شام: حکومت کے فضائی حملے میں درجنوں جنگجو اور شہری ہلاک

 

شام کے صوبہ ادلب میں حکومت کے فضائی حملوں میں درجنوں جنگجو اور شہری ہلاک ہوگئے۔ میڈیا رپورٹوںکے مطابق حکومتی فورسز کے فضائی حملوں میں 19 شہری ہلاک ہوگئے۔ تازرہ ترین پرتشدد حملوں کے بعد روس کی طرف سے جنگ بندی معاہدہ بھی سبوتاژ ہوگیا۔ انسانی حقوق کے شامی مبصر گروپ کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن نے بتایا کہ گزشتہ روز نصف شب کو حملہ ہوا۔ان کے مطابق حملے میں کم از کم 26 حکومت مخالف جنگجو مارے گئے جن میں سے بیشتر حیات تحریر الشام کے رکن تھے۔ مبصر گروپ نے کہا کہ مذکورہ لڑائی میں 29 سرکاری فوجی اور اتحادی ملیشیا کے اہلکار بھی مارے گئے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘ثنا’ کے مطابق حکومت کے زیر کنٹرول حلب شہر کے ایک رہائشی علاقے پر راکٹ فائر کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ دہشت گرد گروپ کی جانب سے فائر کیے گئے راکٹ سے 6 شہری ہلاک اور 15 دیگر زخمی ہوئے۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے انکشاف کیا تھا کہ دنیا بھر میں جاری جنگی محاذوں پر بچوں پر حملوں اور ہلاکتوں کی تعداد میں 2010 کے مقابلے میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ 10سالوں کے دوران نت نئے جنگی محاذ کھلے ہیں اور ان محاذوں کے دوران سب سے زیادہ نقصان بچوں کا ہوا ہے جہاں ان ہولناک جنگی محاذوں میں ہزاروں بچے ہلاک اور لاکھوں معذور و بے گھر ہو گئے۔ یونیسیف نے دنیا بھر میں جاری تنازعات میں تین ممالک کو سب سے زیادہ خطرناک قرار دیا اور خبردار کیا تھا کہ 2019 میں شام، یمن اور افغانستان میں بچے سب سے زیادہ خطرے کی زد میں ہوں گے۔

خیال رہے کہ ترکی کا کئی برسوں سے یہ موقف ہے کہ شام میں موجود کرد جنگجو ’دہشت گرد‘ ہمارے ملک میں انتہا پسند کارروائیوں میں ملوث ہیں اور انہیں کسی قسم کا خطرہ بننے سے روکنا ہے۔ترک صدر رجب طیب اردغان نے چندماہ قبل فوج کو کرد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کی اجازت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد ترکی کی جنوبی سرحد میں ‘دہشت گردوں کی راہداری’ کو ختم کرنا ہے۔شام میں فوجی کارروائی کے تازہ سلسلے پر متعدد ممالک کی جانب سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ اس سے خطے کے بحران میں اضافہ ہوگا، تاہم ترکی کا کہنا تھا کہ کارروائی کا مقصد خطے کو محفوظ بنانا ہے تاکہ لاکھوں مہاجرین کو شام واپس بھیجا جاسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *