محمد عمران دریا آبادی کو8 ہفتوں کے اندر پوسٹنگ دیئے جانے کا سپریم کورٹ کا حکم

Share Article
Imran
مہاراشٹرحکومت کو آج اس وقت ہزیمت اٹھانی پڑی جب سپریم کورٹ آف انڈیا کی تین رکنی بینچ نے مجسٹریٹ کی پوسٹ سے محروم کیئے گئے ایک مسلم شخص کو8 ہفتوں کے اندر مجسٹریٹ(جوڈیشیل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس) کی پوسٹ پر تعینات کرنے کے لیئے اقدامات کیئے جانے کا حکم جاری کیا ۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی تین رکنی بینچ کے جسٹس کورین جوزف، جسٹس نوین سنہا اور جسٹس سنجے کشن کول کے روبرو گذشتہ ہفتہ بحث کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ حذیفہ احمدی جنہیں جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) نے مقرر کیا تھا نے بتایا کہ عرض گذارمحمد عمران دریا آبادی کو مجسٹریٹ کی پوسٹنگ پرتعینات کرنا چاہئے کیونکہ اس کے خلاف قائم مقدمہ سے وہ ایک دہائی قبل ہی باعزت بری ہوگیا ہے اور وہ مقدمہ اس کے خلاف نہیں بلکہ اس کے کسی ساتھی کے خلاف قائم تھا جس میں اسے بھی شامل کرلیا گیا تھا لیکن بعد میں عدالت نے اسے باعزت بری کردیا۔
ایڈوکیٹ حذیفہ احمدی نے عدالت کو مزید بتایا کہ عرض گذار نے یہ بات ڈپارٹمنٹ سے چھپائی نہیں بلکہ اس کے تعلق سے اس نے ہمیشہ اور ہر جگہ لکھا ہیکہ اس پر مقدمہ قائم کیا گیا تھا لیکن وہ اس سے باعز ت بری ہوگیا ہے اس کے باوجود منترالیہ اس کی بحالی نہیں کررہا ہے جو سراسر نا انصافی ہے ۔حذیفہ احمدی نے عدالت کو مزید بتایا کہ عرض گذار سے کم نمبرات حاصل کیئے ہوئے نمائندوں کی مجسٹریٹ کی پوسٹ پر پوسٹنگ ہوچکی لہذا عدالت کو لاء اینڈو جوڈیشری محکمہ کو فوراً حکم دینا چاہئے کہ وہ عرض گذار کو مجسٹریٹ کی پوسٹ الاٹ کرے تاکہ وہ بھی بطور مجسٹریٹ (نچلی عدالت کے جج) اپنی خدمات انجام دے سکے۔حالانکہ ریاستی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سرکاری وکیل نے عرض گذار کی مجسٹریٹ کی پوسٹ پر بحالی کی سخت لفظوں میں مخالفت کی اور عدالت کو بتایا کہ اس کے خلاف سنگین الزامات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا لہذا مجسٹریٹ جیسے باوقار عہدے پر فائز ہونے کے لیئے کلین کریکٹر ضروری ہے ۔
فریقین کی دلائل کی سماعت کے بعد تین رکنی بینچ نے فیصلہ محفو ظ کرلیا تھا اورکل شب اسے سپریم کورٹ کی آفیشیل ویب سائٹ پر اپلوڈ کیا گیا ۔ فیصلہ کو جسٹس نوین سنہا نے لکھا اور انہوں نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ عرض گذار کو صرف اس لیئے اس کے حق سے محروم نہیں رکھا جاسکتاکہ ماضی میں اس کے خلاف الزام عائد کیئے گئے تھے جبکہ اس الزام سے وہ باعزت بری ہوگیا ہے اور اس نے کبھی اس بات کو چھپایا نہیں کہ اس پر مقدمہ قائم کیا گیا تھا ۔جسٹس سنہا نے اپنے فیصلہ میں مزید لکھا ہے کہ آج کے دور میں نوکری ملنا بہت مشکل ہوتا ہے، ایک ایک پوسٹ کے لیئے سیکڑوں افراد اپلائے کرتے ہیں لہذ اعرض گذار کا تعلیمی ریکارڈ اور اس کے نمبرات کے مد نظر اسے مجسٹریٹ کی نوکری ملنا چاہئے ۔ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ گورو اگروال نے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی جبکہ ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے سینئر وکیل حذیفہ احمدی کو پورے معاملے کی بریفنگ کی اور سپریم کورٹ میں مقدمہ کی سماعت کے دوران موجود رہے۔
واضح رہے کہ مہاراشٹر کے سانگلی علاقے سے تعلق رکھنے والے محمد عمران بشیر دریاآبادی کو مجسٹریٹ کی اہلیت کے تمام امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد بھی انہیں پوسٹنگ نہیں دی جارہی تھی کیونکہ ماضی میں ان کے خلاف ایک مجرمانہ معاملہ درج ہواتھا حالانکہ وہ اس میں باعزت بری ہوگئے تھے لیکن اس کے باوجود لاء اینڈ جوڈیشری محکمہ (منترالیہ) نے ان کے کردار کی سند (کریکٹر سرٹیفیکٹ) پر اعتراض کیا تھا اور انہیں چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس (جے ایم ایف سی)کے عہدے کا چارج لینے سے محروم کردیا تھا جس کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا لیکن ممبئی ہائی کورٹ نے بھی عرض گذار کو راحت دینے سے انکار کردیا تھا ۔
سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں عمران دریا آبادی کا مقدمہ لڑنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد دمدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ بالآخر عرض گذار کو عدالت عظمی سے انصاف حاصل ہوا نیز انہیں امید ہیکہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ریاستی حکومت جلد از جلد عرض گذار کی پوسٹنگ کردے گی۔
گلزار اعظمی نے معاملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ عمران دریاآبادی 2003سے بار کونسل آف مہاراشٹر اینڈ گوا کے ممبر ہیں سن2008ء میں ریاستی حکومت نے200؍ مجسٹریٹ کی پوسٹ کے علاوہ 17؍ دسمبر 2008 کو لوک مت اخبار میں اشتہار دیا تھا جس کے بعد عرض گذار نے مجسٹریٹ کی پوسٹ کے لیئے منعقد کیئے جانے والے امتحان میں شرکت کی تھی۔گلزار اعظمی نے مزید بتایا کہ 16؍ اگست2009ء کو عمران دریا آبادی کو مجسٹریٹ کی پوسٹ کے لیئے شارٹ لسٹ کیا گیا تھا اور بقیہ کاغذی کارروائی انجام دیئے جانے کا عمل محکمہ قانون اور عدلیہ نے شروع کیا تھا لیکن آخیر میں منترالیہ نے اس بناء پر مجسٹریٹ کی پوسٹ پر ان کی تقرری نہیں کی کیونکہ ماضی میں ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا تھا ، حکومت کے اس فیصلہ سے دل برداشتہ عمران دریا آبادی نے ہائیکورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا اور تقریباً پانچ سالوں تک چلنے والی سماعت کے بعد ہائی کورٹ سے بھی اسے کوئی راحت حاصل نہیں ہوئی جس کے بعد سپریم کورٹ آف انڈیا سے رجوع کیا گیا ۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ارباب اقتدار مسلسل مسلمانوں کو پریشان کررہے ہیں لیکن ہندوستانی عدلیہ کی بالا دستی کی وجہ سے آج ایک مسلم شخص کو اس کا حق حاصل ہوا جس سے ہندوستانی عدلیہ پر مسلمانوں کا بھروسہ مزید پختہ ہوا ہے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ انہوں نے صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سیدر ارشدمدنی کو جب اس فیصلہ کی اطلاع دی تو انہوں نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے وکلاء کو مبارکبادی اور جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کی کوششوں کی سراہنا کی۔
Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *