سبریمالامندرمعاملہ:سپریم کورٹ کا جلد سماعت سے انکار

Share Article
sabrimala-temple
کیرل کے سبریمالامندر میں ہرعمرکی خواتین کوداخلے کی اجازت پرسپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف عرضی دائرکی گئی تھی ۔ لیکن سپریم کورٹ نے کیرل کے سبریمالا مندرہرعمرکی خواتین کوداخلے کی اجازت پرسپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائرنظرثانی عرضی پرفوراً سماعت کرنے سے انکارکردیاہے۔چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی نے کہاکہ یہ کیس کوباقاعدہ طریقے سے سنا جائے گا۔چیف جسٹس نے کہاکہ کتنی بھی جلدی وتو16اکتوبرسے پہلے یہ ممکن نہیں ہے۔عرضی دہندہ کی طرف سے کہاگیاکہ 16اکتوبر کومندرکھل رہاہے، اسلئے کم سے کم جمعہ کوفیصلے پرعبوری روک لگانے کیلئے سنوائی ہو۔اس پرچیف جسٹس نے کہاکہ لیٹردے دیں ، وہ دیکھیں گے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے ہر عمر کی خواتین کے لئے کیرل کے سبریملا مندر میں داخلے کی اجازت دی تھی۔ چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانولکر ، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس روہنگٹن ایف نریمن اور جسٹس اندو ملہوترا کی آئینی بنچ نے چار۔ایک کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ فزیولوجی کی بنیاد پر دس سے پچاس سال کی عمر کی خواتین کے سبریملا مندر میں داخلہ پر پابندی آئین میں دئے گئے ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے یہ فیصلہ انڈین ینگ لائرس ایسوسی ایشن کی عرضی پر سنایا۔جسٹس مشرا نے اپنی طرف سے اور جسٹس کھانولکر کی طرف سے فیصلہ سنایا جب کہ جسٹس نریمن اور جسٹس چندر چوڑ نے الگ سے لیکن اتفاق کا فیصلہ پڑھا۔ آئینی بنچ میں شامل واحد خاتون جسٹس اندو ملہوترا نے عدم اتفاق کا فیصلہ دیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *