شام کا حال افغانستان جیسا ہوگا

Share Article

وسیم احمد 
عرب میں جمہوریت لانے کے نعروں کے ساتھ’’بہار عرب ‘‘کے نام سے جو انقلاب شروع ہوا تھا،اس انقلاب کی آہٹ مارچ 2011 میں شام میںسنی گئی اور چند دنوں میں ہی یہ آہٹ گولیوں اور دھماکوں کے شور میں بدل گئی۔مصر اور لیبیا میں یہ انقلاب چند ماہ کے اندر ہی اپنے اختتام کو پہنچا اور انقلابیوں کو جمہوریت نصیب ہوئی،مگر شام میں اس انقلاب کا دائرہ وسیع تر ہوتاچلا گیاجو اب بھی خونریزی کی شکل میں جاری ہے ۔ اس ڈیڑھ سال کے عرصے میں شام کے ہزاروںلوگوں نے اپنے رشتہ داروں کو موت کی آغوش میں جاتے ہوئے دیکھا ہے۔جو زندہ ہیں وہ بھی خوف و دہشت کے سائے میں جی رہے ہیں۔امریکہ اور یوروپین ممالک شام پر اقتصادی پابندیوں میں روز بروز اضافہ کرتے جارہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اقتصادی پابندیوں سیبشار کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے،مگر سچ تو یہ ہے کہ پابندیوں کا سلسلہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہوں،اس سے حکومت پرکچھ اثر پڑنے والا نہیں ہے۔ کیونکہ اقتصادی پابندی سے اگرکوئی متاثر ہوتا ہے تو وہ عوام ہیںجو اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بچوں کو بھوک سے تڑپتے دیکھتے ہیں اور تنگ آکر ملک سے باہرسرحدی علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ گزشتہ سال جب عرب لیگ کا ایک وفد شام گیا ہوا تھااور وہاں کی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد جو رپورٹ پیش کی گئی تھی،اس میں بھی اسی بات کی وضاحت تھی کہ اقتصادی پابندی سے عوام پریشان ہورہے ہیں۔امریکہ کے پاس شام کے حل کے لئے بس ایک ہی علاج رہ گیا ہے اور وہ ہے اقتصادی پابندی، جس میںگاہے بگاہے مزید سختیوں کا اعلان ہوتا رہتا ہے جبکہ پابندی میں جتنی سختی ہورہی ہے عوام کی مشکلیں اتنی ہی بڑھتی جارہی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق تا حال ایک لاکھ سے زیادہ شام کے لوگ جان بچانے ،فاقہ سے نجات پانے کے لئے ترکی کے سرحدی علاقوں میں داخل ہوچکے ہیں اور 2 لاکھ 15 ہزارسے زیادہ شامی پناہ گزیں جارڈن میں ہیں مگر عالمی طاقتیں ان سے نظریں موڑے اپنی اپنی سیاست میں لگی ہوئی ہیں۔ اس وقت شام کی یہ حالت ہے کہ وہاں غذا اور دوا کا فقدان ہے۔درآمدات پر پابندی کی وجہ سے صحت سے متعلق ضروری اشیاء تیار کرنے والی 67 فیصد دوا ساز کمپنیوں کی حالت خستہ ہوچکی ہے۔ 29فیصد دو اساز کمپنیاں کلی طور پر تباہ ہوچکی ہیں۔اقوام متحدہ کی کوششیں بھی بظاہر ناکام نظر آرہی ہیں۔کیونکہ اس پر عالمی سیاست کا دبائو ہے۔بان کی مون نے اپنے دورے کے بعد سے اب تک کوئی ایسی امید نہیں جتائی ہے جس سے یہ سمجھا جا سکے کہ مستقبل قریب میں وہاں جنگ بندی کی امید کی جاسکے۔عرب لیگ بھی اس سلسلے میں کوئی حتمی بیان کی پوزیشن میں نہیں ہے۔عربوں کے باہمی اختلاف اور یوروپین ممالک کی مفاد پرستی نے شام کی حالت خراب کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ان سیاسی بازیگروں کی وجہ سییہاں ایسی صورت حال پیداہوگئی ہے جس طرح کی صورت تین دہائی پہلے افغانستان کی تھی۔ تین دہائی پہلے افغانستان میں کچھ روس نواز حکومتیں ظاہر شاہ کی حکومت کو بچانے کے لئے اپنی پوری طاقت جھونک رہی تھیں تو کچھ حکومتیںملا عمراورطالبانی نظام کے لئے سرمائے کابے دریغ استعمال کرر ہی تھیں۔آج یہی حالت شام کی ہے۔ ایک طرف روس، چین اور ایران بشار حکومت کی بقاء کے لئے اپنی تمام ترطاقت کا استعمال کر رہے ہیں تو دوسری طرف امریکہ ، یوروپین طاقتیں اور کچھ عربممالک بشارحکومت کے زوال کے لئے اپنے پورے وسائل کا استعمال کر رہے ہیں۔افغان جنگ میں جو کردار پاکستان ادا کررہا تھا آج وہی کام شام کے حق میں ترکی کررہا ہے۔افغان سے طالبانی نظام کو ختم کرنے کے لئے پرویز مشرفنے امریکہ کو ایئر بیس فراہم کیا تھا اور آج بشار اسد کی حکومت کے خاتمے کے لئے ترکی خود اپنی ہی فوج کو شام سے ملحق سرحدی علاقے میں اتار رہاہے۔افغانستان میں روس کو شکست دے کر امریکہ ویتنام میں اپنی شکست کا بدلہ روس سے لے رہا تھا تو روس شام میں اپنے آخری خلیجی دوست کو بچانے کے لئے امریکہ کے مد مقابل کھڑا ہے۔غرض ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہے اور اس بیچ میں پس رہے ہیں بیچارے عوام۔اس طرح دیکھا جائے تو نہ تو امریکہ کو شام میں جمہوریت لانے میں دلچسپی ہے اور نہ ہی اسے شامی عوام کی ہمدردی سے کوئی واسطہ ہے اور نہ ہی روس خلیج میں شام کا ساتھ دے کر اپنی دیرینہ دوستی کا حق نبھا رہا ہے بلکہ ہر ایک کی منشا ہے شام میں اپنی طاقت کی نمائش کرکے عربوں کے دل پر دبدبہ قائم رکھنا اور ان طاقتوں کے درمیان شام کے عوام گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں۔انہیں لگتا ہے کہ ان کا یہ خون جمہوریت کی شکل میں رنگ لائے گا۔خدا کرے ایسا ہی ہو اور جمہوریت کا حسین تصور ان کی زندگی میں حقیقت بن کر جلدسامنے آئے مگر اس وقت وہاں جس طرح کے حالات بنے ہوئے ہیں ان کو دیکھنے کے بعد امید افزا نتیجے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اگر انہیں جمہوریت کے نام پر کچھ ملا بھی تو اس جمہوریت کی حالت افغانستان میں نیم مردہ جمہوریت سے کچھ زیادہ بہتر نہیں ہوگی۔
شام کی سیاسی حالت روز بروز خراب ہوتی جارہی ہے۔ شام کے لئے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی اخضر ابراہیمی نے بھی وہاں کی صورت حال پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔مستقبل قریب میں وہاں سیاسی حل کا امکان نظر نہیں آرہا ہے کیونکہ حزب مخالف اور حکومت مذاکرات کے بجائے لڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں اور اسی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اختلافات کا شکار ہے۔حزب اختلاف مظاہروں میں بیس ہزار سے زیادہ افراد کے مارے جانے کی قیمت بشار حکومت کے زوال کی شکل میں چاہتے ہیں جبکہ شام کی بشار حکومت اس انقلاب کو تشدد اور دہشت گردوں کی کارستانی قرار دے کر حکومت میں رہنے کا جواز پیش کر رہیہے۔غرض نہ تو عالمی طاقتیں جنگ بندی میں سنجیدہ نظر آرہی ہیں اور نہ ہی اندرون ملک حکومت اور حزب مخالف میں سیاسی حل کا کوئیسیدھا راستہ نظر آرہا ہے ۔ایسے میں وہاں کے عوام کا مستقبل اندھیرے میں بھٹکتا دکھائی دے رہا ہے اور یہ اندھیرا تب ہی دور ہوگا جب شام کی حکومت اپنے نظریے میں نرمی لائے گی اور حزب مخالف بھی باہمی بات چیت سے کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کریگا۔ اگر وہ یہ امید کرتے ہیں کہ امریکہ یا اس کے اتحادی ممالک شام میں امن لانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔

ایک لاکھ سے زیادہ شام کے لوگ جان بچانے ،فاقہ سے نجات پانے کے لئے ترکی کے سرحدی علاقوں میں داخل ہوچکے ہیں اور 2 لاکھ 15ہزار سے زیادہ شامی پناہ گزیں جارڈن میں ہیں مگر عالمی طاقتیں ان سے نظریں موڑے اپنی اپنی سیاست میں لگی ہوئی ہیں۔ اس وقت شام کی یہ حالت ہے کہ وہاں غذا اور دوا کا فقدان ہے۔درآمدات پر پابندی کی وجہ سے صحت سے متعلق ضروری اشیاء تیار کرنے والی 67 فیصد دوا ساز کمپنیوں کی حالت خستہ ہوچکی ہے۔ 29فیصد دو اساز کمپنیاں کلی طور پر تباہ ہوچکی ہیں۔اقوام متحدہ کی کوششیں بھی بظاہر ناکام نظر آرہی ہیں۔کیونکہ اس پر عالمی سیاست کا دبائو ہے۔

اس سلسلے میں عربوں کو بھی علاقائی اختلافات کو نظر انداز کرکے آگے آنا ہوگا ۔اگر عرب امن کی راہ میں کوئی ٹھوس اقدام نہیں کرتے ہیں تو شام میں سیاسی بے چینی کا خمیازہ سب سے زیادہ انہیں ہی بھگتنا پڑے گا۔ اس سلسلے میں مصرکی حکومت نے ایک قدم اٹھایا تھا اور رابطہ جماعت (Contact Group)نام سے ایک تنظیم قائم کی تھی جس کا مقصد دیگر مسائل سمیت شام کے موضوع پر خاص طور پر بات چیت کرنا تھا۔ اس گروپ میں ایران تو شامل ہوا لیکن سعودی عرب اس میں شامل نہیں ہوا۔ جس سے صاف طور پر یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ مسلم ممالک علاقائی اختلافات کو لے کر ایک دوسرے سے دوری بنائے ہوئے ہیں ۔حالانکہ عرب حکمراں اس بات کو اچھی طرح محسوس کر رہے ہیں کہ شام میں سیاسی عدم استحکام ان کے لئے خطرے کا پیش خیمہ ہے۔شام میں سیاسی استحکام سے ہی خطہ ٔ عرب میں استحکام آئے گا اور اس کے لئے ضروری ہے کہ عرب ممالک عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے اشتراک سے کوئی ایسا ٹھوس لائحہ عمل تیار کریں جو شام کی سلگتی زمین پر امن لانے میں کارگر ثابت ہو۔ نہ تو امریکہ کو شام میں جمہوریت لانے میں دلچسپی ہے اور نہ ہی اسے شامی عوام کی ہمدردی سے کوئی واسطہ ہے اور نہ ہی روس خلیج میں شام کا ساتھ دے کر اپنی دیرینہ دوستی کا حق نبھا رہا ہے بلکہ ہر ایک کی منشا ہے شام میں اپنی طاقت کی نمائش کرکے عربوں کے دل پر دبدبہ قائم رکھنا ۔اور ان طاقتوں کے درمیان شام کے عوام گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں۔انہیں لگتا ہے کہ ان کا یہ خون جمہوریت کی شکل میں رنگ لائے گا۔خدا کرے ایسا ہی ہو اور جمہوریت کا حسین تصور ان کی زندگی میں حقیقت بن کر جلدسامنے آئے مگر اس وقت وہاں جس طرح کے حالات بنے ہوئے ہیں ان کو دیکھنے کے بعد امید افزا نتیجے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *