تاج محل تنازعہ اصل ایشو سے توجہ ہٹانے کا بہانہ ہے

Share Article

دنیا کے سات عجائب میں سے ایک عجوبہ تاج محل پھر سے تنازع کے مرکز میں ہے۔ اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے ذریعہ تعمیر شدہ تاج محل سیاحوں، خاص طور پر غیر ملکیوں کے لئے کشش کا مرکز ہے۔ اترپردیش کے آگرہ شہر میں قائم تاج محل نے اس بار اترپردیش کی رائٹ ونگر بی جے پی کے لوگوں کا دھیان اپنی طرف کھینچا ہے لیکن کسی مثبت عمل کے لئے نہیں ۔جب اترپردیش میں بی جے پی سرکار کے چیف یوگی آدتیہ ناتھ نے تاج محل کو ٹورسٹ اٹریکشن لسٹ سے ہٹا دیا تب اپوزیشن نے رد عمل کا اظہار کیا۔ سرکار دفاعی پوزیشن میں ہوئی لیکن اس کا مقصد صاف تھا۔ کیونکہ یوگی نے کہا تھا کہ وہ ہندوستانی ثقافت کا حصہ نہیں ہے۔
پچھلے دنوں یوپی اسمبلی کے ارکان میں سے ایک، سنگیت سوم نے یہ ایشو اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ شاہ جہاں کے ذریعہ اپنی بیوی کی محبت کے لئے بنایا گیا یہ خوبصورت تاج ہندوستانی ثقافت پر ایک دھبہ ہے کیونکہ یہ ان غداروں کے ذریعہ بنایا گیا تھا جنہوں نے ہندوئوں کو مارا تھا۔ سوم مغربی اترپردیش سے آتے ہیں اور 2014 کے پارلیمانی انتخابات سے ٹھیک پہلے مظفر نگر تشدد سے سیاست میں ابھرے تھے۔ ان کے بیان پر کافی رد عمل ہوا۔ لوگوں نے غصہ دکھایا اور ظاہر ہے کہ یہ غصہ مسلمانوں، لیفٹ لبرلس اور کانگریس کی طرف سے آیا۔ گرچہ بی جے پی نے سوم کے بیان سے کچھ دوری بنائے رکھنے کی کوشش کی ۔حالانکہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ ان لوگوں کے خلاف ایسی کسی کارروائی کی گنجائش بھی نہیں دکھائی دیتی ہے جنہوں نے بے جان یادگاروں کی توہین کرنا صحیح سمجھا، وہ بھی اس لئے کیونکہ وہ مسلمانوں کے ذریعہ بنوائے گئے تھے۔ بی جے پی کے ترجمان نیلن کوہلی نے اس بیان کے برعکس بیان دیا اور کہا کہ تاج محل ہماری تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ لاجواب ہندوستان کا حصہ ہے۔ تاریخ میں جو کچھ ہوا ہے، وہ مٹ نہیں سکتا لیکن کم سے کم یہ اچھی طرح سے لکھی ہوئی تاریخ ہو سکتی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی سرکار نے پچھلے تین سالوں میں مسلمانوں سے متعلق کسی بھی چیز کو بدنام کرنے اور بیف وغیرہ کے نام پر انہیں نشانہ بنانے کی پالیسی واضح ہوئی ہے۔کائو ویجلینٹ پر حالانکہ مودی نے ایک بار مذمت کی لیکن زمین پر ہوتا ہوا کچھ نہیں دکھائی دیا۔ ہندوئوں اور سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کے بیچ جو تقسیم کا خاکہ کھینچنے کی کوشش کی جارہی ہے ،وہ سرکاری منظوری سے طاقت حاصل کررہا ہے، جیسا کہ یوگی آدتیہ ناتھ سرکار۔ ہندوستان کو ہندو راشٹر کی شکل میں دیکھنا، ایک ایسا پروجیکٹ ہے جس میں مسلمانوں کو ’’دیگر ‘‘ کے درجے میں رکھا جاتا ہے۔یہ سب پچھلے تین برسوں میں سختی سے اپنایا گیا۔

 

 

 

 

 

 

مسلمانوں کو لے کر بی جے پی کی پالیسی صاف ہے۔ ایک طرح سے بی جے پی نے یہ صاف کر دیا ہے کہ مسلمانوں کا رینک میں کوئی درجہ نہیں ہے اور پارٹی میں کچھ شو پیس بھر ہیں۔ آج بی جے پی کی نیشنل ایگزیکٹیو میں صرف دو مسلم چہرے ہیں۔ ہندوستان میں 14.2فیصد مسلم ہونے کے باوجود اترپردیش جیسی سب سے بڑی ریاست کے انتخابات میں بی جے پی کو کوئی بھی مسلم امیدوار نہیں ملا۔ وزیر کی شکل میں ایک کم شہرت یافتہ چہرے کو شامل کیا گیا۔
اس لئے تاج محل پر حملہ کوئی حیرت انگیز نہیں ہے کیونکہ نفرت کا ماحول پہلے سے ہی بنایا گیا ہے۔حالانکہ یہ الگ بات ہے کہ کئی لوگوں کے رد عمل کافی تیز رہے۔سوشل میڈیا کے مطابق سنگیت سوم کے دعوے کا موازنہ افغانستان کے بامیان میں گوتم بودھ کی مورتیوں کو منہدم کرنے کے ساتھ کیا گیا۔ موجودہ وقت میں ہندوستان کی سیکولر اور متنوع شناخت کو جو چیز نقصان پہنچا رہی ہے ،وہ ہے مائنڈسیٹ اپ۔ بی جے پی اور اس کے اتحادی بڑی تعداد میں ہندوستانیوں کو اس ذہنیت میں ڈھالنے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ وہ لوگ سیکولرازم وادیوں ،جو مسلمانوں کو خوش کرنے والے ہیں، سے ہندو بھارت چھین چکے ہیں اور یہ ایک قیمت پر ملا ہے۔ وہ قیمت یہ ہے کہ دنیامیں ہندوستان کی شبیہ اب ایک عدم روادار ملک کی ہے ،نہ کہ سبھی مذاہب اور نظریات سے مل کر بنے ایک متنوع مواقف والے ملک کی۔
مغل شہنشاہ اس انانیت کا ہدف رہا ہے اور ان کے بارے میں یہ حقائق پیش کئے گئے کہ وہ ہندوئوں کے اوپر ظلم کرنے والے ہیں۔حالانکہ اس کے برخلاف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انہوں نے مندروں کی تعمیر میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاج محل جیسی یادگاروں کی تعمیر سے الگ انہوں نے ہندو مذہبی مقامات کے لئے زمین اور پیسے عطیہ کئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گورکھ ناتھ ، یوگی آدتیہ ناتھ جس کے مہنت ہیں، کی زمین نواب آصف الدولہ نے دی تھی۔ نواب آصف الدولہ 1790 کے آس پاس گورکھپور گئے تھے ۔چونکہ آصف الدولہ شیعہ تھے، اس لئے وہ امام باڑہ کے پیر روشن علی سے ملنا چاہتے تھے۔ روشن علی نے آصف الدولہ سے زمین گورکھ ناتھ کو عطیہ کرنے کے لئے کہا۔ 17 اکتوبر کو انڈین ایکسپریس نے لکھا کہ 19ویں صدی میں یہ کہا جاتا تھا کہ گورکھپور کا نصف حصہ روشن علی کے امام باڑہ اور نصف حصہ گورکھ ناتھ کا تھا۔
اسی طرح سب سے زیادہ مذمت پا چکے مغل حکمراں اورنگ زیب ہیں ، جن کے نام پر ایک سڑک کا نام لوٹینس ایزوم میں تھا اور جسے بی جے پی سرکار نے بدل کر ہندوستان کے سابق صدر اے پی جے عبد الکلام کے نام پر رکھ دیا۔ حالانکہ امریکہ کے رٹگرس یونیورسٹی کے تاریخ داں آڈرے ٹرسکے نے اپنی حالیہ کتاب ’’ اورنگ زیب : دی مین اینڈ دی میتھ ‘‘ میں حکمرانی کے بارے میں کئی تصورات کو ختم کیا۔انہوں نے تحقیق کی اور دلیل دی کہ اورنگ زیب ایک روادار شہنشاہ تھے جو مذہبی آزادی کے پیروکار تھے اور ایک حد تک سرکاری معاملوں میں سیکولر پالیسی کی بھی وکالت کرتے تھے۔ یقینی طور سے انہوں نے اپنے لمبے دور حکومت کے دوران کچھ ایسے کام بھی کئے جسے ٹھیک نہیں مانا جاسکتا۔ مصنف کے لفظوں میں ’’ اورنگ زیب اپنے وقت کے آدمی تھے۔ انہیں ایک تانا شاہ کے طور پر بتانا غلط ہے ۔اگر چیزیں تقابل میں دیکھی جائیں تبھی ان کے ساتھ انصاف کر سکتے ہیں‘‘۔ مصنف کی کتاب کے تبصرہ نگاروں نے تنقیدی تبصرہ کیا لیکن یہ انفرادی قبولیت تھی کہ اورنگ زیب ایک تانا شاہ نہیں تھے۔

 

 

 

 

 

 

گزشتہ تین سالوں میں دونوں طبقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی تفریق میں تیزی آئی ہے۔ تاج محل جیسی یونیسکو موروثی جگہ کو بھی ہدف بنانے کا کام جب سوم اور اس کے مساوی لوگ کرتے ہیں تو اس کے پیچھے ایک انفرادی تعصب ہوتا ہے۔چونکہ یوپی سرکار نے یادگار کے تئیں مایوسی دکھائی ہے۔لہٰذا زائرین کی تعداد میں بھی گراوٹ شروع ہو گئی ہے۔ 2016 میں ’’اکانومک ٹائمس ‘‘کی ایک رپورٹ کے مطابق 2016 میں کل 62لاکھ سیاح تاج محل اور 22 لاکھ آگرہ قلعہ کو دیکھنے آئے جبکہ 2015 میں یہ تعداد بالترتیب 65 لاکھ 13ہزار اور 23لاکھ 44ہزار تھی۔ یہ یو پی سرکار کے تازہ ترین اعدادو شمار ہیں ۔یہ یادگار سرکار کے لئے آمدنی کا ذریعہ ثابت ہوا ہے۔ وزیر سیاحت مہیش شرما کے مطابق تاج محل نے 2013 سے 2016 تک تین سال میں 75کروڑ روپے کمائے۔
ایک یادگار کے خلاف لڑائی ،مرکز میں بی جے پی سرکار کے خلاف لوگوں کی ناراضگی سے راستہ بھٹکانے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ 2019 کے انتخابات کی وجہ سے پولرائزیشن کا ماحول بنا کر ابھی ایک ہی حالت سے ابھرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ’’ نیو انڈیا ‘‘ کی کھوج کہاں کی جارہی ہے، پتہ نہیں۔ایسے میں بی جے پی یقینی طور سے اپنے ووٹ بینک کو حاصل کرنے کے لئے کچھ کرے گی۔ ایسے میں اس طرح کے کام میں مدد کر سکتے ہیں۔حالانکہ وہ ایک ملک کی شکل میں ہندوستان کی شبیہ خراب ہی کرتے ہیں۔ لیکن اس سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ ہر قیمت پر ہندوستان کو جیتنا چاہتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *