سپریم کورٹ نے اجودھیا معاملے کی ثالثی کر رہی کمیٹی سے اسٹیٹس رپورٹ طلب کیا

Share Article

 

سپریم کورٹ نے اجودھیا معاملے کی ثالثی کر رہی کمیٹی سے اسٹیٹس رپورٹ طلب کیا ہے۔ کورٹ نے 18 جولائی تک رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کورٹ نے کہا کہ اگر ثالثی کمیٹی کے صدر ثالثی بند کرنے کو صحیح مانیں گے تو 25 جولائی سے اجودھیا معاملے پر سماعت شروع ہوگی۔

 

آج جب پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے سماعت شروع کی تو ہندو فریق گوپال سنگھ وشارد کی جانب سے سینئر وکیل کے پراسرن نے کورٹ سے جلد سماعت کی تاریخ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سمجھوتہ ہو بھی جاتا ہے، تو اسے کورٹ کی منظوری ضروری ہے۔اس دلیل کیمسلم فریقین کی جانب سے راجیو دھون نے مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ثالثی کی کارروائی پر تنقید کرنے کا وقت نہیں ہے۔

 

راجیو دھون نے ثالثی کی کارروائی پر سوال اٹھانے والی پٹیشن کو مسترد کرنے کی مانگ کی، لیکن نرموہی اکھاڑا نے گوپال سنگھ وشارد کی عرضی کی حمایت کی۔ نرموہی اکھاڑے نے کہا کہ ثالثی کی کارروائی درست سمت میں آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔ اس سے پہلے اکھاڑہ ثالثی کی کارروائی کے حق میں تھا۔

 

گزشتہ 10 مئی کو سپریم کورٹ نے اجودھیا معاملے پر ثالثی کے لئے ثالثی کمیٹی کو 15 اگست تک ثالثی پوری کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس سے پہلے ثالثی کمیٹی نے اپنی رپورٹ سونپی تھی جس کیلئے 15 اگست تک دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مثبت ثالثی ہونے کی بات کہی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *