سیاسی شہ مات کے کھیل میں الجھے یوگ گرو

Share Article

اسلم جمشید پوری
بابا رام دیو…جس نے بابا کو نہیں دیکھا ہو گا،وہ نام سے یہ ضرور سوچتا ہو گا کہ بابا بڑے دیو قامت ہوں گے۔ رام بھگت بھی ہو ں گے۔تو ایک بات تو درست ہو گی ہی کہ بابا رام بھگت ہیں۔دوسری بالکل بر عکس۔ ایک شخص جس نے رام کرشن نامی ایک عام آ دمی سے بابا رام دیو تک کا سفر بہت جلد طے کیا۔’ یوگ گرو‘ کے نام سے مشہور بابا نے یوگ کے میدان میں اپنے تمام حریفوں کو چاروں خانے چت کر دیا۔ یوگ اور بابا رام دیو، دو نوں لازم و ملزوم بن گئے۔ ہر ٹی وی چینل پر بابا براجمان ہیں، ورزشیں کرا رہے ہیں۔ بیماریوں کا علاج یوگ کے ذریعے کررہے ہیں۔ سا ری دنیا حیران و پریشان، سا ئنس متحیر، عقل متجسس اور دماغ عش عش کر نے پر مجبور۔ کئی بیماریوں کا واقعی علاج ممکن ہوا۔وقت کے ساتھ ساتھ بابا کی شہرت آسمانوں سے باتیں کرنے لگی۔ بڑے بڑے یوگ شیور میں ہزاروں سے تعداد لاکھوں تک پہنچنے لگی۔آہستہ آہستہ باضا بطہ آ شرم اور ٹرسٹ کا قیام بھی عمل میں آ نے لگا۔ بعض بیماریوں کی دوا آ شرم میں تیار اور پیکنگ ہو نے لگی۔ دیکھتے دیکھتے بابا رام دیو قومی اور بین الاقوامی سطح پر معروف ہو تے چلے گئے۔ شہرت اور دولت جہاں انسان کے اندر ہوس پیدا کر تی ہے وہیں ’طاقت‘ کی طرف بھی گامزن کر تی ہے۔ انسا ن کے اندر خود نما ئی اور خود ستائش کا جذبہ بیدار ہو تا ہے۔ بابا رام دیو نے بھی شہرت کے آسمان پر پہنچنے کے بعد سیاست کی طرف رخ کیا۔ سیاسی لوگوں سے اثرو رسوخ میں اضا فہ ہوا۔ ملک کی سیاست پر بیانا ت کا سلسلہ شروع ہوا۔ بابا کو لگا کہ وہ اچھے سیاست داں بن سکتے ہیں، بلکہ وہ ہی بہتر طور پر حکومت بنا اور چلا سکتے ہیں۔ اسی کے پیش نظر انہوں نے سیاسی جماعتوں سے ربط وضبط بھی شروع کردیا۔
یوگ کے سنگھا سن پر مختلف آسن کے ساتھ ساتھ سماجی اور سیا سی پہلوئوں پر بابا کھل کر نہ صرف بات کر نے لگے بلکہ لمبی چو ڑی تقریریں بھی۔ یوگ کے جلسوں میں لاکھوں کی بھیڑ سے بابا پر ایک نشہ سا طاری ہو گیا۔ انہیں لگنے لگا کہ ان کے پیچھے عوام ہیں۔ عوام جن کے بوتے، کوئی بھی بڑی تحریک شروع کی جاسکتی ہے، کسی بھی انتخاب میں فتح حا صل کی جاسکتی ہے، کسی بھی سرکار کوجھکا یا اور ہٹایا جا سکتا ہے۔نشہ سر چڑھ کر بو لنے لگا اور حقیقت بھی ہے ،شہرت جب مقبولیت بن جائے تو پھر مقبولیت کی طاقت کا کیا کہنا، اس کے سامنے ہر طاقت بونی ہو جاتی ہے۔بابا نے اپنی پارٹی بنانے اور2014 کے عام انتخابات یا ریاستی انتخابات میں اپنے نمائندے کھڑے کر نے کا اعلان بھی کردیا۔ انہوں نے غیر ملکوں میں کالے دھن کو اپنا سیا سی مدعا بنایا۔ ابھی یہ سب اندر خانے استحکام کی جانب چل ہی رہا تھا کہ ملک میں ایک عجیب سا نحہ رو نما ہو گیا۔ نجانے کہاں سے انّا ہزارے نام کا ایک سیا سی اور سماجی سنت سامنے آ گیا۔ جنتر منتر پر انّا ہزارے نے سیاسی بدعنوا نیوں کے خلاف دھرنا دیا۔ دیکھتے دیکھتے انا ہزارے جو اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ دھر نے پر تھے،ہزاروں اور لاکھوں ہاتھ ان اُٹھے ہاتھوں کے ساتھ آگئے۔ آگ کی تیز لپٹوں کی مانند پو رے ملک میں ہزا رے ہزارے کے نعرے بلند ہو نے لگے۔ لوک پال بل کی مخالفت میں انا ہزارے کی یہ تحریک ایسی پروان چڑھی کہ ہندوستان تو ہندوستان، دنیا کے بڑے بڑے ملک بھی انگشت بدنداں رہ گئے۔ ملک کے کونے کونے اور گلی کوچوں میں انا ہزارے کی تحریک کو حمایت ملی۔ یہ ہندو ستان کی تاریخ میں ایک انقلا بی وا قعہ تھا۔ وہ انا ہزارے جنہیں اب تک ایک مخصوص حلقے اور جما عت کے لوگ جانتے تھے، اب ملک کے ہیرو کے طور پر اُ بھر کر سا منے آ ئے۔ انا ہزارے کی سادگی، ملک کے تئیں وفاداری، بدعنوانیوں کے خلاف بغاوت علم بلند کر نے کی ہمت نے انا ہزارے کو راتوں رات اسٹار بنا دیا۔ مرکزی حکومت نے گھبرا کر انا ہزا رے کی باتوں کو مان لیا، سیاسی حلقوں میں ایک طوفان اُ ٹھا اور ابال مارتا رہا۔ کبھی خا موش اور کبھی مختلف آوازیں۔ انا ہزارے کی ٹیم پر الزا مات کا دور شروع ہوا۔ ایسے میں یوگ گرو، بابا رام دیو کو سانپ سو نگھ گیا۔ یہ کیاہوا؟ یہ تو انہیں حا صل کرنا تھا۔ بظا ہر وہ انا ہزارے کے ساتھ تھے لیکن دل میں ایک کسک، ایک خلش جوان ہو رہی تھی۔ انا ہزارے کو ملی مقبو لیت، کچو کے لگا رہی تھی کہ بابا نے انا ہزارے کے نقشِ قدم پر چلنے کا ارادہ کرلیا۔ بیرون ملک بینکوں میں موجود کالے دھن کو مدعا بنا کر تحریک کا آ غاز کر نے کا منصو بہ بنایا۔4؍ جون سے رام لیلا گرا ئونڈ میں ایک عظیم الشان دھرنے کی شروعات۔ مرکزی حکو مت نے بابا کو منا نے کی کوششیں کیں۔ بابا کی مانگوں پر غور کیا۔
ایک در جن مانگوں پر اٹل بابا را م دیو کومنانے کو متعدد مرکزی وزرائ، وزیر مالیات پرنب مکھرجی کے ساتھ بابا کو کو منانے ائیر پورٹ پہنچے۔ بابا کی بہت سی باتوں کو تسلیم کیا گیا۔ ان کے ازا لے کے لیے منصو بے بنانے کا وعدہ کیا گیا۔بعض بچکانہ مانگوں کو خا رج کیا گیا۔ پھر بھی بابا رام دیو سر کار سے را ضی نہیں ہو ئے۔ بابا کو لگا یہ منا سب وقت ہے اپنی ضدیں منوا نے اور سرکار کو جھکانے کا۔ انہیں لگنے لگا کہ اب تو منزل قریب ہے۔ انا ہزا رے نے مشروط حمایت کی۔ انہیں بابا کے پیچھے کھڑی فرقہ پرست جما عتیں نظر آ رہی تھیں۔
رام لیلا گرا ئونڈ میں کرو ڑوں رو پے کی لاگت سے پنڈال بنایا گیا تھا۔ رام لیلا گرائونڈ کی بکنگ’یوگ شِیور‘ کے طور پر ہو ئی تھی۔بابا رام دیو نے4؍ جون سے جمع ہو نے وا لے ہزا روں پیرو کاروں کو اپنی اشتعال انگیز تقریر سے حکومت کے خلاف ورغلا نا شروع کردیا تھا۔ بابا کو لگ رہا تھا کہ سب کچھ ویسا ہی ہو رہا ہے، جو وہ چا ہتے تھے کہ اچا نک رات میں پولس نے رام لیلا گرا ئونڈ کو گھیر لیا اور بابا کی گرفتاری کی تیاریاں ہونے لگیں۔ مزاحمت ہو ئی۔ پولس نے مزید سختی کا استعمال کیا۔ بابا تک پہنچنے کے لیے عورتوں کے گروہ پر مشتمل چکر ویو بنائے گئے تھے۔ لیکن انتظا میہ ہر چکر ویو توڑنے پر بضد تھا۔ بابا رام دیو یہ سب دیکھ کر نہ صرف دنگ تھے بلکہ خوف ان کے اندر سرایت کر گیا تھا۔ وہ اسٹیج کی طرف بڑھتی پولس اور آ نسو گیس کے داغے گولوں سے اس قدر دہشت زدہ ہو ئے کہ اسٹیج سے کود گئے، عورتوں کے گھیرے میں ہی انہوں نے لبا س تبدیل کیا اور عورتوں کے لباس میں راہ فرار اختیار کر نے کی کوشش کی۔ مگر وا ئے ناکامی…بابا گرفت میں آ ہی گئے اور پھر پولس نے انہیں پتن جلی آ شرم میں پہنچا کر ہی دم لیا۔ پو لس نے تو دم لے لیا لیکن بابا رام دیو کی سانسیں سات آ ٹھ گھنٹوں تک بے قابو رہیں۔
اس پو رے وا قعے نے بابا اور مرکزی سرکار پر کئی سوال کھڑے کردیے ہیں۔ سرکار نے اس قدر دہشت گردانہ طور پر بابا کو کیوں اُٹھایا۔ کیوں کیمپ کے اندر موجود لوگوں کو نہ صرف ہرا ساں کیا گیا بلکہ انہیں مارا پیٹا بھی گیا۔ اس سے تو پتہ چلتا ہے کہ سر کار کو باباسے خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔ دوسری طرف بابا رام دیو پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ۔بابا صحیح راستے پر تھے تو پھر خوف یا ڈر کس بات کا؟ بابا اسٹیج سے کیوں کو دے؟چکر ویو کا ہر چکر عورتوں سے ہی کیوں بنایا گیا تھا؟بابا ہر وقت عورتوں سے ہی کیوں گھرے تھے؟پھر عورتوں کا لباس زیب تن کر نے کی کیا ضرورت تھی؟جس سادھوی نے اپنا لباس دیا وہ کون تھی،کسی کی موجود گی میں بابا نے لباس زیب تن کیوں کیا؟ حکومت کے کرپشن اور کالے دھن کے خلاف کمربستہ بابا اتنے کمزور نکلیں گے کسی نے سو چا نہیں تھا۔ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ بابا ڈٹے رہتے اور پو لس کو اپنا ظلم ڈھانے دیتے۔ اپنی قربانی پیش کردیتے تو،شاید منظر نامہ ہی بدلا ہوتا۔ پو را ملک بابا کے ساتھ کھڑا ہو تا۔ لوگ کھڑے تو اب بھی ہو ئے۔لیکن کتنے اور کون؟ اب تک عوام کا دل جیتنے وا لے بابا، ایک کارروا ئی ہی میں کھل گئے۔ کل تک کسی کی حمایت نہ ہو نے اور سیا سی جما عت سے تعلق نہ ہونے کا دعویٰ کر نے وا لے بابا کے ساتھ اچانک آر ایس ایس اور بی جے پی کیسے آگئی؟اب یہ سیا سی اکھا ڑا ہو گیا ہے۔ بی جے پی، آر ایس ایس اور ان کی حلیف جما عتوں نے اس معا ملے کو الیکشن کا مدعا بنانے کا موڈ بنا لیا۔
بابا رام دیو، یوگ گرو، انا ہزا رے بننے چلے تھے، حشر سا منے ہے۔ انا ہزا رے کی شخصیت صاف و شفاف تھی، ان کی سادگی اور حق گوئی انہیں ہر دل عزیز بنا گئی۔ بابا کی عیش پرستی( ایر کنڈیشنڈ گاڑیاں، کیمپ اور عورتوں کے گھیرے) بھی سب پر عیاں ہے۔ ایسے میں عوام کو سب پتہ ہے کون کیسا ہے؟اب یہ آ نے وا لا وقت بتائے گا کہ مرکزی سرکار بابا رام دیو کی ہزا روں کروڑوں کی ملکیت کے خلاف کس طرح انکوائری کرا تی ہے یا بابا رام دیو کس طرح مرکزی سر کار کو اپنے قدموں میں جھکاتے ہیں۔واللہ اعلم ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *