ہما ناصر
سویڈن میں یوں تو ہر پانچواں فرد غیر ملکی ہے یا پھر وہ کسی غیر ملکی کی ، دوسری، تیسری یا چوتھی پیڑی سے تعلق رکھتا ہے۔ نقل مکانی کر کے، سویڈن آنے والے ان غیر ملکیوں میں مسلمانوں کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے توسویڈن اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات کا آغاز سلطنت عثمانیہ کے دور میں ، سترھویں اور خاص کر اٹھارھویں صدی میں عروج پر تھا۔ سویڈن میں پہلی بار سنہ انیس سو تیس میں کرائی گئی مردم شماری کے نتیجے میں، جیسا کہ ریکارڈ پر موجود ہے، ملک بھر میں صرف پندرہ افراد کا مسلمان ہونا ظاہر کیا گیا ہے۔
پہلی بار سویڈن آنے والے ان مسلمان خاندانوں کا تعلق فن لینڈ کے تاتاری النسل ان مسلمانوں سے تھا جو وہاں پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران آ بسے تھے ۔ یہ تاتاری مسلمان فن لینڈ اور سابق سویت ریاست استونیا سے، سنہ انیس سو چالیس میں ہجرت کر کے سویڈن آئے تھے۔ یہ تاتار مسلمان اپنی دینی و ثقافتی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے آہستہ آہستہ سویڈش طرز معاشرت کو قبول کرتے گئے اور بتدیج سویڈش سماج میں مدغم تو ہو گئے لیکن یہ تاتاری مسلمان اپنے ’’دینی تشخص ‘‘ کو آج بھی کسی نا کسی لحاظ سے بہت حد تک برقرار رکھے ہوئے ہیں البتہ یہ تاتار سویڈن میں دوسری قومیتوں کے مسلمانوں کے ساتھ سماجی تعلقات تو رکھتے ہیں لیکن ان کی بود و باش اور دوسری مسلمان برادریوں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت الگ ہے۔

اسکینڈے نیویا میں ڈنمارک کے پڑوسی ملک، سویڈن کو رواداری ، انسان دوستی، عالمی بھارئی چارے اور عالمی امن و ادب میں نمایاں خدمات سر انجام دینے والوں کو بلا تفریق قومیت و دین و مذہب، ہر سال نوبل انعام سے نوازنے والے ملک کا درجہ دیا جاتا ہے اور یوں عالمی برادری میں سویڈن کا تشخص اپنے پڑوسی ملک، ڈنمارک اور ناروے ہی نہیں بلکہ شمال مغربی یورپ کے دیگر ممالک سے بھی کہیں زیادہ مثبت ہے۔ سویڈن میں فی الوقت دنیا کے کئی ممالک کے تارکین وطن رہائش رکھتے ہیں۔ یہ تارکین وطن زیادہ تر سنہ ساٹھ کے عشرہ میں یہاں روزگار کے سلسلے میں آئے لیکن وقت کے ساتھ ہی ساتھ عالمی سطح پر جنگوں، سیاسی تنازعات، مذہبی منافقت اور لسانی فسادات کی وجہ سے اپنا ملک و گھر بار چھوڑ کر ہجرت کر کے سویڈن کا رخ اختیار کرنے اور یہاں پناہ لینے والوں کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ بیرونی ممالک سے آئے ہوئے یہ غیر ملکی اپنے ساتھ اپنی دینی و ثقافتی روایات بھی لائے ہیں اور جہاں تک حالات اجازت دیتے ہیں وہ اپنی ان اقدار و روایات اور دین کو زندہ رکھنے اور اپنی آنے والی نسلوں کو منتقل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔زیر نظر مضمون میں ہم سویڈن میں مسلمانوں اور دین اسلام پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالیں گے۔

سویڈن میں ’’ اسلام ‘‘ بطور ’’دین‘‘ سنہ انیس سو ستر کے عشرے میں ابھر کر تب سامنے آیا جب مشرق وسطیٰ اور کئی افریقی ممالک کے مسلمان تارکین وطن، گروپوں کی صورت میں ، روزگار یا سیاسی وجوہات کی بنا پر پناہ کے لیے یہاں آنے شروع ہوئے اور یہی وجہ ہے کہ سویڈن میں فی الوقت موجود مسلمان یا تو خود تارکین وطن ہیں یا پھر وہ تارکین وطن مسلمانوں کی اولادیں ہیں۔ ان میں اکثریت مشرق وسطیٰ اور خاص کر عراق اور ایران سے تعلق رکھتی ہے۔ سابق یوگوسلایہ سے تعلق رکھنے والے، دوسرے سب سے بڑے تارکین وطن گروپ میں شامل جمہوریہ بوسینا ھرزی گووینیا کے مسلمان ہیں۔ ان کے علاوہ صومالیہ سے بوجہ ہجرت کر کے سویڈن آنے والے مسلمانوں کی بھی اچھی خاصی تعداد آباد ہے جب کہ ترکی اور پاکستان کے مسلمان تارکین وطن بھی سویڈن میں آباد ہیں لیکن ان دونوں کی تعداد بہت محدود ہے۔ ترک النسل پاکستانیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔
مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے یہ مسلمان، اگرچہ سویڈن کے طول و عرض میں آباد ہیں لیکن ان کی اکثریت ملک کے بڑے بڑے شہروں میں رہتی ہے۔ سویڈن میں جہاں جہاں ان مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے وہاں انھوں نے اپنی مساجد بھی تعمیر کر رکھی ہیں اور بعض جگہوں پر پرانی عمارات کو مسجد و مدرسہ کے طور پر عبادت اور بچوں کی دینی تعلیم اور ثقافتی سرگرمیاں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ سویڈن کے ساحلی شہر مالمو میں جہاں پاکستانیوں سمیت مختلف اقوام کے مسلمانوں کی کثیر تعداد ہے، وہاں سنہ انیس سو چوراسی میں مسجد تعمیر کی گئی اور اْپسالا شہر میں مسجد کی تعمیر سنہ انیس سو پچانوے میں مکمل ہوئی۔ اس شہر میں سویڈن کی قدیم ترین یونیورسٹی بھی ہے۔ سویڈن کے صنعتی شہر گوتھن بورگ میں احمدی مسلک کے پاکستانیوں نے عبادت کے لیے ایک خوبصورت مسجد سنہ انیس سو تریسٹھ میں تعمیر کی۔ پاکستان کے آئین کی رو سے احمدیوں کو ’’ خارج از اسلام ‘‘ قرار دیا جا چکا ہے جب کہ بذات خود احمدی اپنے آپ کو حقیقی مسلمان قرار دیتے ہیں۔ سویڈن میں زیادہ تر مساجد سنہ دو ہزار میں تعمیر کی گئیں جن میں دارالحکومت سٹاک ھولم کی عظیم الشان مسجد بھی شامل ہے۔
دیگر مساجد میں امیہ مسجد سنہ دو ہزار چھ میں اور فتجا مسجد سنہ دو ہزار سات میں تعمیر ہوئیں جو کہ اسلامی فن تعمیر کا بہترین نمونہ ہیں۔ ان مساجد اور ان کے علاوہ کئی بڑی بڑی دوسری مساجد کی تعمیر کے لیے، سعودی عرب اور لیبیا کی حکومتوں نے بھاری رقوم مہیا کیں۔ سنہ دو ہزار تک سویڈن میں مسلمانوں کی کل تعداد تین لاکھ سے ساڑھے تین لاکھ تک تھی۔ بدیگر الفاظ سویڈن کی کل آبادی میں مسلمانوں کی شرح تین عشاریہ پانچ فیصد کے قریب ہے۔ ان میں ایک لاکھ کے قریب وہ مسلمان ہیں جو مسلمان والدین کے یہاں سویڈن ہی میں پیدا ہوئے یا پھر مسلمان تارکین وطن والدین کے ساتھ سویڈن آئے تھے۔اب
مسلمانوں کی متذکرہ بالا تعداد، بڑھ کر چار لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ جو کہ کْل سویڈش آبادی کا پانچ فیصد بنتی ہے۔ بذات خود ’’ سویڈش مسلم کونسل ‘‘ نامی مسلمانوں کی مشترکہ تنظیم کے مطابق، اس کے ہاں رجسٹر مسلمان ارکان کی تعداد، ایک لاکھ چھ ہزار تین سو ستائیس ہے۔
سویڈن میں ’’ دین اسلام ‘‘ قبول کرنے والے مقامی اصل سویڈش النسل افراد کے بارے میں اگرچہ کوئی سرکاری اعدادو شمار دستیاب نہیں ہیں لیکن، مالمو یونیورسٹی کالج سے منسلک، تاریخ ادیان کی محقق و پروفیسر، اینے سوفی روآلڈ کے اندازے کے مطابق، سنہ انیس سو ساٹھ سے سویڈش چرچ کو چھوڑ کر دین اسلام میں داخل ہونے والے سویڈش النسل افراد کی تعداد کم سے کم ساڑھے پانچ ہزار تک تو ضرور ہیاور اب اس تعداد میں تارکین وطن کے آ جانے سے بتدریج مزید اضافہ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ کئی سویڈش خواتین ان مسلمانوں سے شادی کر کے اپنا دین چھوڑ دیتیں اور اسلام قبول کر لیتی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض مسلمان اپنا دین چھوڑ کر عیسائیت بھی قبول کر رہے ہیں اور ان میں ایرانیوں کے ساتھ ساتھ بعض پاکستانی بھی شامل ہیں۔ راقم الحروف( ہما نصر) ان ایرانیوں اور پاکستانیوں کی جانب سے عیسائیت کو قبول کرنے کے متعلق، تاریخ ادیان کی محقق و پروفیسر اینے سوفی روآلڈ کے انکشاف سے متفق نہیں اور میں اس سلسلے میں اپنے تحفظات محفوظ رکھتے ہوئے یہ کہنے کی جرأت کرتی ہوں کہ ڈنمارک کی طرح، سویڈن میں عیسائیت کو قبول کرنے والے دراصل وہ ایرانی ہوتے ہیں جو ’’ بہائی فرقے ‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں اور کسی بھی اعتبار سے وہ مسلمان ہوتے ہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے کسی دوسرے مسلک و فرقے سے اْن کا کوئی تعلق ہوتا ہے اور بدقسمتی یہ ہے کہ مقامی سویڈن محققین انہیں مسلمان سمجھ لیتے ہیں ۔ ویسے بھی اپنی اصل ’’ دینی شناخت ‘‘ ظاہر ہی نہیں کرتے اور اْن کے مسلمانوں جیسے ملتے جلتے ناموں کی وجہ سے مقامی لوگ انہیں مسلمان ہی سمجھ لیتے ہیں۔جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے، سویڈن میں کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی مذہبی لحاظ سے نہ درجہ بندی کی جاتی ہے اور انہیں ہی ان کی کوئی الگ مخصوص رجسٹریشن کی جا تی ہے۔ لہٰذا یہ کہنا تو بہت ہی مشکل بلکہ ناممکن ہے کہ سویڈن کے مسمانوں میں سے کتنے کس کس مسلک یا فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن اْپسالا یونیورسٹی کی ایک غیر سرکاری تحقیق کے مطابق، ان مسلمانوں میں اڑھائی لاکھ سنی العقیدہ ہیں۔ ساڑھے پانچ ہزار کے قریب شیعہ، اور ایک ہزار سے کچھ زائد احمدی ہیں( ان احمدیوں میں اکثریت پاکستانی و ہندوستانی النسل افراد کی ہے جب کہ کچھ سویڈش النسل بھی ہیں۔
ترکی اور شام سے تعلق رکھنے والے ’’ علویوں ‘‘ کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد ہے۔ کئی ایک علاقائی اور مقامی سطحوں پر بھی مسلمانوں کی کافی فعال تنظیمیں کام کرتی ہیں اور اگرچہ ان کا دائرہ کار مقامی سطح تک ہی محدود رہتا ہے لیکن قومی سطح پر ان میں سے کئی ایک مرکزی تنظیموں سے گہرا رابطہ رکھتی ہیں۔ ان مرکزی اور علاقائی اسلامی تنظیموں کی جانب سے کئی ایک ماہوار جریدے بھی شائع کیے جاتے ہیں جو سویڈش زبان ہوتے ہیں اور کئی ایک عربی یا کسی دوسری زبان میں بھی مواد شامل کرتے ہیں۔ ان میں سے کئی ایک کی اپنی اسلامی ویب سائٹ بھی ہیں۔دارالحکومت سٹاک ھولم سمیت، ساحلی شہر مالمو میں جہاں مسلمانوں کی آبادی کافی تیزی سے بڑھی ہے، وہاں پاکستانی النسل مسلمانوں کی چند ایک تنظیمیں کافی متحرک ہیں اور انہوں نے چند ایک ’’ اسلامی تعلیمی مدرسے ‘‘ بھی قائم کر رکھے ہیں۔ بد قسمتی سے مالمو شہر میں پچھلے ایک دو سال سے بڑھتی ہوئی نسل پرستی اور ہر دو اطراف یعنی تارکین وطن پس منظر رکھنے والوں اور سویڈش النسل قومیت پرستوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اب ’’ کھلی عداوت ‘‘ کی جو شکل اختیار کر رکھی ہے وہ انسانی ہمدردی کے علبردار اور ’’ ہم زیستی ‘‘ اور ’’ بقائے باہمی ‘‘ کے درخشاں اصولوں پر کاربند رہنے والے اور ’’ ہم وجودیت ‘‘ پر یقین رکھنے والے سویڈن کے لیے کوئی نیک شگون نہیں۔ ہر چند کہ اس نسلی منافرت کے لیے سویڈن کو بحیثت ملک و قوم مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں لیکن اْس سے یہ مطالبہ کیا جانا کسی بھی لحاظ سے ناجائز نہیں کہ وہ اپنے ہاں اپنے اِن ’’ نئے شہریوں ‘‘ کو تحفظ مہیا کرے ان کی سلامتی کے لیے اقدامات لے اور انہیں محض اس لیے قومی دھارے سے دور نہ رکھے کہ یہ ’’ نئے سویڈش شہری ’’مسلمان ‘‘ ہیں‘‘۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here