تقسیم وطن کا تجزیہ

Share Article

میگھناد دیسائی 
p-4ہندوستان میں اس وقت ایک عجیب و غریب صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔ ایک طرف جہاں جموں و کشمیر میں ایل او سی پر سرحدی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں، تو وہیں دوسری طرف ریاست کے اندر فرقہ وارانہ فساد بھی برپا ہو گیا ہے۔ عین 66 ویں یومِ آزادی کے وقت آزادی اور تقسیم سے پیدا شدہ تمام ناقابل حل ایشوز ایک ساتھ درپیش ہیں۔ یہ سب کچھ اس طرح ہیں کہ گویا برطانوی ریفریوں کے تحت ایک بار پھر نئے سیٹلمنٹ پر مذاکرات کا ماحول تیار ہے۔ مگر ایسا نصیب کہاں!
ہندوستان کے لیے پاکستان اور جموں و کشمیر دونوں ہی ایک مستقل مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کو بھی دوسرے کے بغیر حل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ تقسیم کو ختم کیے بغیر ان میں سے کسی ایک کو بھی حل نہیں کیا جاسکتااور تقسیم کو پاکستان پر حملہ کرکے اور اس پر قبضہ کرکے ختم نہیں کیا جاسکتا، اگر یہ آسان ہوتا، جو کہ یہ کبھی نہیں تھا۔ اس کا واحد حل باہمی مصالحت اور بات چیت ہے، لیکن دونوں ممالک میں سیاست کے دباؤ کو دیکھتے ہوئے یہ بھی ناممکن سا لگتا ہے۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ دنیا کا ہر ایک ملک دوسرے ملک سے نفرت کی بنیاد پر ہی زندہ ہے۔میرے ایک ہندوستانی نژاد فلسفی دوست، جن کا میں نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا، نے مشورہ دیا تھا کہ ہندوستان کو کشمیر پاکستان کو دے دینا چاہیے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ پورا پاکستان ایک قوم کے طور پر اس لیے متحد ہے، کیوں کہ اسے کشمیر کے ہاتھ سے چلے جانے کا بہت زیادہ احساس ہے (اس بات کو میں بھی مانتا ہوں)، لہٰذا کشمیر کے حاصل ہوتے ہی پاکستان ٹوٹ جائے گا۔ ایسا ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر پاکستان آزاد کشمیر کے ساتھ ایسا کرتا، تو کیا ہوتا؟ ہندوستان اسے کیسے ہینڈل کرتا؟ ایک بڑی آرمی کو کہاں کھڑا کرنے کی ضرورت پڑتی، موبائل اور انٹرنیٹ کو کہاں بند کرنے کی ضرورت پڑتی، ایفسپا کو عناد کی بنیاد پر کیسے لاگو کیا جاتا اور پھر پاکستان کے مقابلے ہم اپنی سیکولر ازم پر کیسے ناز کرتے؟ اگر کشمیر کے دونوں حصے ایک ہو جائیں، تو وہ اپنی آزادی کی مانگ میں اور مضبوط ہو سکتے اور جیسا کہ ان سے وعدہ کیا گیا ہے، وہ صحیح رائے شماری پر اصرار کر سکتے۔ ایسی صورت میں ہندوستان کو کشمیر پر حملہ کرنا پڑ سکتا اور یہ اس پر پھر اپنا پورا قبضہ جماسکتا۔
جواہر لعل نہرو سے لے کر منموہن سنگھ تک، ہندوستان کے ہر وزیر اعظم نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ انہیں ایسے لیڈر کے طور پر یاد کیا جائے، جس نے پاکستان کے ساتھ موجود تنازع کو حل کردیا ہو۔ ایسی ہی خواہش آگے آنے والے وزرائے اعظم کی بھی ہو سکتی ہے۔ تین وزرائے اعظم لال بہادر شاستری، اندرا گاندھی اور اٹل بہاری واجپئی کو پاکستان سے جنگ لڑنی پڑی تھی، جس میں انہیں کامیابی بھی ملی، البتہ وہ پاکستان کو یہ سبق سکھانے میں ناکام رہے کہ وہ اپنی حرکتوں کو پھر نہ دہرائے۔ اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اس مستقل مسئلہ کا حل نہ تو جنگ میں ہے اور نہ ہی ٹالنے میں۔ اور نہ ہی ہم نے اب تک ایسا کوئی راستہ اختیار کیا ہے کہ ہم جموں و کشمیر پر پرامن طریقے سے حکومت کر سکیں۔ ظاہر ہے، یہ سب ان کی غلطی ہے۔ وہ صرف علیحدگی اور اپنی آزادی چاہتے ہیں۔ آخر ان کے پاس جو کچھ ہے، اس سے وہ خوش کیوں نہیں ہو سکتے؟ ہم نے ان کی جمہوریت کو کمزور کیا ہے، ان کے اوپر چند وزرائے اعظم کو تھوپا اور معزول ہی نہیں کیا، بلکہ اس کے بعد ان کے اوپر ایک فیملی کی حکومت تھوپ کر ان سے یہ توقع کی کہ وہ خود کو اصلی ہندوستانی محسوس کریں۔ اس میں کوئی حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ کی پرورش و پرداخت برطانیہ میں ہوئی ہے؛ ایسے میں کیٹرینہ کیف میں اور ان میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔ ہم کشمیر کو ہندوستان کا اتنا زیادہ اٹوٹ حصہ مانتے ہیں کہ ہم نے وہاں مستقل طور پر ہندوستان کے کسی اور خطہ کے مقابلے سب سے زیادہ آرمی تعینات کر رکھی ہے، گویا کہ باقی حصے ہندوستان کا اٹوٹ حصہ نہیں ہیں! وہاں پر ریلوے لائن بچھانے میں ہمیں 66 سال لگ گئے، جب کہ چین نے بلتستان سے لے کر بحیرۂ عرب تک ریلوے لائنیں بچھا رکھی ہیں، حالانکہ ان خطوں پر اس کا مالکانہ حق نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ایک کشمیری کو انڈین کرکٹ ٹیم کا حصہ بننے میں 66 سال لگ گئے، لیکن ہمیں یہ کیسے پتہ چلے کہ وہ بھی کرکٹ کھیلتے ہیں؟ کسی بھی کشمیری ارب پتی کو آئی پی ایل ٹیم کا مالکانہ حق نہیں ملا۔
لہٰذا اگر نوجوانوں میں بے روزگاری ہے، تو اس سے کیافرق پڑتا ہے؟ ہم نے بے روزگاری کا پتہ لگانے کے لیے بہت سی کمیٹیاں بنائیں، حالانکہ ہم میں سے کسی کو یہ یاد نہیں کہ ان کمیٹیوں نے کیا کہا یا کیا کیا۔ کشمیریوں کو ملک سے باہر جانے کے لیے ویزا حاصل کرنے میں دقتوں کا سامنا کرناپڑ سکتا ہے، جب تک کہ وہ اس بات کو ثابت نہ کریں کہ ان کا تعلق دہشت گردوں سے نہیں ہے، جو کہ مشکل ہے، کیوں کہ اگر وہ سبھی(تعریف کے مطابق) دہشت گرد نہیں ہیں، تو آرمی کو وہاں تعینات کرنے کی ضرورت کیا ہے؟
ہندوستان بھی کشمیر کے بارے میں اتنا ہی شیزو فرینیا کا شکار (Schizophrenic) ہے، جتنا کہ پاکستان۔ ان میں سے ہر ایک وادی پر اپنا قبضہ چاہتا ہے، انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہاں رہنے والے لوگ کیا سوچتے ہیں۔ برطانوی ہندوستان میں جب ملک کا بٹوارہ ہوا، تو قانون سازوں سے صلاح و مشورہ کرنا پڑا تھا، وہ بھی صرف پنجاب اور بنگال میں۔ راجا مہاراجاؤں کی ریاستیں اس سے مختلف تھیں، کیوں کہ ان ریاستوں کے حکمرانوں سے لین دین کرنا تھا۔ دونوں ہی ممالک زور و زبردستی کی بنیاد پر کشمیر پر اپنا قبضہ چاہتے تھے۔ اب ان میں سے ہر ایک کو اس میں سے ایک ایک ٹکڑا ملا ہے اور اب یہ دونوں ہی پرانے راجاؤں کی طرح سلوک کر رہے ہیں۔ دونوں کو اپنے اس گناہ کا احساس ہے کہ انہوں نے بٹوارے میں جلد بازی کی۔ اس گناہ کا کفارہ کشمیریوں کو ادا کرنا ہے۔ یہ شو اس طرح آئندہ بھی چلتا ہی رہے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *