p-8cحال میں دہلی کے ’’ گاندھی پیس فائونڈیشن ‘‘ میں گاندھی وادیوں کی دو روزہ نشست کے بعد جس طرح عام آدمی پارٹی کو حمایت دینے کی خبر عام کی جارہی ہے، اس سے یہ جاننے کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ حقیقت میں اس کے پیچھے کی سچائی کیا ہے۔ کیا واقعی گاندھی وادیوں نے اروند کجریوال کو حمایت دی ہے یا کچھ لوگوں کے ذریعہ یہ افواہ پھیلائی گئی ہے؟ انہی تمام ایشوز پر ’’چوتھی دنیا‘‘ کے نمائندہ ابھشیک رنجن سنگھ نے گاندھی میموریل فنڈ کے سکریٹری رام چندر راہی سے تفصیلی بات چیت کی …

حال ہی میں’’ گاندھی پیس فائونڈیشن‘‘ میں گاندھی وادیوں کی ایک نشست ہوئی، جس میں عام آدمی پارٹی کو پارلیمانی انتخابات میں حمایت دینے کی بات سامنے آئی ہے۔ کیا یہ خبر صحیح ہے؟
نہیں، یہ بالکل صحیح نہیں ہے۔ اس نشست میں عام آدمی پارٹی یا کسی پارٹی کو حمایت دینے کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ دراصل، آئندہ پارلیمانی انتخابات میں ملک کے عوام کو بیدار کرنے کے منصوبوں پر بات چیت کرنے کے لیے یہ میٹنگ بلائی گئی تھی۔ اسی طرح کی ایک اور میٹنگ 18-19 جنوری کو بنگلور میں ہوئی تھی، جس میں’’ نیشنل گاندھی میموریل فنڈ‘‘ کے صدر پی گوپی ناتھ نائر اور کمار پرشانت کے علاوہ میں بھی شریک تھا۔
انا ہزارے نے اپنے 17 نکاتی مطالبات کو لے کر اروند کجریوال سمیت سبھی وزرائے اعلیٰ کو ایک خط لکھا تھا، لیکن ترنمول کانگریس سپریمو ممتا بنرجی کو چھوڑ کر کسی نے بھی اس کا جواب نہیں دیا۔ اسے آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
انا ہزارے کو گاندھی کے پیروکار کافی پسند کرتے ہیں۔ ہم لوگوں سے ان کے بے حد اچھے تعلقات ہیں۔ عوامی فلاح و بہبود میں ان کی کوشش قابل تعریف ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ اروند کجریوال نے انا کے 17 نکاتی مطالبات کا کوئی تحریری جواب نہیں دیا ہے۔ عام آدمی پارٹی اسے لے کر کیا سوچتی ہے، یہ تو ان کے لیڈر ہی بتا سکتے ہیں، لیکن انا کے تخلیقی افکار سے سبھی گاندھی وادی متفق ہیں۔
عام آدمی پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ گاندھی وادی اصولوں اور قدروں پر مبنی سیاست کررہی ہے۔ اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
آج جمہوریت مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ ہندوستان کی سیاست میں سرمایہ حاوی ہے اور سبھی پارٹیاں اسی کے پیچھے بھاگ رہی ہیں۔ انتخاب جیتنے کے لیے سیاسی پارٹیاں دولت، طاقت اور تشدد کا استعمال کرتی ہیں۔ سیاست میں اقتدار لیڈروں کے ہاتھ ہی میں نہیں، بلکہ عوام کے ہاتھ میں بھی ہونا چاہیے۔ بد عنوانی ختم کرنے کے لیے نظام میں تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے، جب ملک کے عوام بیدار ہو جائیں۔
عام آدمی پارٹی بد عنوانی ختم کرنے کی بات کرتی ہے، لیکن اس پارٹی میں شامل زیادہ تر لوگ این جی اوز سے جڑے ہوئے ہیں، کیا اسے نئی طرح کا سرمایہ دارانہ نظام نہیں کہیں گے؟
ملک میں نئی اقتصادی پالیسی کے بعد کارپوریٹ گھرانوں کا عمل دخل بڑھا ہے۔ نئی اقتصادی پالیسی کی ہی دین ہے بد عنوانی، تشدد اور عیش پرستی۔ عام آدمی کی بات کہنے اور سننے والا کوئی نہیں ہے۔ عام آدمی پارٹی میں کس طرح کے لوگ شامل ہوئے ہیں، اسے دیکھنے کے لیے عوام کو ہی بیدار ہونا پڑے گا۔ نہ صرف ایک پارٹی، بلکہ ہر پارٹی میں شامل لیڈروں کا بائیکاٹ عوام کو ہی کرنا ہوگا۔ یہ تبھی ممکن ہے، جب ان میں بیداری آئے گی۔ گاندھی وادی خود عوام کو تعلیم یافتہ کرنے کا کام کر تے ہیں۔
’سرو سیوا سنگھ‘ سے جڑے گاندھی وادیوں نے انتخابات میں کبھی حصہ لیا ہے یا نہیں؟
جے پی تحریک کے وقت جے پرکاش نارائن کی اپیل پر گاندھی وادیوں نے سال 1977 میں پہلی بار انتخابات میںحصہ لیا تھا۔ حالانکہ یہ حصہ داری انتخاب لڑنے کے لیے نہیں تھی، بلکہ ایمرجنسی کی ذمہ دار اندرا گاندھی کے خلاف ووٹروں کو بیدار کرنے کے لیے گاندھی وادیوں نے اپنا رول نبھایا تھا۔ اسی طرح کا ماحول آج ملک میں پھر پیدا ہوگیا ہے۔ اس لیے گاندھی وادیوں نے یہ طے کیا ہے کہ ملک کے عوام کو بیدار کرنے اور انہیں ووٹ ڈالنے کا حق پورے طور پر استعمال کرنے کے لیے آمادہ کیا جائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here