تائیکونڈو بیلٹ پروموشن ٹیسٹ میں پاس کھلاڑیوں کو سرٹیفکیٹ سے نوازاگیا

Share Article
belt-promotion

نئی دہلی: انڈو انٹرنیشنل تائیکونڈو اکیڈمی نئی دہلی، ابو الفضل اوکھلا میں ’بیلٹ پروموشن ٹیسٹ‘ کا انعقاد کیا گیا۔ راجدھانی کے کئی ممتاز اسکولوں کے طلباو طالبات نے حصہ لیا۔ تائیکونڈو بیلٹ پروموشن ٹیسٹ مقابلہ میں کھلاڑیوں نے اپنے دم خم کا مظاہرہ کیا ۔اس مقابلے میں اسکول، کالج کے طالب علم اور طالبات کے علاوہ مختلف شعبے جات میں نوکری کرنے والوں نے بھی حصہ لیا ۔کل ملاکر اکیڈمی کے قریب چار درجن سے زائد تائیکوانڈوکھلاڑیوں نے حصہ لیا۔

ٹیسٹ میں وائٹ بیلٹ، یلو بیلٹ، گرین بیلٹ، بلیو بیلٹ، ریڈ بیلٹ اور بلیک بیلٹ کے کھلاڑیوں نے امتحان پاس کئے۔تمام کھلاڑیوں کواکیڈمیں سرٹیفکیٹ سے نوازاگیا۔
انٹرنیشنل تائیکوانڈوریفری سنجیت کمار سہراوت اور انٹرنیشنل تائیکونڈو ریفری ٹی ایل راؤ نے کھلاڑیوں کا ٹیسٹ لیا اور حصہ لینے والے کھلاڑیوں کی شاندارکارکردگی سے کافی خوش ہوئے اور دونوں ججزنے کھلاڑیوں کی تعریف بھی کی۔

Shakeel-ahmad
مہمان خصوصی کے طور پرانسپکٹر ترپٹی جوشی (اسپیشل چائلڈ پولس یونٹ ساؤتھ دہلی) تائیکونڈو بیلٹ پروموشن میں شامل ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ تائیکونڈو کے ذریعے ہم اپنے آپ کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ یہ ایسا کھیل ہے، جس سے ہمیں شناخت بھی ملتی ہے اور سیکورٹی بھی ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کے لئے بہترین اور محفوظ کھیل تائیکوانڈو ہے۔اس سے لڑکیاں جسمانی اور ذہنی دونوں ہی طرح ہی مضبوط ہوتی ہے۔ اس کھیل سے لڑکیوں کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور کسی بھی ہنگامی حالات میں اپنی حفاظت کرنے کے خودقابل ہوتی ہے۔انسپکٹر ترپٹی جوشی نے کہا کہ وہ اس کھیل سے بہت متاثر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آپ چاہے جس سیکٹرمیں کام کریں،نوکری کریں لیکن تائیکونڈو ضرور سیکھیں۔

اس موقع پر مہمان خصوصی انسپکٹر ترپٹی جوشی نے تائیکونڈو ماسٹر شکیل احمد کی تعریف کی۔ انسپکٹرنے بتاتا کہ شکیل احمد نے صرف اوکھلا میں 20 ہزار اسکول وکالج کے لڑکے اور لڑکیوں ٹریننگ دے چکے ہیں۔ آپ کو بتا دیں کہ شکیل احمد نربھیا سانحہ کے بعد سے اب تک ڈیڑھ لاکھ سے اوپر لڑکے اور اور لڑکیوں کو ٹریننگ دے چکے ہیں، اس میں دہلی پولیس کی خواتین اہلکار بھی شامل ہیں۔غور طلب ہے اکیڈمی یہ سال 2019 کا دوسرا بیلٹ پروموشن ٹیسٹ تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *