متھرا میں مشتبہ دہشت گرد گرفتار

Share Article
india-gate
یوم جمہوریہ کے موقع پر دہلی کو دہلانے کی سازش کا پردہ فاش ہوا ہے۔ متھر ا میں دہلی – بھوپال شتابدی ایکسپریس سے سیکورٹی ایجنسیوں کی بیداری سے جی آر پی نے ایک مشتبہ دہشت گرد کو دبوچا ہے۔ اس مشتبہ دہشت گرد نے دہلی میں اپنے دو ساتھیوں کے چھپے ہونے کی جانکاری بھی دی ہے۔
اس کے بعد اے ٹی ایس اور آئی بی نے راجدھانی دہلی کے جامع مسجد علاقے میں کئی جگہ چھاپہ ماری کی کارروائی کی ہے۔ بتایاجارہا ہے کہ دونوں مشتبہ لوگ ایک دن قبل ہی یہاں سے فرار ہوچکے ہیں، جس کے بعد ان کی تلاش جاری ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق دہشت گرد جوم جمہوریہ کے موقع پر اکشر دھام مندر کو دہلانے کی سازش میں تھے۔ خبروں کے مطابق پکڑے جانے کے دوران مشتبہ دہشت گرد نے بھاگنے کی کوشش کی اور پوچھ تاچھ کے دوران کسی نوکیلی چیز سے سینے پر وار کرکے لہولہان کرلیا۔
دراصل جی آر پی کو خفیہ ایجنسیوں سے ایک مشتبہ کشمیری دہشت گرد کے شتابدی میں سفر کرنے کا اِن پُٹ ملا تھا۔ اتوار صبح 8.30 بجے ٹرین کے یہاں پہنچتے ہی کوچ 3- سے اننت ناگ (کشمیر) کے گاؤں بلگاؤں کے رہنے والے بلال احمد وانی کو دبوچ لیا گیا ۔ اس کے پاس سے اپنا اور ایک خاتون کا آدھار کارڈ اور ایک سم ملا ہے۔ جی آر پی تھانے میں آرمی انٹیلی جنس ،انٹیلی جنس بیورو، لوکل انٹیلی جنس، ایس پی سیکورٹی سدھارتھ ورما اور اے ٹی ایس نے اس سے آٹھ گھنٹے پوچھ تاچھ کی۔
اس دوران وہ بار بار اپنے بیان بدلتا رہا اور یوم جمہوریہ سے پہلے کسی واقعہ کو انجام دیے جانے کی پلاننگ کی بھی جانکاری دی۔وہ اپنے ساتھیوں کو اس کا ماسٹر مائنڈ بھی بتا رہاتھا۔ اس نے بتایا کہ وہ دہلی میں ڈرائیونگ کرتا تھا لیکن بھاگ نکلا۔ غلط ٹرین میں بیٹھنے کی وجہ سے وہ متھرا آگیا تھا۔ بعد میں اسے اے ٹی ایس نامعلوم مقام پر پوچھ تاچھ کے لیے لے گئی۔
پوچھ تاچھ کے دوران اس نے کسی نوکیلی چیز سے اپنی چھاتی پر تابڑتوڑ وار کرکے خود کو گھائل کرلیا۔ اس پر پولیس نے اس کے دونوں ہاتھ پیچھے باندھ دیے۔ خفیہ ایجنسیوں کو پتہ چلا کہ وہ یکم جنوری کو دہلی آیا تھا اور اس نے 4 جنوری کو کناٹ پلیس سے اے ٹی ایم سے چالیس ہزار روپے بھی نکالے تھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *