باچا خان یونیورسٹی پر حملہ طالبان کی درندگی ، معصوم طلباء نشانے پر

پاکستان کے خیبر پختونخوا ہ علاقے میں 20جنوری کی صبح کافی کہرہ تھا۔ کہرہ بھی ایسا کہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس صوبے کی راجدھانی پشاور ہے۔ وہی پشاور جہاں 16دسمبر 2014کو دہشت گردوں نے 150اسکولی بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ معصوم بچوں کے بہیمانہ قتل سے پوری دنیا لرز اٹھی تھی۔ اس کے بعد سے پاکستان میں سیکوریٹی انتظامات چا ق و چوبند کر دیئے گئے تھے۔ کسی کو بھنک تک بھی نہیں تھی کہ پشاور سے 40 کلو میٹر کی دور چار سدہ شہر دہشت گردانہ حملے کا شکار ہونے والا ہے اور تین ہزار سے زیادہ لوگوں کی زندگیاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بدلنے والی ہیں۔تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کے نشانے پر اس بار باچا خان یونیورسٹی تھی۔ اس علاقے کو لو گ سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان کو باچا خان بولتے ہیں۔ انہی کے نام پر یہ یونیورسٹی ہے جوپشاور سے چالیس کلو میٹر دور چارسدہ میں واقع ہے۔یہ یونیورسٹی شہر سے کچھ دوری پر غیر رہائشی علاقے میں واقع ہے۔ 20جنوری کو باچا خان کی یوم وفات تھی۔ اس موقع پر یونیورسٹی میں ایک پشتو مشاعرے کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں یونیورسٹی کے پروفیسروں اور طالب علموں کے علاوہ تقریباً600باہری لوگ بھی موجود تھے۔

Read more

بہار میں ایک وائس چانسلر تین یونیورسٹیاں

سنیل سوربھ
کسی بھی ریاست کی ترقی میں تعلیم کا اہم رول ہوتا ہے۔بہار کا تعلیمی نظام قدیم دور سے پوری دنیا میں مشہور رہاہے۔پچھلے دور میں’ نالندہ یونیورسٹی‘ اور’ وکرم شیلا یونیورسٹی ‘اس کی مثال ہے۔یہاں دانشوروں اور تعلیم یافتہ لوگوں کی بھرمار رہی ہے۔ آریہ بھٹ سے لے کر وششٹ نارائن سنگھ،اوتار تلسی تک ہزاروں دانشور ان اور تعلیم یافتہ شخصیتیں بہار کی زمین میں پیدا ہوئیں۔ آج ریاست کے اقتدار پر قابض لوگ بہار کو ترقی کرنے میں گجرات سے بھی زیادہ شرح ترقی کی بات کر رہے ہیں،لیکن

Read more