تباہی کی راہ پر واٹر فُٹ پرنٹ

Share Article

ششی شیکھر
p-1-Cover-Storyملک کی 33 فیصد آبادی پانی کی کمی سے پریشان ہے۔ اکیلے مہاراشٹر کے قریب 20 ہزار گاو¿ں خشک سالی کی زد میں ہیں۔ بندیل کھنڈ سے لوگوںکی نقل مکانی صرف پانی کی وجہ سے ہورہی ہے۔ ملک کے کئی حصوںمیںبندوق بردار پانی پر پہرا دے رہے ہیں۔ مانسون کے کمزور ہونے سے ملک کے 91 اہم آبی ذخائر میںمحض 25 فیصد پانی ہی بچا رہ گیا ہے۔ ایسے میں پانی پر سوائے ’من کی بات‘ کے اور کوئی تذکرہ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ من کی بات بھی ایسی جس میںکسی مکمل حل پر گفتگو کی جگہ پانی بچانے کی ازلی نصیحت سننے کو ملی۔ ابھی تک ہندوستان سمیت پوری دنیا میں ماحولیات کو لے کر کافی بحث ہوتی رہی ہے۔ آلودگی کو کم کرنے کے لےے کاربن فُٹ پرنٹ کی بھی بات ہوتی ہے۔ ہر ایک پروڈکٹ، ہر ایک کمپنی کی جانچ ہوتی ہے کہ وہ کتنا کاربن پیدا کرتی ہے۔ عالمی کاوشوں کی وجہ سے اس سمت میں بھی پروگریس ہوتی دکھائی دی ہے۔ لیکن، اب دنیا کے سامنے ایک نیا مسئلہ ہے، پانی کی کمی۔ اگر ہم صرف ہندوستان کی بات کریں، تو گزشتہ کچھ مہینوںمیں ہی یہ دیکھنے کو ملا ہے کہ ملک کی 13 ریاستوں میں خشک سالی کا شدید اثر ہوا ہے۔ لاتور سے لے کر بندیل کھنڈ اور گجرات سے لے کر تلنگانہ تک میں انسان تو انسان، جانور بھی پانی کی کمی سے جوجھ رہے ہیں۔ ایسے میں پانی کو لے کر تمام طرح کے دلائل دےے جارہے ہیں۔ کچھ لوگ اس مسئلے کو مانسون سے جوڑ کر دیکھتے ہیں، کچھ لوگ اسے جغرافیائی اور ماحولیات کا مسئلہ مانتے ہیں۔ انسانی وجوہات پر چرچا کے معاملے میںصرف اتنا سننے کو ملتا ہے کہ عام آدمی کو پانی کم خرچ کرنا چاہےے، حساب سے خرچ کرنا چاہےے۔ لیکن کوئی یہ نہیںبتاتا کہ پانی کے خرچ کو کم کیسے کریں؟ کوئی یہ نہیں بتاتا کہ ایک کلو کپاس یا گنّا اگانے میں کتنا پانی خرچ ہورہا ہے؟ کوئی یہ بھی نہیں بتاتا کہ کولڈ ڈرنکس بنانے والی کمپنی یا بوتلوںمیں پانی بھر کر بیچنے والی کمپنیاں ندیوں اور زمین کا کتنا پانی جذب کررہی ہیں۔ کوئی یہ بھی نہیں پوچھتا کہ گزشتہ 25 سالوں میں مختلف ریاستی سرکاروں نے بارش کے پانی کو جمع کرنے کے لےے کتنے تالاب، کنویں، نہریں کھدوائیں، کتنے منصوبے بنائے؟
سب سے پہلے ہم ایک ڈاٹادیکھتے ہیں۔ دو اعدادوشمار ہیں، ایک 1951 کا اور دوسرا 2001 کا۔ ہندوستان میں فی شخص پانی کی فراہمی جہاں 1951 میں 14180 لیٹر تھی، وہ اب 5120 لیٹر ہوگئی ہے۔ یہ زیرزمین پانی کا حساب ہے۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ اگلے دس سالوں کے بعد یعنی2025 تک یہ فراہمی اور گھٹ کر قریب 3 ہزار لیٹر رہ جائے گی، تو سوال یہ ہے کہ پھر کیا ہوگا؟ اور 2025 یا 2050 کی بات بھی رہنے دیں، تو موجودہ وقت میںہی ملک کی 13 ریاستوںمیںپانی کی جو حالت ہے،وہ کیا کہانی کہتی ہے، اسے ہم سب دیکھ اور سمجھ رہے ہیں۔ لیکن، اس کے لےے اگر ہم صرف مانسون کو ذمہ دار مانتے ہوئے آنکھیں بند کئے رہے، تو پھر ہماری حالت بھی اس شتر مرغ جیسی ہی ہوگی، جو شکاری کو سامنے دیکھ کر اپنا سر زمین میںدھنسا لیتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ شکاری اسے نہیں دیکھ رہا ہے۔ اس لےے، یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ سرکار اور شہر ی سماج ایمانداری سے پانی کے بحران پر ایک قومی بحث کریںاور پانی کی کمی سے بچنے کے راستے تلاش کریں۔ اسی کڑی میں ہم اس کور اسٹوری میں دو مدعوںپر چرچا کررہے ہیں۔ پہلا واٹر فُٹ پرنٹ اور دوسرا کولڈ ڈرنکس سمیت بوتل بند پانی کے کاروبار پر۔ ہم اس بحث کے ذریعہ جاننے کی کوشش کریںگے کہ آخر ہمارا پانی جا کہاںرہا ہے اور اس پانی کے بحران کے لےے انسانی مداخلت کتنی ذمہ دار ہے اور اسے کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ دنیا بھر میںکاربن کی کھپت کی مقدار کیا ہے، اس کی جانکاری کے لےے دنیا بھر میں کاربن فُٹ پرنٹ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح، انسانی مداخلت کے سبب پانی کی کھپت کہاں اورکتنی ہو رہی ہے، اسے جاننے کے لےے آج کل ایک تصور رائج ہے، جس کا نام ہے واٹر فُٹ پرنٹ۔ واٹر فُٹ پرنٹ بتاتا ہے کہ آپ اپنی زندگی میںہر دن کن ذرائع سے کتنے پانی کی کھپت کررہے ہیں۔ عام طور پر لوگ یہ مانتے ہیںکہ پانی کی کوئی کمی نہیںہے، اس لےے جتنی مرضی ہو،کھپت کرسکتے ہیں۔ لیکن، ایسا ہے نہیں۔ حالانکہ دنیا کے کچھ حصوںمیں ضرور پانی زیادہ ہے،لیکن پانی کے استعمال کے وقت یہ یاد رکھنا چاہےے کہ دنیا کے کئی حصے ایسے بھی ہیں، جہاںپانی بالکل ہی نہیں یا بالکل ہی کم ہے۔ بہر حال ، اس اسٹوری کے ذریعہ ہم پانی سے متعلق ان پہلوو¿ں پر غور کریںگے، جن پریا تو بات چیت ہی نہیںہوتی اور اگر ہوتی بھی ہے، تو اس کی جانکاری محدود ہوتی ہے۔ ہم پانی سے متعلق، سچ اور ممکنہ خطرے کے ساتھ ہی اس کے حل پر بھی بات کریںگے۔
سب سے پہلے ہم کچھ پہلوو¿ں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ہندوستان ابھی گزشتہ کچھ سال سے شدید پانی کی کمی سے گزررہا ہے۔ آخر مانسون سے متعلق سوالوںسے الگ، پانی کی اس کمی کی وجہ اور کیا کیا ہے۔ اس میں زراعت، بوتل بند پانی، مشروبات سمیت پانی کے گھریلو استعمال کا کتنا حصہ ہے؟ ہم اس پر بھی بات کریںگے کہ جب ہم سو گرام چاول کھاتے ہیں،تو اصل میںہم اس کے ساتھ کتنے پانی کا استعمال کرجاتے ہیں یا پھر جب ہم ایک جینس پہنتے ہیں یا ایک کپ کافی پیتے ہیں یا ایک لیٹر بوتل بند پانی پیتے ہیں یاایک بوتل کولڈ ڈرنک پیتے ہیں، تب ہم کتنے پانی کی بربادی کررہے ہوتے ہیں اور اس سے بچنے کے کیا راستے ہوسکتے ہیں۔ ہم اس پر بھی بات کریںگے کہ ہماری موجودہ زراعت کی تکنیک کتنی غیر ذمہ داری کے ساتھ زمین کے پانی کااستعمال کررہی ہے او راس میںکس طرح کے بدلاو¿ کی ضرورت ہے؟ اس میںشہری سماج کے ساتھ ہی سرکاروں کا کیا کردار ہوسکتا ہے؟ اور آخیر میں یہ بھی کہ کاربن فُٹ پرنٹ کی طرز پر واٹر فُٹ پرنٹ کو اپنا کر کیسے ہم اس دنیا کو تیسری جنگ سے بچا سکتے ہیں۔
منرل واٹر، کولڈ ڈرنک اور پانی
سب سے پہلے ہم بات کرتے ہیںبوتل بند پانی کی۔ گزشتہ بیس سالوں میں ہندوستان میںبوتل بند پانی کے کاروبار میںجو تیزی آئی اور ترقی آئی ہے، وہ حیرت انگیز ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ جب آپ ایک بوتل پانی خرید کر پیتے ہیں، تب آپ اس پانی کو کتنی قیمت پر خریدتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی آپ کتنے لیٹر پانی برباد کردیتے ہیں۔ شاید آپ کو یہ ڈاٹا دیکھ کر بھروسہ نہ ہو، لیکن یہ سچ ہے اور یہ سچ ایسا ہے کہ جو ہمیںروز بروز پانی کے بحران کی طرف دھکیل رہا ہے ۔ مثال کے طور پر بوتل بند پانی تیار کرنے میںپانچ لیٹر پانی خرچ ہوتا ہے۔ ایک ڈاٹا کے مطابق دنیا بھر میں سال 2004 میں 154 ارب لیٹر بوتل بند پانی کے لےے 770 ارب لیٹر پانی کا استعمال کیا گیا تھا۔ ہندوستان میںبھی ایسے عمل کے لےے 25.5ارب لیٹر پانی بہایا گیا۔ یہ بے سبب ہی نہیںہے کہ بنارس سے لے کر کیرل کے گاو¿ںوالے ان بوتل بند کمپنیوں اورکولا کمپنیوںکے خلاف مورچہ کھولے ہوئے ہیں۔ ان جگہوںپر زیر زمین پانی کا جس طریقے سے استعمال کیا گیا ہے، اس سے وہاں پر زمین کے پانی کی سطح کافی نیچے چلی گئی ہے۔ کیلی فورنیا کے پیسفک انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ 2004 میںامریکہ میں 26 ارب لیٹر پانی کی پیکنگ کے لےے پلاسٹک کی بوتلیںبنانے کے لےے دو کروڑ بیرل تیل کا استعمال کیا گیا۔ پلاسٹک کی بوتلیں بھی زمین کے پانی کو آلودہ کرتی ہیں اور گلوبل وارمنگ کا بھی سبب بنتی ہیں۔ کولا ڈرنک بنانے والی کمپنیاں بھی بے تحاشہ پانی کا استعمال کرتی ہیں۔ بوتل بند پانی اور مشروبات بنانے والی کمپنیاں ایک ہزار لیٹر زیر زمین پانی کے بدلے محض کچھ روپے سرکار کودیتی ہیں۔
زراعت اور پانی
آئےے، سب سے پہلے کچھ دلچسپ لیکن خطرناک ڈاٹا پر نظر ڈالتے ہیں۔ زراعت ایک ایسا شعبہ ہے، جہاںپورے پانی کا قریب 90 فیصد سے بھی زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ گھریلو استعمال میںپانی کا صرف 5 فیصد ہی خرچ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان میںایک کلو گیہوں اگانے کے لےے قریب 1700 لیٹر (دیکھیں باکس) پانی خرچ ہوتا ہے۔ یعنی اگر ہمارے خاندان میں ایک دن ایک کلو گیہوںکی کھپت ہوتی ہے، تو ہم اس کے ساتھ قریب 1700 لیٹر پانی کی بھی کھپت کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ جو کمپیوٹر، کار کا استعمال کرتے ہیں یا پھر جو جینس پینٹ پہنتے ہیں، اس میںبھی ہزاروںلیٹر پانی کی کھپت ہوئی ہوتی ہے یا پھر ایک کپ کافی کے ساتھ ہم اصل میں 140 لیٹر پانی بھی پیتے ہیں، لیکن بالواسطہ طور پر ۔ اسے آپ ہماری قیاسی کھپت کہہ سکتے ہیں ، لیکن یہ کھپت اصلی ہے۔ اب ایک اور حقیقت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آج مصر دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے، جو گیہوں امپورٹ کرتا ہے اور چین بھی اب فوڈپروڈکٹس کا بڑا امپورٹ کرنے والا ملک بن گیا ہے،جبکہ دنیا بھر میںاس کے سامان بکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ چین یا مصر ایسا کیوںکررہے ہیں؟ جواب بہت ہی عام ہے۔ ان دونوں ملکوں نے ایسی سبھی فصلوںکی پیداوار بہت ہی کم کردی ہے، جس میں پانی کی کھپت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہ دونوں ملک اس حقیقت کے باوجود ایسا کررہے ہیں کہ ان کے پاس پانی کی فی الحال کوئی بھاری کمی نہیںہے اور ان کے پاس نیل اور وہانگہو جیسی ندیاں بھی ہیں۔ دراصل ایسا صرف اور صرف پانی بچانے کے لےے ہورہا ہے۔ کوئی ملک پانی کے بچانے کے لےے فصل ہی نہ اگائے اور اس کی جگہ اسے دوسرے ملکوں سے امپورٹ کرے، تو اس سے سمجھا سکتا ہے کہ پانی کے بحران کو لے کر دنیا میںکیا چل رہا ہے؟ ہندوستان کے حوالے سے دیکھیں، تو اس کا کیا مطلب ہے؟ اسے ایسے سمجھ سکتے ہیں کہ سال 2014-15 میںہندوستان نے قریب 37 لاکھ ٹن باسمتی چاول کا ایکسپورٹ کیا۔ اب 37 لاکھ ٹن باسمتی چاول اگانے کے لےے 10 ٹریلین لیٹر پانی خرچ ہوا۔ اسے اب ایسے بھی بول سکتے ہیں کہ ہندوستان نے 37 لاکھ ٹن باسمتی کے ساتھ 10 ٹریلین لیٹر پانی بھی دوسرے ملک میں بھیج دیا، جبکہ پیسہ صرف چاول کا ملا۔ یعنی جس ملک نے ہم سے چاول خریدا اسے چاول کے ساتھ 10 ٹریلین لیٹر پانی مفت میںمل گیا یا پھر کہیںکہ اس کا اتنا ہی پانی بچ گیا۔ ہندوستان ہر سال بیرونی ممالک میںاناج بیچ کر بھاری مقدار میںپانی کا قیاسی ایکسپورٹ کرتا ہے۔
کیا ہے واٹر فُٹ پرنٹ
واٹر فُٹ پرنٹ لفظ سنتے ہی سب سے پہلا سوال یہ دماغ میں آتا ہے کہ واٹر فُٹ پرنٹ ہے کیا؟ ہمارے روزمرہ کے بہت سے پروڈکٹس میں قیاسی یا چھپا ہوا پانی شامل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک کپ کافی کی تیاری کے لےے قیاسی پانی کی مقدار 140 لیٹر تک ہوتی ہے۔ آپ کا واٹر فٹ پرنٹ صرف آپ کے ذریعہ استعمال کیا گیا براہ راست پانی (مثال کے طور پر دھلائی میں) کو ہی نہیں دکھاتا، بلکہ آپ کے ذریعہ استعمال کےے گئے قیاسی پانی کی مقدار کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ لوگ پینے، کھانا پکانے اور کپڑے دھونے کے لےے پانی کا استعمال کرتے ہیں، لیکن اس سے زیادہ پانی وہ اناج پیدا کرنے، کپڑے بنانے، کار بنانے اور کمپیوٹر بنانے میں کرتے ہیں۔ واٹر فٹ پرنٹ ایسے ہی ہر ایک پروڈکٹ اور سروس ، جس کاہم استعمال کرتے ہیں، اس میں استعمال کےے گئے پانی کا حساب کرتا ہے۔ واٹر فُٹ پرنٹ ہمارے سامنے کئی سارے سوال اٹھاتا ہے۔ جیسے کسی کمپنی میں استعمال کےے جانے والے پانی کا ذریعہ کیا ہے؟ ان آبی ذرائع کی حفاظت کے لےے کیا طریقہ ہے؟ کیا ہم واٹر فٹ پرنٹ گھٹانے کے لےے کچھ کرسکتے ہیں؟
واٹر فٹ پرنٹ کے تین جزو ہیں۔ گرین ،بلیواور گرے۔ ایک ساتھ مل کر یہ جزو پانی کے استعمال کی اصل تصویر دکھاتے ہیں۔ مثلاً استعمال کیاگیا پانی بارش کا پانی ہے، سطح کا پانی ہے زمین کا پانی ہے۔ واٹر پرنٹ کسی عمل، کمپنی یا علاقے کے ذریعہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر پانی کی کھپت اور پانی کی آلودگی کو بتاتا ہے۔ گرین واٹر فٹ پرنٹ مٹی کی پرت میںچھپا پانی ہے، جس کا استعمال زراعت ، ہارٹی کلچر یا جنگل کے ذریعہ ہوتا ہے۔ بلیو واٹر فٹ پرنٹ گراو¿نڈ واٹر ہے۔ اس کا استعمال زراعت ، صنعت اور گھریلو کام میں ہوتا ہے۔ گرے واٹر فٹ پرنٹ تازہ پانی (فریش واٹر) کی وہ مقدار ہے، جس کی ضرورت آلودگی ہٹاکر پانی کی کوالٹی طے کرنے کے لےے ہوتی ہے۔ واٹر فٹ پرنٹ کا تعلق فریش واٹر (تازہ پانی) پر انسانی اثر اور انسانی استعمال سے ہے۔ فٹ پرنٹ کے ذریعہ پانی کی کمی اور آبی آلودگی جیسے مدعے کو بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ پانی کے بحران کا آج عالمی معیشت سے بھی متعلق ہے۔ کئی ملکوںنے تو اب اپنے واٹر فٹ پرنٹ کو کم کرنے کے لےے ایسے پروڈکٹس کو دوسرے ملک سے منگانا شروع کردیا ہے، جس کی پیداوار میں پانی کا زیادہ استعمال ہوتا ہے۔
دیواس میں پانی کی کھیتی
پہلے دیواس میں پانی کی سطح 400 فٹ سے بھی نیچے چلی گئی تھی۔ لوگوںکو پینے کے پانی کے لےے دوسرے گاو¿ں سے پانی لانا پڑتا تھا۔ فصل کی پیداوار متاثر ہوگئی تھی۔ لوگوںنے نقل مکانی شروع کردی تھی۔ اس صورت میں،آئی آئی ٹی روڑکی سے پاس آو¿ٹ اوماکانت امراو¿ 2006 میں دیوداس کلکٹر بن کر آئے تھے۔ ضلع میں پانی کے بحران کو دیکھتے ہوئے انھوںنے کسانوں کو اپنے کھیت کے ایک چھوٹے حصے میں تالاب بنانے کے لےے ترغیب دی۔ بینک اور سوسائٹی کو انھوں نے کسانوں کو تالاب بنانے کے لےے لون دینے کے لےے بھی راضی کیا۔ ان کی کوششوںسے گوربا گاو¿ں کے 150 سے زیادہ کسانوں نے اپنے کھیت میںتالاب بنائے۔ کھیت میں تالاب بنانے کے کام کوپانی کی کھیتی نام دیا گیا۔ کسانوں کو یہ سمجھایا گیا کہ جس طرح فصل سے انھیںفائدہ ہوتا ہے، اسی طرح پانی کی کھیتی کرنے سے بھی انھیںفائدہ ہوگا۔ اب حالت یہ ہے کہ ہر کسان سال میںدو فصل اگا رہا ہے۔ اس کے سبب گاو¿ں کا ہر خاندان اب خوشحال ہے۔ پنچایت میں ابھی 170 تالاب ہیں اور سبھی میں بھرپور پانی ہے۔
کیا کہتی ہے نیشنل واٹر پالیسی 2012
زرعی شعبہ
پانی کے مو¿ثر طریقے کے استعمال میں سدھار۔
بارش کا پانی جمع کرنے (واٹر ہارویسٹنگ) اور واٹر شیڈ مینجمنٹ تکنیک کا استعمال ۔
انرجی سپلائی خاص طور پر پمپ واٹر کے لےے انرجی سبسڈی میں کٹوتی۔
ڈفرینشیل پرائسنگ، ایوارڈ اور سزاکے پروویژن کو لاگو کرکے زمین کے پانی کے استعمال پر روک۔
نیشنل ریور لنک پروجیکٹ کو لاگو کرنا، جس کا مقصد 175 کھرب لیٹر پانی حاصل کرنے کے لےے 30 ندیوں او رنہروں کو جوڑا جانا ہے۔
صنعتی شعبہ
صنعتوںکے گندے پانی کی ریسائکلنگ اور ٹریٹمنٹ کے لےے قانون او ر سبسڈی کے ذریعہ حوصلہ افزائی۔
ایسی تکنیک کی حوصلہ افزائی کرنا، جس میںپانی کی کھپت کم ہو۔
گھریلو شعبہ
شہری علاقے میں لازمی طور پر بارش کا پانی جمع کرنے کے لےے پالیسی بنانا۔
پانی کے مناسب استعمال کے لےے پروپیگنڈہ۔
عام لوگوں میںپانی کے تحفظ کے لےے بیداری پیدا کرنا۔

ہم نہ چھوڑیں ایسے نشان۔۔۔
ہر چیز کی پیداوارپرورچوئل واٹر کی چھاپ ہوتی ہے۔ اسے سائنس کی زبان میں ورچوئل واٹر فٹ پرنٹ کہا جاتا ہے۔ ورچوئل واٹر وہ پانی ہے جو کسی چیزکو اگانے میںبنانے میں اور اس کی پیداوار میں لگتا ہے۔ ایک ٹن گیہوںاگانے میں قریب ایک ہزار ٹن پانی خرچ ہوتا ہے۔ آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایک کپ کافی پر کتنا پانی خرچ ہوتا ہے۔ آپ حیرت کریں گے کہ ایک کپ کافی پر 140 لیٹر پانی خرچ ہوتا ہے ۔کسی بھی پروڈکٹ کی کھیتی سے لے کر اس کی پروسیسنگ اور پیکیجنگ تک جو ڈھیر سارا پانی خرچ ہوتاہے، اسے ہی ورچوئل واٹر کہتے ہیں۔ گوشت کے کھانوں کے مقابلے میںسبزی والے کھانوں میںکم پانی لگتا ہے۔ اگر آپ گوشت خور ہیں،تو پانچ لیٹر پانی کی کھپت کریں گے، اگر آپ سبزی خو ر ہیں،تو صرف ڈھائی لیٹر۔ ایک کلو مانس پیدا کرنے پر قریب 15,500 لیٹر پانی خرچ ہوتا ہے اسی طرح صنعتی چیزوں کی پیداوار میں بھی ورچوئل واٹر کا اصول لاگو ہوتا ہے۔ ورچوئل واٹر پر کام کرنے والے سائنسدانوں نے پایا ہے کہ ایشیا میں رہنے والا ہر شخص ایک دن میں اوسط 1400 لیٹر ورچوئل پانی کا استعمال کرتا ہے، جبکہ یوروپ اور امریکہ میں 4000 لیٹر۔
گزشتہ کچھ سالوں میں ورچوئل واٹر ایک بڑا مدعا بن گیا ہے۔ لیکن اب بھی کئی ملکوںکی سرکاریں اس مدعے کو سنجیدگی سے لینے کو تیار نہیں ہیں۔ ہندوستان بھی ان میںشامل ہے۔ ورچوئل واٹر فٹ پرنٹ کا اصول انٹر نیشنل کامرس پالیسی اور ریسرچ پر خاصا اثر ڈال سکتا ہے۔ مستقبل میںیہ اصول دنیا بھر میں پانی کےمینجمنٹ کو لے کر چھڑی بحث کو ایک نئی سمت دے سکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *