سوئم سیوک سنگھ کی دکھ بھری کہانی کوئی تو سنے یہ داستان

Share Article

ششی شیکھر
p-5b9 سال کی عمر سے ایک شخص سنگھ کی شاکھا میںجاتا رہا۔ عمر کی ساتویںدہائی میںبھی وہ آدمی خود کو سنگھ کا سپاہی بتاتا ہے۔ کسی تنظیم کے تئیںاس لگن کو تو بس سراہا ہی جاسکتا ہے۔ ایمرجنسی کی مخالفت کرتے ہوئے یہی شخص جیل جاتا ہے اور جیل سے چھوٹنے کے بعد سے ہی اس کی زندگی بدل دی جاتی ہے۔ جیتے جی اس آدمی کے لیے یہ زندگی ایک ایسی تاریکی میں تبدیل ہوجاتی ہے، جس کی آج تک کوئی صبح ہوتی دکھائی نہیںدے رہی ہے۔ گزشتہ 37 سالوںکی اس المناک زندگی میں اس شخص نے اپنے بیٹے کو کھویا،اپنی بیٹی کو کھویا، اپنی ماںکو کھویا،اپنی نوکری کھوئی،اپنی بیوی کو بیمار ہوتا دیکھا۔ لیکن پھر بھی کوئی چیز اس آدمی نے نہیںکھوئی ہے تو وہ ہے حوصلہ، وہ ہے امید، وہ ہے انصاف پانے کے راستے پر چلنے کی طاقت۔ کیا آپ یقین کرسکتے ہیں کہ ایک عام سا آدمی انصاف پانے کے لیے پچھلے 38سالوں سے اس سسٹم سے لگاتار لڑسکتا ہے،وہ بھی اتنا سب کچھ کھونے کے بعد۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے ایک سپاہی کی حالت اتنی قابل رحم ہوسکتی ہے ، وہ بھی تب جبکہ مرکز سمیت ریاست میںبھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار ہے۔
یہ کہانی ہے نرمل جین کی، ان کی جدو جہد کی۔ مدھیہ پردیش کے دموہ ضلع کے رہنے والے ہیںنرمل جین۔ آپ کبھی ان سے ملیں، ان سے کچھ دیر بات کریں، تو آپ کوہندوستانی سیاست، سماجی، اقتصادی نظام کو سمجھنے کے لیے نہ تو کوئی کتاب پڑھنے کی ضرورت ہوگی، نہ ہی بڑی بڑی یونیورسٹیوں اور اداروں کے ذریعہ شائع ریسرچ پیپر پڑھنے کی ضرورت محسوس ہوگی۔ کیونکہ نرمل جین کی ہر بات ، ان کی زندگی سے جڑا ہر ایک واقعہ اپنے آپ میںہندوستانی نظام کے کھوکھلے پن کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ کہانی شروع ہوتی ہے سال 1974 سے۔ دموہ ضلع کے ہی کوآپریٹو بینک میں نرمل جین کو نوکری مل جاتی ہے۔ چونکہ وہ سنگھ کے ایک وقت سوئم سیوک تھے، اس لیے انھوں نے ایمرجنسی کی مخالفت کی اور نتیجتاً انھیں جیل جانا پڑا۔ جیل سے وہ 1977 میں باہر آئے اور پھر سے اپنی نوکری اسی بینک میں شروع کی۔’چوتھی دنیا‘ سے بات کرتے ہوئے نرمل جین بتاتے ہیںکہ چونکہ انھوںنے ایمرجنسی کی مخالفت کی تھی اور بینک کے چیئرمین کانگریسی پس منظر کے تھے، اس لیے 1978 میںبینک کے چیئرمین نے ان کے خلاف سازشیںشروع کردیں۔ نرمل جین کے خلاف چیئر مین نے قریب پانچ ہزار کے غبن کا الزام لگایا اور ان کے خلاف کیس کرادیا۔ نرمل جین کو نوکری سے نکال دیا گیا۔ یہ مقدمہ 15 سال تک چلا اور 1993 میں اس کا فیصلہ آیا۔اس کیس میںنرمل جین بے داغ ثابت ہوئے، لیکن انھیںنوکری پر واپس نہیںرکھا گیا۔ الٹے،بینک منیجر کے خلاف مقدمہ درج کرانے کا حکم دے دیا گیا۔
سوال یہ ہے کہ جب عدالت نے نرمل جین کو ملزم نہیںمانااور بے داغ ثابت کیا، تب بھی انھیںنوکری پر واپس کیوں نہیں رکھا گیا؟ انھیں نہ صرف نوکری پر واپس لیا جانا چاہیے تھا، بلکہ انھیںپچھلے پنددرہ سالوں کی تنخواہ وغیرہ کا بھگتان بھی ملنا چاہیے تھا۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیںہوا۔ غور طلب ہے کہ 1993 سے 2003 تک، یعنی دس سال تک مدھیہ پردیش میںکانگریس کی سرکار رہی۔ دگوجے سنگھ وزیر اعلیٰ تھے۔
سب جگہ سے تھک ہار کرنرمل جین نے قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) دہلی کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ تب این ایچ آرسی کے چیئرمین جسٹس وینکٹ چیلیّا تھے۔ جسٹس وینکٹ چیلیا نے ان کی ساری باتیںسنیں اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ دگوجے سنگھ کو خط لکھ کر نرمل جین کی مدد کرنے کو کہا۔ لیکن کوئی مدد نہیںملی۔ اس کے بعد نرمل جین پھر سے این ایچ آر سی پہنچے۔ تب، این ایچ آر سی کے چیئرمین جسٹس جے ایس ورما تھے۔ انھوںنے بھی دگوجے سنگھ کو خط لکھ کر مدد دینے کو کہا۔ اس کے بعد مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ دگوجے سنگھ کے دفتر کی طرف سے نرمل جین کو سی ایم سے ملنے کے لیے بلایا گیا۔ دگوجے سنگھ نے نرمل جین سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ تو انھوںنے اپنی ساری باتیںبتائیں اور اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے نوکری کی مانگ کی۔ سی ایم نے درخواست دینے کو کہا۔ درخواست بھی دے دی گئی، لیکن نہ مدد ملی اور نہ ہی نوکری۔
سال 2002 میں مدھیہ پردیش کے ریاستی انسانی حقوق کمیشن اور اس وقت کے گورنر بھائی مہاویر کی مداخلت سے نرمل جین کو بینک میں دوبارہ نوکری ملی۔ لیکن یہ خوشی بھی زیادہ دنوں کے لیے نہیںتھی۔ انھیںمحض تین ہزار کی تنخواہ پر صرف ڈیڑھ سال کی نوکری کے بعد ریٹائر کردیا گیا اور پچھلے 25 سالوں کی تنخواہ اور الاؤنس ملا کر محض ایک لاکھ46 ہزار روپے ملے۔ دوسری طرف ان کے ہم منصب افسر کو ان سے چار گنا زیادہ تنخواہ مل رہی تھی۔ 2004 میںانھیںوہاں سے ریٹائر کردیا گیا۔ اس پوری جدوجہد کے سفر میںنرمل جین کے اکلوتے بیٹے اور بیٹی نے خودکشی کرلی۔ ان کی ماںٹی بی کی بیماری میںانتقال کرگئیں۔ نرمل جین کی بیوی بھی ذہنی اور جسمانی طور پر ہمیشہ بیمار رہتی ہیں۔ اس کے باوجود نرمل جین نے اپنی ہمت نہیں ماری۔ ایک بار پھر وہ این ایچ آر سی پہنچے۔ ان دنوں 2012 میںجسٹس بال کرشنن چیئرمین تھے۔ نرمل جین نے ان کے سامنے اپنی باتیںپھر سے رکھیں۔ لیکن اسے بدقسمتی کہیے یا ہندوستانی نظا م عدل کا المیہ کہ اپنی شکایت تحریری طور پر درج کرانے کے بعد بھی 30-7-2013کو نرمل جین کو این ایچ آر سی سے ایک خط ملتا ہے،جس میںلکھا گیا تھا کہ آپ کی شکایت این ایچ آر سی کوملی ہی نہیںہے۔ یعنی دوسرے الفاظ میںکہیں تو ان کی اپیل کو خارج کردیا گیا۔
’چوتھی دنیا‘ سے بات کرتے ہوئے نرمل جین بتاتے ہیںکہ ایک بار انھیںموجودہ وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان سے ملنے کا وقت ملا،لیکن آخری وقت میںان سے ملاقات نہیںہوسکی۔ سوال یہ ہے کہ آر ایس ایس کا اتنا پرانا سوئم سیوک جو آج بھی فخر سے خود کوسوئم سیوک بتاتا ہے، اس کے درد کو سننے ، سمجھنے اور مدد کرنے کے لیے کیا سنگھ میںکوئی نہیں ہے۔ آج سنگھ سے ہی نکلے ہوئے کارکن ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ سنگھ کے ہی پرانے کارکن مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ سنگھ آج ملک کا سب سے طاقتور ادارہ ہے۔ مرکز سمیت کئی ریاستی سرکاروں میںبراہ راست یا بالواسطہ طور پر اس کی مداخلت ہے۔ پھر بھی اگر راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ اپنے ایک کارکن کی بری حالت سے واقف نہیںہے، اس کے درد کو نہیںسمجھ رہا ہے،اس کی کوئی مدد نہیںکرپارہا ہے، تو اسے کیاکہیںگے۔ نرمل جین کی اس کہانی کو جاننے کے بعد آخر کوئی کیوں سنگھ کا وقف کارکن بننے کے بارے میں سوچے گا؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *