امریکہ امن مذاکرات شروع نہیں کرتا تو جنگ کیلئے تیار ہیں: طالبان

Share Article

امریکہ کی جانب سے ’افغان امن عمل‘ مذاکرات کا سلسلہ منسوخ کیے جانے کے بعد طالبان نے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن امن کے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دیتا ہے تو پھر طالبان بھی جنگ کے لیے تیار ہیں۔میڈیا رپورٹوں کے مطابقدوحہ میں طالبان کے ترجمان محمد سہیل شاہین نے افغانستان کے عوام کو انتخابی مہم اور ووٹنگ سے رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے حملوں کا عندیہ دیا۔

ایک نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم انتخابات کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ امریکہ نے افغانستان میں حملے کے بعد انتخابات کے ذریعے اپنا تسلط قائم کیا‘۔ خیال رہے کہ امریکا نے 11 ستمبر 2001 میں القاعدہ کی جانب سے حملوں کے بعد افغانستان میں اپنی فوج بھیجی تھی۔سہیل شاہین نے واضح کیا کہ افغانستان میں طرز حکومت کا فیصلہ عوام کریں گے اور ہم بھی ان کے فیصلے کو تسلیم کرنے کے پابند ہوں گے لیکن یہ صرف اس صورت میں ممکن ہوگا جب غیرملکیوں فوجیوں کا تسلط ختم ہوگا‘۔

ایک سوال پر سہیل شاہین نے جواب دیا کہ افغان امن عمل سے متعلق تمام امور حتمی شکل اختیار کر گئے تھے اور اس ضمن میں معاہدے کی نقول تینوں فریقین قطر حکومت، امریکا اور ہمارے پاس تھی‘۔واضح رہے کہ افغان امن عمل مذاکرات میں امریکا کی نمائندگی زلمے خلیل زاد کررہے تھے۔ترجمان طالبان نے مزید بتایا کہ قطر میں امن معاہدے سے متعلق ایک تقریب میں کم از کم 23 ممالک کے وزرائے خارجہ کو مدعو کیا جانا تھا۔انہوں نے بتایا کہ طے شدہ پروگرام کے تحت 23 تاریخ کو بین الافغان مذاکرات کا آغاز کیا جانا تھا۔

واضح رہے کہ اگر یہ معاہدہ ہوجاتا تو ممکنہ طور پر امریکہ افغانستان سے اپنے فوجیوں کو بتدریج واپس بلانے کا لائحہ عمل طے کرتا جبکہ طالبان کی جانب سے یہ ضمانت شامل ہوتی کہ افغانستان مستقبل میں کسی دوسرے عسکریت پسند گروہوں کے لیے پناہ گاہ نہیں ہوگا۔

تاہم 8 ستمبر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان کر کے سب کو حیران کردیا تھا کہ انہوں نے سینئر طالبان قیادت اور افغان صدر اشرف غنی کو کیمپ ڈیوڈ میں ملاقات کی دعوت دی تھی، تاہم آخری لمحات میں انہوں نے طالبان کے ایک حملے میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد کی ہلاکت پر یہ مذاکرات منسوخ کردیے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *