شام کے میزائل شکن سسٹم نے اسرائیل سے داغا مشتبہ میزائل مار گرایا

Share Article

 

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی SANA کے مطابق بشار کی فوج کے فضائی دفاعی نظام نے جمعہ کی شام متعدد “روشن اجسام” کو مار گرایا۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان نامعلوم اجسام کا ذریعہ اسرائیل ہے۔ ایجنسی نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ “ہمارے ایئر ڈیفنس سسٹم نے القنیطرہ کی جانب سے آنے والے معاندانہ اہداف کا انکشاف کیا اور پھر ان کا راستہ روک دیا”۔

 

ادھر شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے بتایا ہے کہ “دارالحکومت دمشق کے اطراف شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جو کہ کئی اسرائیلی میزائلوں کے حملے کا نتیجہ تھا”۔ رامی کے مطابق دارالحکومت کے جنوب اور جنوب مغرب میں کم از کم 3 زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ آیا شامی فضائی دفاعی نظام کی جانب سے ان کو روکا گیا یا نہیں۔رامی عبدالرحمن نے بتایا کہ مذکورہ میزائلوں کے ذریعے الکسوہ کے علاقے کو نشانہ بنایا گیا جہاں ایرانی فورسز اور حزب اللہ ملیشیا کے ہتھیاروں کے گودام واقع ہیں۔ رامی کے مطابق یہ علاقہ اسرائیلی فضائی حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔گزشتہ چند برسوں کے دوران اسرائیل نے شام میں اپنی بم باری کو وتیرہ بڑھا دیا ہے۔ اس دوران شامی حکومت کی فوج کے ٹھکانوں اور ایرانی فورسز اور حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں میں شامی اور ایرانی اہل کار اور عہدے داران بھی مارے جاتے رہے ہیں۔

 

اسرائیل بارہا یہ موقف دہراتا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے شام میں اپنے عسکری وجود کے پاؤں جمانے اور حزب اللہ کو جدید اسلحہ بھیجنے کی کوششوں کے آڑے آتا رہے گا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے چاڈ کے دورے کے دوران بیان دیا تھا کہ “ہماری ایک مکمل طور پر متعین پالیسی ہے۔ شام میں ایرانی وجود کی جڑوں کو سبوتاڑ کرنا اور ہر اس فریق کو نقصان پہنچانا جو ہمیں نقصان پہنچانا چاہتا ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *