تعلیم سب کے لئے، مہم کا پیسہ افسروں کی جیب میں

Share Article

تعلیم سب کے لئے‘ مہم یونیسکو کے ان مقاصد کے ساتھ شروع ہوئی تھی جن میں بچوں، نوجوانوں اور ناخواندہ بالغوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا تھا۔ اس مہم کا آغاز1990میں تھائی لینڈ کے جومیٹن میں ایک عالمی کانفرنس کے تحت ہواتھا، جس کا مقصد سب کے لئے تعلیم مہیا کراناتھا۔ پوری دنیا سے اس کانفرنس میں تقریباً 155ممالک کے نمائندے شامل ہوئے تھے اور سبھی نے اس بات کا عہد کیا تھا کہ 2015تک ان سبھی ممالک میں بچوں، نوجوانوں اور بالغوں کوخواندہ بنا دیا جائے گا۔کانفرنس میں 6خاص مقاصد کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔
.1    یہ کوشش او رمقصد کہ بہت چھوٹی عمر کے بچوں کی تعلیم اور ان کی دیکھ بھال صحیح ہو۔
.2    یہ کوشش اور مقصد کہ مفت اور لازمی ابتدائی تعلیم سب کے لئے ہو۔
.3    یہ کوشش اور مقصد کہ نوجوانوں اور بالغوں کے لئے تعلیم کے وسائل مہیا کرائے جائیں۔
.4    یہ کوشش اور مقصد کہ50فیصد تک بالغوں کی تعلیم عام ہو۔
.5    یہ کوشش اور مقصد کہ2005تک جنس کی بنیاد پر کوئی تفریق نہ ہو اور 2015تک جنس کی بنیاد پر کسی کی آزادی کو نہ چھینا جائے۔
.6    یہ کوشش اور مقصد کہ تعلیم کا معیار بہتر ہو۔
ہندوستان میں 2001میں اس مہم کا آغاز کیا گیا اور اس کو’ سروشکشا ابھیان‘ کا نام دیا گیا۔ اسی کو one Each one teac کا نعرہ بھی بنایا گیا۔ اس اسکیم میں  6سے 14سال تک کے بچوں کو تعلیم دینا شامل ہے۔
’ سرو شکشا ابھیان‘ یا تعلیم سب کے لیے کا مقصد سماجی، علاقائی اور جنس کی بنیادپر کوئی تفریق نہ کر کے سبھی کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا تھا اور اس کے لیے حکومت نے ایک ہدف مقرر کیا جس کے تحت نہ صرف یہ کہ تعلیمی مراکز قائم کیے گئے، بلکہ سرکاری امداد یافتہ اسکولوں غیرامداد یافتہ پرائیویٹ اسکول سبھی کو اس میں شامل کیا گیا۔ اسی کے تحت حکومت نے عالمی بینک سے ایک معاہدہ بھی کیا، جس کے تحت’ سرو شکشا ابھیان ‘کے دوسرے دور میں تقریباً 600ملین امریکی ڈالر اس مہم پر خرچ کیے جائیںگے۔ ’سرو شکشا ابھیان‘ کے تحت حکومت برطانیہ نے بھی تقریباً 34کروڑ پاؤنڈ دے کر اس مہم ’تعلیم سب کے لیے ‘ کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش کی تھی، مگر نہایت شرمناک بات ہے کہ اس کا پیسہ ’عیش کچھ کے لیے‘ میں استعمال کیا گیا۔
ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں آبادی کا ایک تہائی حصہ دیہی علاقوں میں رہتا ہے اور ان علاقوں میں اب بھی بجلی، پانی اور بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ ایسے میں جب کہ ضروریات زندگی ہی جٹانا مشکل ہے، وہاں تعلیم کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا، مگر حکومت نے ’تعلیم سب کے لیے‘ مہم میں 14سال تک کے لڑکے اور لڑکیوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کا انتظام کیاہے اور تقریباً 7-8سالوں میں اس پر کتنا عمل ہوا ہے اور کتنے پرائمری اسکول قائم کئے گئے، وہ تو ایک الگ بات ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ برطانیہ کے ذریعہ دی گئی امدادی رقم کو جس بے شرمی سے ہمارے افسروں نے استعمال کیا اور جس طرح اس کی بندر بانٹ کی گئی اس نے عالمی برادری میں ایک بار پھر ہندوستان کا سرشرم سے جھکا دیا ہے۔ برطانیہ میں ان دنوں ہندوستان اوراس پیسے سے متعلق بدعنوانی کا جو چرچا ہے، اس نے ہندوستان کی عزت پر بٹہ لگا دیا ہے۔ برطانوی میڈیا میں یہ بات بار بارکہی جارہی ہے کہ یو کے ڈپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ (DFID) کے تحت مختص کی گئی رقم کا غلط استعمال ہوا ہے اور رپورٹ میں ان فنڈز میں سے 70ملین اور 340ملین پاؤنڈز کے غلط استعمال کی نشاندہی کی گئی ہے اور برطانوی میڈیا میں 15جون بروز پیر یہ بیان دیا گیا ہے کہ اس طرح کی بدعنوانی کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا نیز اس کی جلد از جلد انکوائری کرائی جائے گی۔ انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ سکریٹری اینڈ ریومشیل کا بھی بیان اس ضمن میں کافی حد تک ہندوستان کے لیے شرم کا باعث ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’یہ نہایت شرمناک بات ہے اور میں نے فوری انکوائری کا حکم دے دیا ہے اور نئی برطانوی حکومت اس بدعنوانی کے لیے برداشت کی زیر وپالیسی کو اپنائے گی۔ یعنی زیرو فیصد برداشت نہیں کرے گی۔‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک مہینہ پہلے جب ان کی پارٹی اقتدار میں آئی تو انہوں نے برطانوی ٹیکس دہندگان سے وعدہ کیا تھا کہ ان کے ایک پاؤنڈ کی قیمت 100پینس کی اہمیت رکھتی ہے۔ مشیل کا کہنا ہے کہ وہ ہر ڈی ایف آئی ڈی کے کاموں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ جو ممالک غریب اور ضرورتمند ہیں ان کو پوری مدد دی جا سکے۔
یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ برطانیہ کے عوام کا پیسہ ہندوستان کے غریب عوام کے ترقیاتی پروگرام کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اب اگر وہاں کے عوام ایک بار بھی برطانوی حکومت سے ہندوستان کے فنڈ کے ناجائز استعمال پر سوال کھڑا کر دیں تو یہ ہندوستان کے لئے ڈوب مرنے کی بات ہوگی۔ DFIDکے اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ کی 24فیصد سالانہ امداد ہندوستان کی تعلیمی ترقی کے لئے مختص کی گئی ہے اور 340ملین پائونڈ س کو 14سال تک کے بچوں کی تعلیم کے لئے استعمال ہونا چاہئے تھا، مگر جس طرح اس کا غلط استعمال ہوا ہے اس نے ہمیں پوری دنیا میں شرمسار کر دیا ہے۔
جس طرح سب کے لئے تعلیم کی مہم کے تحت فرضی و جعلی دستاویز کے سہارے کروڑوں روپے کی دھاندلے بازی ہوئی اس نے ہندوستانی وزارت تعلیم کے محکمہ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ساری بدعوانی کا انکشاف ہندوستان کی ہی  سی اے جی یعنی Comptroller and Auditors General نے کیا ہے یہ وہ ادارہ ہے جس کو ہندوستانی آئین میں تمام مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی تمام سرکاری رقوم کا حساب کتاب رکھنا ہوتا ہے۔ اسی سی اے جی کی رپورٹ پبلک اکائونٹس کے ذریعہ ہی منظور ہو پاتی ہے۔ سی اے جی کی رپورٹ میں ڈی ایف آئی ڈی کی طرف سے دی گئی رقم کا جو غلط استعمال ہو ا ہے اس کا تخمینہ 70سے 340ملین پائونڈ س تو ہے ہی اور اس میں سے 14ملین پائونڈ س کی رقم ایسی مدمیں خرچ ہوتی ہے جس کا اسکول سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔
’سرو شکشا ابھیان‘ کے تحت عالمی بینک اور ڈی ایف آئی ڈی کا جو تعاون ہے وہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ سال 2004-05کے لئے 4,700کروڑ اور سال 2007-08سے 2009-10تک 4,330کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔ اس میں سے اگر افسران کی لگژری کاروں کی خریداری پر خرچ کی گئی رقم کو دیکھیں تو سی اے جی کی رپورٹ میں17,754پائونڈ س خرچ کئے گئے ہیں اور کمپیوٹر کی خریداری پر خرچ کی گئی رقم 3,803پائونڈس ہے نیز 96کروڑ روپے صرف سجاوٹ کے سامان پر خرچ کیے گئے ہیں۔تقریباًڈیڑھ لاکھ پائونڈ کی رقم ایک بینک میں ڈال دی گئی، جس کی کوئی معقول وجہ نہیں تھی یعنی وہ بے چارے معصوم بچے جن کو مڈ ڈے میل بھی دیا جاتا ہے تو آدھے بچے بیمار ہو جاتے ہیں۔ وہ معصوم جن کو دریاں اور ٹاٹ بھی میسر نہیں ، جن کے پاس کتابیں اور کاپیاں نہیں ان کے لئے جو پیسہ ملا وہ افسروں کی نئی گاڑیوں، عالی شان کرسی میز اور صوفوں کی نظر ہو گیا۔ جبکہ جو رقم بینک میں ڈالی گئی وہ کئی گائوں اور شہروں کے غریب اسکولی بچوں کو تعلیم سے آراستہ کر سکتی تھی ۔ان کا مستقبل سنوار سکتی تھی ۔ اس پوری رقم سے کتنی ترقی ہوئی اس کا اندازہ خود سی اے جی کے پاس بھی نہیں ہے، ہاں! مگر اس رقم سے ا فسران کی عیاشی کا حساب کتاب ضرور مل رہا ہے۔
حالانکہ ہندوستان میں کئی تنظیمیں تعلیم کے لیے کام کر رہی ہیں اور ان کے اعددا و شمار بتاتے ہیںکہ ہمارے ملک میں ابھی بھی20سے40فیصد بچے ہی ابتدائی تعلیم حاصل کر پا رہے ہیں، کیونکہ غربت کی وجہ سے وہ کسی نہ کسی جگہ جیسے فیکٹریوں، چائے خانوں،ڈھابوں اور گھروں میں کام کر رہے ہیں۔ایسے ملک میں جب خواندگی کی شرح کاجائزہ لیا جائے گاتو ہندوستان کے لیے یقینا شرمناک ہوگا۔ دو جرم ایسے ہیںجن کی معافی کسی صورت میں نہیں ہیں۔ایک تو ملاوٹ اور دوسرا تعلیم سے کھلواڑ۔ ایک میں صحت و تندرستی بر باد ہو جاتی ہے اور دوسرے میں مستقبل بر باد ہو جاتا ہے۔ایسے افراد جو اس طرح کے شرمناک کاموں میں ملوث ہوں اور ایسے افسران جو بدعنوانی کا مینار بن گئے ہوں ان کو پھانسی پر لٹکا دیا جانا چاہئے۔کیونکہ ہر جرم کی معافی ہو سکتی ہے مگر یہ دو جرم ناقابل معافی ہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *