بابری مسجد اراضی تنازع میں سپریم کورٹ آج اپنا تاریخی فیصلہ سنادیا

Share Article

برسوں قدیم رام جنم بھومی – بابری مسجد اراضی تنازع میں سپریم کورٹ آج اپنا تاریخی فیصلہ سنادیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے متنازع زمین کو رام للا وراجمان کو دیا ہے جبکہ سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں پانچ ایکڑ زمین دینے کی ہدایت دی ہے ۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی ، جج ایس اے بوبڈے ، جج ڈی وائی چندر چوڑ ، جج اشوک بھوشن اور جج ایس عبدالنظیر کی آئینی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ ساتھ ہی ساتھ سپریم کورٹ نے شیعہ وقف بورڈ اور نرموہی اکھاڑہ کی عرضی کو خارج کردیا ۔

وزیر اعظم مودی اور مختلف مذہبی رہنماوں نے لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے ۔ وہیں فیصلہ کے پیش نظر ملک بھر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ۔ دہلی میں فیصلہ سنانے والی آئینی بینچ کے پانچوں ججوں کی رہائش گاہ پر جمعہ سے ہی سیکورٹی میں اضافہ کردیا ۔ سیکورٹی اہلکاروں کے مطابق فرضی یا اشتعال انگیز مواد سے ماحول خراب کرنے کی کوششوں کو روکنے کیلئے سوشل میڈیا پر کی جانے والی پوسٹ پر بھی قریبی نظر رکھی جائے گی ۔

ایودھیا تنازع پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجیوالا نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ آچکا ہے ۔ ہم سبھی رام مندر تعمیر کے حق میں ہیں ، اس فیصلہ سے نہ صرف مندر کی تعمیر کا راستہ صاف ہوگا ، بلکہ اس معاملہ پر ہورہی سیاست بھی اب ختم ہوگی ۔

ایودھیا پر تاریخی فیصلہ آنے کے بعد آل انڈیا مسلم پرنسل لا بورڈ نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی طرح کا جلوس نہ نکالا جائے یا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ مسلم پرنسل لا بورڈ نے کہا کہ اس فیصلہ کے خلاف ابھی نظر ثانی کی عرضی دائر کرنے کے بعد کچھ بھی طے نہیں کیا گیاہے۔

ایودھیا پر فیصلہ آنے کے بعد مسلم پروکار اقبال انصاری نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ سپریم کورٹ نے آخر کار اس معاملہ پر اپنا فیصلہ سنادیا۔ میں عدالت کے اس فیصلہ کا احترام کرتاہوں۔

امت شاہ نے ٹویٹ کرکے کہا کہ اتفاق رائے سے آئے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا میں خیرمقدم کرتا ہوں ۔

ظفریاب جیلانی نے کہا: ہم سپریم کورٹ کے فیصلہ کا احترام کرتے ہیں، مگر ہم مطمئن نہیں ہیں۔ ہم بعد میں اس سلسلہ میں آگے کی کارروائی کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔

سپریم کورٹ نے منتازع زمین کو رام للا وراجمان کو دیا ہے جب کہ سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں پانچ ایکڑ زمین دینے کی ہدایت دی ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ مسلم فریق کو متبادل پانچ ایکڑ زمین فراہم کرائی جائے۔ سپریم کورٹ نے نرموہی اکھاڑہ کو بھی بڑا جھٹکا دیا۔ ایودھیا پر پانچوں ججوں نے اتفاق رائے سے فیصلہ دیا ہے۔ فیصلہ سناتے ہوئے سی جے آئی نے کہا کہ مندر اور مسجد میں 400سالوں کا فرق ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *