ خبر پھیلائی۔ مزیدار بات یہ ہے کہ اگلے ہی دن اس سی اے جی کی رپورٹ باہر آ گئی۔جس کا حل یہ نکلتا ہے کہ سی اے جی نے گھوٹالہ سے انکار نہیں کیا ہے۔ ویسے سمجھنے والی بات یہ ہے کہ اس گھوٹالہ کا علم سبھی پارٹیوں کو پہلے سے ہے۔ پھر بھی یہ خاموش رہیں، لیکن اخبار میں سی اے جی کی رپورٹ شائع ہوتے ہی اس معاملہ نے طول پکڑا اور پارلیمنٹ میں شور شرابہ شروع ہو گیا۔ سی اے جی کی رپورٹ سے ایک بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ چوتھی دنیا نے اپریل 2011میں کوئلہ گھوٹالے کا جو پردہ فاش کیا تھا وہ سچ ہے۔حالانکہ ملک کی مبینہ مین اسٹریم کا میڈیا اب بھی غیر جانبداری کا مظاہرہ کر رہا ہے اور یہ طے نہیں کر پارہا ہے کہ گھوٹالہ ہے بھی یا نہیں ہے ، اور اگر گھوٹالہ ہوا ہے تو پھر کتنے کا ہوا ہے۔
یہ بات 2006-07کی ہے،جب شیبو سورین جیل تھے میں اور حکومت تیزی سے کوئلہ کانوں کو مفت میں تقسیم کر نے میں مصروف تھی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کوئلہ کی کانیں صرف 100روپے فی ٹن کی معدنیات رائلٹی کے عوض میں بانٹ دی گئیں۔ مطلب یہ کہ پہلے مفت میں کانیں دے دی گئیں پھر ان کانوں سے کوئلہ نکالنے کے بعد 100روپے کی شرح سے حکومت کو پیسے ملنے کا نظم بنایا گیا۔ ایسا تب کیا گیا، جب کوئلہ کی بازاری قیمت 1800سے 2000روپے فی ٹن سے زیادہ تھی۔ جب پارلیمنٹ میں اس بات کو لے کر کچھ ممبران پارلیمنٹ نے ہنگامہ کیا، تو شرمسار ہو کر حکومت نے کہا کہ مائنس اور منرل (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ایکٹ 1957میں ترمیم کی جائے گی اور تب تک کوئی بھی کوئلہ کان الاٹ نہیں کی جائے گی۔ 2006میں یہ بل راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا اور یہ ماناگیا کہ جب تک دونوں ایوان اسے منظوری نہیں دے دیتے اور یہ بل پاس نہیں ہو جاتا تب تک کوئی بھی کوئلہ کان الاٹ نہیں کی جائے گی۔لیکن یہ بل چار سال تک پارلیمنٹ میں جان بوجھ کر زیر التوا رکھا گیا اور 2010میں ہی یہ قانون تبدیل ہو پایا۔ اس دوران ملک کے سب سے بڑے گھوٹالہ کو انجام دیا گیا۔ پارلیمنٹ میں کئے گئے وعدے سے حکومت مکر گئی اور کوئلہ کان بانٹنے کا گورکھ دھندہ چلتا رہا۔ دراصل اس بل کو زیر التوا رکھنے کی سیاست بہت گہری تھی۔ یہ لیڈروں ، افسروں اور صنعت کاروں کی بہت بڑی سازش ہے۔ اس بل میں صاف صاف لکھا تھا کہ کوئلہ یا کسی بھی معدنیات کی کانوں کے لئے عام نیلامی کا عمل اختیار کیا جائے گا۔ اگر یہ بل 2006میں ہی پاس ہو جاتا تو 26لاکھ کروڑ روپے کا نقصان نہ ہوتا۔ حکومت اپنے چہیتے سرمایہ کاروں کو مفت کوئلہ نہیں دیتی۔اس مدت میں تقریباً21.69بلین ٹن کوئلہ کی پیداوار کرنے والی کانیں پبلک سیکٹر کے دلالوں اور سرمایہ داروں کو مفت میں دے دی گئیں۔ کل 63بلاک بانٹ دئے۔ان چار سالوں میں تقریباً175بلاک آناًفاناً میں سرمایہ داروں اور دلالوں میں مفت میں دے دئے گئے۔ویسے باہر سے دیکھنے میں اس گھوٹالہ کی حقیقت سامنے نہیں آتی، اس لئے ہم نے یہ پتہ لگانے کی کوشش کی کہ اس گھوٹالہ سے ملک کو کتنا مالی خسارہ ہوا ہے ۔ لہٰذا، جو نتیجہ سامنے آیا، وہ حیران کن تھا۔ دراصل پبلک سیکٹر میں کیپٹیو(ترمیم شدہ) بلاک دینے کا کام 1993سے شروع کیا گیا۔ کہنے کو ایسا اس لئے کیا گیا کہ کچھ کوئلہ کانیں کان کنی کے لحاظ سے حکومت کے لئے اقتصادی طور پر مشکل کام ثابت ہوں گی۔ اس لئے انہیں پبلک سیکٹر میں دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایسا کہا گیا کہ منافع کے لالچ میں پبلک انٹرپرائزز ان دوردراز اور مشکل ترین کانوں کو فروغ دیں گے اور ملک کی کوئلہ پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ 1993سے لے کر 2010تک 208کوئلہ کے بلاک تقسیم کئے گئے، جو کہ 49.07بلین ٹن کوئلہ تھا۔ اگر بازاری قیمت پر اس کا اندازہ لگایا جائے تو 2500روپے فی ٹن کے حساب سے اس کوئلہ کی قیمت 5,382,830.50کروڑ روپے ہوتی ہے۔ اگر اس میں سے 1250روپے فی ٹن کاٹ دیا جائے ، یہ مان کر کہ 850روپے پیداوار کی قیمت ہے اور 400روپے منافع، تو بھی ملک کو قریب 26لاکھ کروڑ روپے کا مالی خسارہ ہوا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ گھوٹالہ سرکاری فائلوں میں درج ہے اور حکومت کے ہی اعداد و شمار چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ یہ تاریخ کا سب سے بڑا گھوٹالہ ہے۔
چوتھی دنیا نے ایک سال پہلے جو کوئلہ گھوٹالہ کا پردہ فاش کیا اسے سی اے جی کی رپورٹ نے صحیح ٹھہرایا ہے۔ 2006میں کول بلاک کے الاٹمنٹ کو لے کر پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہوا تھا۔ اس کے بعد حکومت نے پارلیمنٹ اور لوگوں کو گمراہ کرنے کا کام  کیا۔ سرکاری بل لانے کی بات کہی گئی، جس کے تحت یہ نیلامی کی جا سکے گی، لیکن یہ بل چار سال تک پارلیمنٹ میں پینڈنگ میںرکھا گیا، تاکہ حکومت کے جن پرائیویٹ کھلاڑیوں کے ساتھ غیر قانونی تعلقات ہیں، انہیں اس درمیان کوئلہ کے بلاک جلد از جلد بانٹ کر ختم کر دئے جائیں۔ظاہر ہے، ا س میں کتنی رقم کا لین دین ہواہوگالیکن بے ضابطگیاں یہیںختم نہیں ہو جاتیں۔ اس گھوٹالہ سے جڑے کئی سوال ہیں۔ حکومت کی نیت پر اس لئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ اس سے کئی غلطیاں ہوئی ہیں۔ ایک تو معاملہ یہ کہ مفت میں کوئلہ کانوں کا دینا اور دوسری یہ کہ جن کمپنیوں کو کوئلہ کانیں دی گئیں انھوں نے تمام قوانین کو طاق پر رکھ دیا۔
ان گھوٹالوں میں کئی ضوابط توڑ ے گئے۔ایسے ضوابط اور شرائط کو نظر انداز کیا گیا جنہیں کسی بھی صورت میں نظر اندازنہیں کیا جا سکتا۔ ایسی ایک شرط یہ ہے کہ لائسنس ملنے کے بعد ایک معینہ مدت کے بعد کان کنی شروع ہو جانی چاہئے۔ جن کانوں میں کان کنی سطح کے نیچے ہوتی ہے، ان میں الاٹمنٹ کے 36مہینے بعد کان کنی کا عمل شروع ہوجانا چاہئے۔اگر کان اوپن کاسٹ قسم کی ہے تو یہ میعاد 48ماہ کی ہوتی ہے۔ اگر کان جنگل میں ہے تو یہ میعاد چھ مہینے بڑھا دی جاتی ہے۔ ضابطہ کے مطابق اس میعاد میں کام شروع نہیں ہوتا ہے تو کان مالک کا لائسنس خارج کر دیا جاتا ہے۔اس نظم کو اس لئے رکھا گیا ہے ، تاکہ کان اور کوئلہ کی پیداوار بچولیوں کے ہاتھ نہ لگے، جو براہ راست تو کوئلہ کا کام نہیں کرتے ، بلکہ کان خرید کر ایسے تاجروں اور صنعت کاروں کو فروخت کر دیتے ہیں، جنہیں کوئلہ کی ضرورت ہے۔اس گور کھ دھندہ میں بچولیے منھ مانگی قیمتوں پر کانیں فروخت کر سکتے ہیں۔ حکومت نے ایسی کسی کان کا لائسنس مسترد نہیں کیا ، جو اس میعاد کے اندر پیداوار شروع نہیںکر پائی ہو۔ کیا کانوں کے مالکان پر اس ملک کا قانون نافذ نہیں ہوتا۔ یا پھر کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ یہ کانیں بچولیوں کو الاٹ کی گئی تھیں، تاکہ وہ انہیں آگے چل کر صنعت کاروں کواونچی قیمتوں پر فروخت کر سکیں۔ اگر حکومت اور بچولیوں کے درمیان ساز باز نہیں تھی تو ایسا کیسے ہو گیا؟ 2003تک 40بلاک بانٹے گئے تھے، جن میں اب تک صرف 24نے پیداوار شروع کی ہے۔ توآخر  باقی 16کمپنیوں کے لائسنس خارج کیوں نہیں کئے گئے؟ 2004میں چار بلاک بانٹے گئے تھے، جن میں آج تک پیداوار شروع نہیں ہو پائی۔ 2005میں 22بلاک الاٹ کئے گئے، جن میں آج تک صرف 2بلاکوں میں پیداوار شروع ہو پائی ہے۔ اسی طرح 2006میں52، 2007میں51، 2008میں22، 2009میں 16اور 2010میں ایک بلاک کا الاٹمنٹ ہوا ، لیکن 18جنوری 2011تک کی رپورٹ کے مطابق کوئی بھی بلاک پروڈکشن شروع کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔ پہلے تو بچولیوں کو بلاک مفت دئے گئے، جس کے لئے مائنس اور منرل ایکٹ میں ترمیم کو پارلیمنٹ میں چار سال تک روکے رکھا گیا۔ پھر جب ان بچولیوں کی کانوں میں پروڈکشن شروع نہیں ہوا تو بھی ان کے لائسنس خارج نہیں کئے گئے۔اس سے حکومت اور بچولیوں اور فرضی کمپنیوں کے درمیان ساز باز ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج 208بلاکوں میں سے صرف 26میں پیداوار ہو رہی ہو، ایسا نہ ہوتا۔ حکومت کہتی ہے کہ ملک کو توانائی کے شعبہ میں خود مختار بنانا ضروری ہے ۔ ملک میں توانائی کی کمی ہے، اس لئے زیادہ سے زیادہ کوئلہ کا پروڈکشن ہونا چاہئے۔ اسی مقصد سے کوئلہ کی پیداوار پرائیویٹ سیکٹر کے لئے کھولنا چاہئے۔ لیکن حکومت نے ایک طرف ترقی کا نعرہ دے کر عوام کو گمراہ کیا اور دوسری طرف ملک کے انتہائی قیمتی اثاثہ کو بچولیوں اور صنعت کاروں کے نام کر دیا۔
مہاراشٹر کی مائننگ ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے بھی اس عمل کے سبب کول انڈیا سے کچھ بلاک مفت لے لئے۔ یہ بلاک تھے اگر جھری، ورورا،مارکی جامنی، ادکولی اور گارے پیلم وغیرہ۔ بعد میں کارپوریشن نے مذکورہ بلاک پرائیویٹ کھلاڑیوں کو فروخت کر دئے، جس سے اسے 750کروڑ روپے کا فائدہ ہوا۔ یہ بھی ایک طریقہ تھا، جس سے حکومت ان بلاکوں کو فروخت کر سکتی تھی، لیکن بلاکوں کو تو مفت میں بانٹ  دیا گیا۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ بچولیوں کے ہونے کی صرف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، بلکہ مہاراشٹر کی ایک کمپنی جس کا کوئلہ سے دور دورکا واسطہ نہیں تھا، اس نے کوئلہ کے تقسیم شدہ بلاک کو 500کروڑ روپے میں فروخت کر کے اندھا منافع کمایا۔ مطلب یہ کہ حکومت نے کوئلہ اور کانوں کو دلال اسٹریٹ بنا دیا۔، جہاں پر کانیں شیئر بن گئیں، جن کی خرید فروخت چلتی رہی اور عوام کے اثاثہ کو خورد برد کیا جاتا رہا۔ اگر اس سال کے بجٹ کو بھی دیکھا جائے تو سماجی شعبہ کو ایک لاکھ ساٹھ ہزار کروڑ مختصکئے گئے۔ بنیادی ڈھانچہ (انفرسٹرکچر) کو دو لاکھ چودہ ہزار کروڑ ، وزارت دفاع کو ایک لاکھ 64ہزار کروڑ روپے الاٹ کئے گئے۔ ہندوستان کا مالی خسارہ تقریباً چار لاکھ بارہ ہزار کروڑ روپے کا ہے۔ ٹیکس سے ہونے والی آمدنی 9لاکھ 32ہزار کروڑ روپے ہے۔ 2011-12کے لئے کل سرکاری خرچ بارہ لاکھ 57ہزار 729کروڑ روپے۔ اکیلا یہ کوئلہ گھوٹالہ 26لاکھ کروڑ کا ہے۔ مطلب یہ کہ 2011-12میں حکومت نے جتنا خرچ ملک کے تمام شعبوں کے لئے مقرر کیا ہے، اس کا قریب دو گنا پیسہ صرف منافع خوروں، دلالوں اور صنعت کاروں کو خیرات میں دے دیا گیا۔ مطلب یہ کہ عوام کی تین سال کی کمائی پر لگا ٹیکس صرف اس گھوٹالہ نے نگل لیا۔اتنے پیسوں سے تو ہمارے ملک کے حفاظتی نظام کو آئندہ 25سالوں کے لئے مزین کیا جا سکتا تھا۔ مطلب یہ کہ ملک کے بنیادی ڈھانچہ کو ایک سال میں ہی چست درست کیا جا سکتا تھا۔ غیر ملکی بینکوں میں جمع کالا دھن آج ملک کا سرد رد بنا ہوا ہے۔ بیرونی ممالک سے اپنا دھن لانے سے پہلے اس کوئلہ گھوٹالہ کا دھن واپس عوام کے پاس کیسے آئے گا؟
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان کمپنیوں میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ یہ قانون بھی توڑتی ہیں۔ پھر بھی ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی ۔ یا پھر اس سے بھی بڑا سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ جب ان کمپنیوں کو کوئلہ نکالنا ہی نہیں تھا تو انھوں نے ان کانوں پر قبضہ کیوں کیا ۔ گزشتہ ایک مہینے سے حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ ملک میں کوئلہ کی کمی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس گھوٹالہ میں جتنا کوئلہ پرائیویٹ کمپنیوں کو دیا گیا ہے وہ آئندہ 50سال تک کے لئے کافی ہے۔اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ یہ گھوٹالہ ایک سازش کے تحت کیا گیا تھا۔ اس گھوٹالہ کو افسر ، لیڈر اور سرمایہ کاروں کی ساز باز کے ذریعہ ہی انجام دیا گیا ہے۔ کوئلہ گھوٹالہ جو اب تک کا سب سے بڑا گھوٹالہ ہے 26لاکھ کروڑ کا ملک کا معدنی اثاثہ ، جس پر 120کروڑ ہندوستانیوں کا مساوی حق ہے۔اسے اس حکومت نے مفت میں  خرد برد کر دیا۔ اگر اسے عام نیلامی عمل اپنا کر بانٹا جاتا تو ہندوستان کو اس گھوٹالہ سے ہوئے 26لاکھ کروڑ روپے کے مالی خسارے سے بچایا جا سکتا تھا یہ پیسہ ملکی مفاد میں خرچ کیا جا سکتا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *