ریڈیو نے دلایا ٹوائلٹ:یہاں کی مزدور خواتین کھلے میں ٹوائلٹ کرنے کوتھی مجبور

Share Article
tamilnadu-textile-women
تمل ناڈو:ٹوائلٹ ایک پریم کتھا میں نے بھی دیکھی اور آپ نے بھی دیکھی ہی ہوگی، سماجی مسائل پر بنی ایک بہترین فلم تھی، لیکن یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ جس موضوع پر فلم بنتی ہے اور کروڑوں کی کمائی بھی کرتی ہے اورہم فلم کو واہ واہی بھی دیتے ہیں اور تالیاں بھی بجاتے ہیں، لیکن حقیقت کی زمین پر ہم اس طرح کے مسائل دیکھ کر انجان بن جاتے ہیں۔ دراصل ٹوائلٹ یا پیشاب گھر کو لے کر جو ہماری سوچ ہے وہ محض ایک فلم یا کسی تحریک سے نہیں بدلے گی اس کے لئے ہمیں خود کی سوچ کوتبدیل کرنا ہوگا اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم اس ماحول میں رہیں گے۔ اس عذاب کو برداشت کریں گے۔ تمل ناڈو کی ایک کپڑا مل میں 200 مزدوروں کے لئے صرف دو ٹوائلٹ تھے، جس وجہ سے خواتین مزدوروں کو بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا ،اس کی شکایت کئی بار خاتونمزدوروں نے انتظامیہ سے کی ،لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی ،تب مل کی ایک خاتون مزدور نے لوکل ریڈیو اسٹیشن پر اپنا مسئلہ سنائی اور بتایا کہ کس طرح وہ لائن میں لگ کر اپنی باری کا انتظار کرتی ہے۔ کئی بار ٹوائلٹ کی لائن میں اس کی باری نہیں آتی تو مزدوروں سے کہا جاتا کہ وہ مل کے اس کونے میں جا کر پیشاب کر لیں جہاں خراب کپاس کو پھینکا جاتا ہے۔
لوکل ریڈیو نے سنی خواتین کے’ من کی بات‘
tamilnadu-textile-women-1
خاتون مزدور نے بتایا کہ اس نے ان باتوں سے توہین تو محسوس کیا ہی ساتھ ہی اسے غصہ بھی بہت آیا، پھر فیصلہ کیا کہ وہ مقامی ریڈیو کو فون لگائے گی۔ ظاہر ہے کالر کو سننے والوں میں مزدور یونین کے ساتھ ساتھ کمپنی کے مینجمنٹ بھی شامل رہا ہوگا، کیونکہ اس کے بعد کپڑا مل میں ٹوائلٹ بنانا شروع کر دیا گیا۔ پچھلے ایک سال کے دوران تمل ناڈو میں تین ایسے ریڈیو اسٹیشن سامنے آئے ہیں،جو فری ہیں اور موبائل فون سے آپریٹ ہوتے ہیں۔ ان ریڈیو اسٹیشنوں پر کپڑا مزدور فون کرکے اپنے مسائل کو بتاتے ہیں۔ آل وومن تمل ناڈو ٹیکسٹائل اینڈ کامن لیبر یونین (ٹی ٹی سی یو) کی صدر تیویارکھن سیسراج نے کہا، ’مزدور نوکری جانے کے خوف سے اپنی باتیں کھل کر نہیں کہہ پاتے۔‘
تمل ناڈو میں لوٹا ریڈیو کا زمانہ
radio
چنئی کی ٹیکسٹائل مل میں کام کرنے والی پدما بتاتی ہیں کہ وہ اس ریڈیو کو روز سنتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’ریڈیو پر آنے والا شو ایک ایسی لت ہے جو ہمیں طاقت دیتی ہیں۔‘ ایک اور مزدور کانی کہتی ہیں کہ وہ بیک گراؤنڈ میں ریڈیو چالو کر کام کرتی رہتی ہیں،وہ کہتی ہیں:’مجھے ریڈیو شو میں آنے والے مسائل پر بات کرنا اچھا لگتا ہے۔‘ کانی کہتی ہیں کہ جب بہت سے لوگوں کو سنتے ہیں تو آپ خود کو ان کے کام سے منسلک تکلیفوں میں اکیلا محسوس نہیں کرتے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *