Prof-Shakeel-Samdani
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی کے ایس ایس ایس۔Iآڈیٹوریم میں ’’یومِ امن‘‘ کے موقع پر ایک سمپوزیم کاانعقاد کیا گیا جس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے شعبۂ قانون کے سینئر استاد پروفیسر شکیل صمدانی نے’’ اسلام میں حقوقِ انسانی اور اخلاقیات کا تصور‘‘ موضوع پر خطبہ پیش کیا۔اپنے خطبہ میں پروفیسر شکیل صمدانی نے کہا کہ جب حضرت محمد ؐ نے حقوقِ انسانی سے متعلق اسلامی قانون عوام تک پہنچایا اس وقت ساری دنیا میں کھلے طور پر انسانی حقوق کو پامال کیا جا رہا تھا اور دیگرممالک کو چھوڑ دیں تو اس وقت کی دو عظیم طاقتیں روم اور ایران بھی حقوقِ انسانی کی پامالی میں سب سے آگے تھیں۔ اس دور میں غلاموں، خواتین، یتیم بچوں، کمزوروں اور ضعیفوں کی کوئی حیثیت نہیں تھی اور نہ ہی ان سے متعلق کوئی قانون تھا۔ ایست وقت میں پیغمبرِ اسلامؐ نے اپنے آخری خطبہ ( خطبۂ حجۃ الوداع) میں حقوقِ انسانی کاواضح طور پر ذکر کیا جبکہ13ویں صدی میں یوروپ اور دیگر ممالک میں کچھ کچھ انسانی حقوق دئے جانے کی بات شروع ہوئی۔
پروفیسر شکیل صمدانی نے کہا کہ اللہ کے رسولؐ کی ساری زندگی اچھے اخلاق کی بہترین مثال ہے اور ان ہی کی تعلیمات کے سبب مسلم خلیفہ اور بادشاہوں نے انصاف کرنے کی کوشش کرکے دنیا کے سامنے حقوقِ انسانی کی بہترین مثال پیش کی۔انہوں نے کہا کہ آئینِ ہند میں بھی حقوقِ انسانی کا مناسب طور پر ذکر کیا گیا ہے اور ہندوستانی عدلیہ آئے دن حقوقِ انسانی کے تحفظ سے متعلق فیصلے صادر کرتی رہتی ہے اسی لئے آئینِ ہند اور ہندوستانی عدلیہ کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔پروفیسر صمدانی نے کہا کہ اسلام صرف انسانوں کے حقوق کی ہی بات نہیں کرتا بلکہ جانوروں، پیڑ پودوں اور قدرتی وراثت کے تحفظ کی بھی بات کرتا ہے۔انہوں نے طلبہ و طالبات سے اپیل کی کہ وہ بھی انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے آگے آئیں۔
پروگرام کی صدارت انگلینڈ کے اسلامی اسکالر مولانا فروغل قادری نے کی۔ اس موقع پر محسنِ ملت یونانی میڈیکل کالج، چھتیس گڑھ کے صدر مولانا اکبر علی فاروقی اور ڈاکٹر محب الحق نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔پروگرام کا انعقاد ’’رحمتِ عالم ویلفیئر سوسائٹی‘‘ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی نے کیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here