توہین عدالت کی درخواست پر راہل گاندھی کو سپریم کورٹ کا نوٹس

Share Article

 

سپریم کورٹ نے رافیل پردئیے اپنے فیصلے پر کانگریس صدر راہل گاندھی کی جانب سے ’چوکیدار چور ہے‘ کہنے کے خلاف دائر توہین عدالت کی عرضی پر دائر پر سماعت کرتے ہوئے راہل گاندھی کو نوٹس جاری کیا ہے۔ کورٹ نے راہل گاندھی کو 22 اپریل تک جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

 

عرضی بی جے پی رہنما میناکشی لیکھی نے دائر کی ہے۔ میناکشی لیکھی کی جانب سے کہا گیا کہ یہعدالت کی توہین ہے۔ راہل گاندھی نے کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی ہے۔
گزشتہ 10 اپریل کو عدالت نے رافیل معاملے پر لیک دستاویزات کو ثبوت کے طور پر پیش کرنے کے خلاف دائر مرکزی حکومت کی درخواست کو مسترد کر دی تھی۔ اب سپریم کورٹ اس معاملے پر تفصیل سے سماعت کرے گا۔ معاملے پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا تھا کہ درخواست گزاروں نے جو دستاویزات لگائے ہیں ، وہ خاصہیں اور انہیں بھارتی ثبوت ایکٹ کی دفعہ 123 کے تحت ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ درخواست گزار پرشانت بھوشن نے کہا تھا کہ حکومت کی فکر قومی سلامتی نہیں ہے بلکہ سرکاری حکام کو بچانے کی ہے جنہوں نے رافیل ڈیل میں مداخلت کی۔

 

 

سماعت کے دوران درخواست گزار پرشانت بھوشن نے کہا تھا کہ اٹارنی جنرل کے اعتراضات سیکورٹی مفادات کے لئے نہیں ہیں۔ ان میں سے تمام دستاویزات پہلے ہی پبلک ڈومین میں ہیں۔ ایسے میں کورٹ اس پر نوٹس کس طرح نہیں لے سکتی ہے۔ پرشانت بھوشن نے کہا تھا کہ بھارتی ثبوت ایکٹ کی دفعہ۔ 123 کے مطابق استحقاق کا دعویٰ ان دستاویزات کے لئے نہیں کیا جا سکتا ہے جو پبلک ڈومین میں ہوں۔ یہ تمام دستاویزات پبلش ہو چکے ہیں۔ لہٰذا استحقاق کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *