سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل تحسین ہے

Share Article

وسیم راشد 
دلی کی سیاسی سرگرمیاںآج کل عروج پر ہیں۔ 2014کے الیکشن کے لئے سبھی سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے طریقہ سے تیاری میں لگی ہوئی ہیں۔ ایسے میں سپریم کورٹ نے 2تاریخ ساز فیصلے سنا کر ایک بار پھر سے جمہوری ڈھانچہ کو استحکام بخشا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر ممبران پارلیمنٹ اور اسمبلی ممبران کو کسی مجرمانہ معاملہ میں دو سال یااس سے زیادہ کی سزا ہوگی تو اس کی رکنیت ختم کر دی جائے گی۔اس کے علاوہ جس وقت کسی ممبر پارلیمنٹ ،ممبر اسمبلی کو قصوروار ٹھہرایا جائے گاتو وہ فوری طور پر خودبخود پارلیمنٹ یا اسمبلی سیٹ سے محروم ہو جائے گا۔ اسی کے ساتھ ایک دوسرا تاریخ ساز فیصلہ بھی سامنے آیا کہ جیل سے کسی بھی شخص کو الیکشن لڑنے نہیں دیا جائے گا۔ اس کے تحت عدلیہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ جب قیدی کو حق رائے دہی کا اختیار نہیں رہ جاتا تو وہ الیکشن کیسے لڑ سکتا ہے۔ ایک تیسرا اور بہت اہم فیصلہ الہ آباد ہائی کورٹ کا ہے جس کے تحت اتر پردیش میں ذات پات پر مبنی سیاسی ریلیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ ایسے فیصلے ہیں جس کی ضرورت برسوں سے محسوس کی جا رہی تھی۔ عام آدمی بے چارہ مہنگائی کے بوجھ سے اس قدر دبا ہوا ہے کہ اس کو سیاست کے دائوں پیچ کھیلنے کی فرصت ہی نہیں۔ وہ یہ تک نہیں جانتا کہ کس سیاسی پارٹی کو ووٹ دیا جائے ، کس کو چنا جائے ۔ ایسے میں مسلمانوں کی حالت تو اور بھی خراب ہے ، وہ ووٹ بینک کی سیاست سمجھ ہی نہیں پاتا اور ہمارے قائد جہاں چاہتے ہیں ان معصوموں کی بنیاد پر اپنی چال چلتے ہیں۔ لیکن پارلیمنٹ کے اس فیصلے سے کم سے کم وہ داغی ممبران جو قانون کو کھیل سمجھ کر عوامی نمائندے بن کر اسمبلی اور پارلیمنٹ میں بے داغ سفید کرتا پائجامہ پہن کر داد عیش دیتے ہیں ان سے نجات مل جائے گی۔ اس وقت لوک سبھا کے 543ممبران میں30%یعنی تقریباً162کے قریب وہ ممبران پارلیمنٹ ہیں جن پر کرمنل کیسز چل رہے ہیں اور 14%وہ ایم پی ہیں جن پر بہت ہی سخت کرمنل کیس ہیں۔ جہاں تک ریاستی اسمبلیوں کا تعلق ہے ،ان میں بھی 4.032ایم ایل اے میں سے 31%یعنی 258کے قریب ایسے ممبران ہیں جن پر کرمنل کیس چل رہے ہیں اور 14%وہ ہیں جن کے خلاف بہت ہی سخت کیس ہیں۔ ایسے میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں یقینا کئی بارسوخ لیڈران بھی آ جائیں گے۔ جن میں آر جے ڈی کے لالو یادو، تمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ جے للتا بھی شامل ہیں۔ انہیں بھی عدالت سے سزا مل چکی ہے۔ ان میں پپو یادو کا نام بھی شامل ہونا چاہئے جو سی پی ایم کے ایم ایل اے اجیت سرکار کے قتل میں ملوث ہیں۔ اس میں شہاب الدین کا نام بھی ہونا چاہئے جو ایک سیاسی، سماجی کارکن کے قتل میں ملوث ہیں، اس میں نوجوت سنگھ سدھو کا نام بھی شامل ہونا چاہئے جن کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے ذریعہ مجرم مانا گیا ہے۔ جو 1988میں پٹیالہ کے ایک شہری کی موت کا سبب تھے۔ ظاہر ہے یہ تو وہ نام ہیں جو سامنے آئے ہیں اور جو جانے مانے لوگ ہیں لیکن ان کے علاوہ بھی فہرست بہت طویل ہے۔ظاہر ہے اس فیصلے سے ہر سیاسی پارٹی کو اختلاف ہوگا کیونکہ کوئی بھی پارٹی اس وقت ایسی نہیں ہے جس میں کچھ ممبران داغی نہ ہوں۔ یو پی الیکشن کے دوران ہم نے خود ایسے ممبران کی فہرست تیار کی تھی ، جن پر بے شمار کرمنل کیس چل رہے ہیں۔ اس میں کافی حد تک وہ امیدوار بھی شامل تھے، جن کو کئی کئی بار عدالت سے سزا مل چکی ہے اور جو جیل میں سزا کاٹ چکے ہیں۔ سپریم کورٹ نے بے شک قابل تحسین فیصلہ سنایا ہے مگر ابھی اس کو عملی جامہ پہنانا آسان نہیں ہوگا ۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ سیاسی رہنمائوں کے گلے سے اترنا یقینا آسان نہیں ہوگا۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ہمارے ملک کے زیادہ ترسیاست داں داغدار شبیہ والے ہیں۔ آج ملک کی یہ حالت ہے کہ بدعنوانی زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ قانون پہلے بن گیا ہوتا تو جو اربوں کھربوں کا کالا دھن غیر ممالک میں جمع ہے، وہ آج ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے استعمال ہو رہا ہوتا۔ کتنے شرم اور افسوس کی بات ہے کہ الیکشن کمیشن کو الیکشن سے پہلے جو درخواست دی جائے اس میں ممبر خود یہ اعتراف کرے کہ وہ ڈاکہ زنی، قتل، عصمت دری اور دنگا فساد جیسے کیسوںمیں ملوث ہے۔ اس کے باوجود بھی وہ ٹکٹ حاصل کر کے عوام کا نمائندہ بن کر پارلیمنٹ یا اسمبلی میں پہنچ جائے۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے بارے میں سبھی جانتے ہیں کہ اس کے زیادہ تر ممبران فوجداری کے کیسوں میں ملوث ہیں۔ کانگریس میں بھی ایسے ممبران ہیں اور بی جے پی میں بھی۔ اصولاً تو سبھی پارٹیوں کو سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کا خیر مقدم کرنا چاہئے لیکن ابھی تک پارٹیوں کے ردعمل سامنے نہیں آئے ہیں۔ صرف اطلاعات و نشریات کے وزیر منیش تیواری کا بیان آیا ہے، جس میں انھوں نے اس فیصلے کے تکنیکی پہلوئوں پر غور کرنے کے بعد ہی کوئی بیان دینے کی بات کہی ہے۔

اس ضمن میں جیل سے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ بھی یقینا قابل تعریف ہے۔ جب سے ہم نے شعور کی منزلوں میں قدم رکھا اور سیاست کو سمجھنا شروع کیا ، ہم کو کئی ایسے نام نظر آئے جو الیکشن جیل سے لڑک کر کامیاب ہو ئے ہیں۔ ایسے میں عدلیہ کا یہ کہنا کہ جب قیدی کو حق رائے دہی کا اختیار نہیں تو وہ الیکشن کیسے لڑ سکتا ہے ، یقینا قابل غور ہے۔ ووٹر لسٹ میں نام درج ہونے کے بعد بھی اگر کوئی جیل میں بند ہے تو اسے یقینا ووٹنگ کا حق نہیں ملنا چاہئے۔تیسرا قابل ستائش فیصلہ الہ آباد ہائی کورٹ کا ہے جس میں ذات پات کی سیاست پر مبنی ریلیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ایسے میں جبکہ داغی سیاست دانوں اور مجرموں پر سپریم کورٹ نے شکنجہ کسا ہے ۔ ایسے میں عدالت کا یہ فیصلہ یقینااتر پردیش میں سیاسی جماعتوں کے لئے بہت بڑا دھچکا ہے۔اتر پردیش کی سیاست سے ہم سبھی واقف ہیں۔ بہوجن سماج پارٹی ہو ، سماجوادی پارٹی ہو یا کانگریس اور بی جے پی سبھی نے اتر پردیش کو جرائم کا اڈہ بنا رکھا ہے۔جب سے سماجوادی پارٹی اقتدار میں آئی ہے۔ فرقہ وارانہ فساد اور جرائم میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ نفرت کی سیاست اترپردیش کا ایک جز ہے۔ یہاں ذات برداری پر مبنی ریلیوں میں لگاتار نفرت کی سیاست کھیلی جا رہی ہے۔

اس ضمن میں جیل سے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ بھی یقینا قابل تعریف ہے۔ جب سے ہم نے شعور کی منزلوں میں قدم رکھا اور سیاست کو سمجھنا شروع کیا ، ہم کو کئی ایسے نام نظر آئے جو الیکشن جیل سے لڑک کر کامیاب ہو ئے ہیں۔ ایسے میں عدلیہ کا یہ کہنا کہ جب قیدی کو حق رائے دہی کا اختیار نہیں تو وہ الیکشن کیسے لڑ سکتا ہے ، یقینا قابل غور ہے۔ ووٹر لسٹ میں نام درج ہونے کے بعد بھی اگر کوئی جیل میں بند ہے تو اسے یقینا ووٹنگ کا حق نہیں ملنا چاہئے۔تیسرا قابل ستائش فیصلہ الہ آباد ہائی کورٹ کا ہے جس میں ذات پات کی سیاست پر مبنی ریلیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ایسے میں جبکہ داغی سیاست دانوں اور مجرموں پر سپریم کورٹ نے شکنجہ کسا ہے ۔ ایسے میں عدالت کا یہ فیصلہ یقینااتر پردیش میں سیاسی جماعتوں کے لئے بہت بڑا دھچکا ہے۔اتر پردیش کی سیاست سے ہم سبھی واقف ہیں۔ بہوجن سماج پارٹی ہو ، سماجوادی پارٹی ہو یا کانگریس اور بی جے پی سبھی نے اتر پردیش کو جرائم کا اڈہ بنا رکھا ہے۔جب سے سماجوادی پارٹی اقتدار میں آئی ہے۔ فرقہ وارانہ فساد اور جرائم میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ نفرت کی سیاست اترپردیش کا ایک جز ہے۔ یہاں ذات برداری پر مبنی ریلیوں میں لگاتار نفرت کی سیاست کھیلی جا رہی ہے۔ برہمن، یادو، ٹھاکر، کائستھ کے نام پر متواتر سیاسی پارٹیاں ریلی کر رہی ہیں۔ پہلے بہوجن سماج پارٹی نے ریاست میں چار مقامات پر برہمن سمیلن منعقد کئے ۔ مایاوتی نے اسی طرح کی ایک بڑی ریلی کو خطاب کیا۔ یہ سب آئین کے خلاف ہے۔ اب جبکہ 2014کے انتخابات کی تیاریاں شباب پر ہیں۔ ایسے میں سبھی سیاسی پارٹیاں ذات برادری کا کارڈ کھیل رہی ہیں۔ اس وقت سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بر وقت ہے ۔ ہمیں ان تینوں فیصلوں پر بے حد خوشی ہے۔ ان کا احترام کرنا چاہئے۔ مرکزی حکومت کو بھی مجرمانہ کردار رکھنے والے داغی ممبران سے ملک کی سیاست کو پاک کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں اور سپریم کورٹ کا ساتھ دینا چاہئے۔ یقینا اس فیصلہ سے ملک کا جمہوری ڈھانچہ بھی مضبوگا ہوگا۔ عدلیہ پر عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا اور ملک کے سیاسی ڈھانچہ کو بھی استحکام ملے گا۔ g
دیر آید درست آید

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *