بھوپال میں کانگریس کے دفتر کے باہر لگے سندھیا کو قومی قیادت سونپنے کی اپیل کے پوسٹر 

Share Article

 

لوک سبھا انتخابات میں ملی شرمناک شکست کی ذمہ داری لیتے ہوئے کانگریس کے قومی صدر راہل گاندھی کے استعفیٰ دینے کے بعد پارٹی عہدیداروں میں بھی استعفیٰ دینے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ مدھیہ پردیش میں بھی تنظیم میں تبدیلی کے امکان کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے ریاستی کانگریس صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، تو پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری جیوتی رادتیہ سندھیا نے بھی استعفیٰ دے کر اپنے فرائض کو ادا کردیا ہے۔ اسی درمیان سندھیا کو ریاستی کانگریس صدر بنانے کی مانگ بھی اٹھتی رہی ہے، لیکن اب انہیں پارٹی میں قومی قیادت سونپنے کا مطالبہ ہونے لگا ہے۔

 

Image result for Take out the Congress office in Bhopal, Sindhia appealing for national leadership

 

بھوپال میں واقع ریاستی کانگریس کے دفتر کے باہر پیر کو کارکنوں کی طرف سے پوسٹر لگا دیئے گئے ہیں، جن میں راہل گاندھی سے اپیل کی گئی ہے کہ جیوتی رادتیہ سندھیا کو ان کی صلاحیت کے مطابق قومی قیادت سونپا جائے۔قابل ذکر ہے کہ گذشتہ دنوں راہل گاندھی نے لوک سبھا انتخابات میں شکست کو لے کر ریاستی کانگریس صدور کے خلاف ناراضگی ظاہر کی تھی۔ اس کے بعدریاست کے وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے ریاستی کانگریس صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد ریاست میں جیوتی رادتیہ سندھیا کو ریاستی کانگریس صدر بنانے کی مانگ اٹھی تھی۔ کارکن انہیں کافی پہلے ہی ریاستی صدر بنانے کی کوشش کر رہے تھے اور ریاست کے کئی وزراءنے اس مطالبے کی حمایت کی تھی۔ اب بھوپال میں کانگریس کے دفتر کے باہر سندھیا کو قومی قیادت سونپنے کے لئے پوسٹر لگائے گئے ہیں۔ اس پوسٹر میں راہل گاندھی سے اپیل کی گئی ہے کہ سندھیا کو ان کی صلاحیت کے مطابق قومی قیادت کی ذمہ داری دی جائے۔

 

Image result for Take out the Congress office in Bhopal, Sindhia appealing for national leadership

 

اس سے پہلے کانگریس میں جاری استعفوں کے دور کے درمیان سندھیا نے بھی اتوار کو اپنے جنرل سیکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، لوک سبھا انتخابات میں شکست کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے انہوں نے اپنا استعفیٰ دیا تھا۔ استعفیٰ کے بعد سندھیا نے کہا تھا کہ انہیں اس ذمہ داری کو دینے اور اپنی پارٹی کی خدمت کرنے کا موقع دینے کے لئے وہ راہل گاندھی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *